← Tameer-e-ShakhsiyatTameer-e-Shakhsiyat
کامیابی کے دس اصول
Urdu · 2 min read
امریکا میں چھپی ہوئی ایک کتاب نظر سے گزری ۔ یہ کتاب ایک کامیاب امریکی تاجر کی لکھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ کتاب اپنے20 سالہ تجارتی تجربات کی روشنی میں تیار کی ہے ۔ اس خوبصورت کتاب میں ہر صفحہ پر دو تجارتی اصول جلی حرفوں میں درج ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ٹاپ پر فارمرس نے ہمیشہ مثبت عادات (positive habits) کے ذریعہ ترقی کی ہے
The Book of Excellence by Byrd Baggett.
236 habits of effective salespeople
ان مثبت عادتوں کو مصنف نے236 چھوٹے چھوٹے جملوں میں مرتب کیا ہے ۔ کتاب کو پڑھ کر میں نے دس جملے منتخب کیے ہیں جو کہ حسب ذیل ہیں
A bad attitude cancels all other positive skills.
ایک برا رویہ تمام دوسری خوبیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔
Be as critical of yourself as you are of others.
اپنے بارے میں بھی اتنا ہی تنقیدی بنو جتناتم دوسروں کے لیے تنقیدی ہو۔
You are not learning anything when you are talking.
جب تم بولتے ہو تو تم کچھ سیکھ نہیں رہے ہو ۔
Excellence is not optional.
امتیاز کوئی اختیاری چیز نہیں۔
Take an active, not passive, role in helping your community.
اپنی کمیونٹی کی مدد کرنے میں فعال کردار ادا کرو۔
Customers love humility.
گاہک ہمیشہ تواضع کو پسند کرتے ہیں۔
Patience is a virtue. Don't give up.
برداشت ایک نیکی ہے، اس کو کبھی نہ چھوڑو ۔
There is no replacement for effort.
کوشش کاکوئی بدل نہیں۔
Success does not come easily. Are you willing to pay the price?
کامیابی آسانی سے نہیں آتی، کیا تم اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔
Stop, listen, and think before you respond.
ٹھہرو،سنو، اور جواب دینے سے پہلے غور کرو۔
یہ اقوال اس فطری حکمت کو بیان کرتے ہیں، جن کو اختیار کر کے کوئی شخص دنیامیں اپنی کامیابی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ یہ اقوال کا میابی کی کنجی ہیں۔
back cover text
موجودہ دنیا میں جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ گویا نرسری کا ایک پودا ہے۔ایک محدود مدت تک وہ اِس دنیا میں رہتا ہے۔اِس دوران اُس کے ساتھ مختلف قسم کے حالات گزرتےہیں۔ یہ گویا اُس کے لیے تربیتی کورس ہیں جو اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر مطلوب شخصیت تعمير كرے۔ يعني صبر، شکر، اعراض اور مثبت سوچ جيسي صفات پیدا کرے۔ موت اِس تربیتی کورس کے خاتمے کا اعلان ہے۔ جو انسان اِس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو ايك ابدی دنیا (جنت) میں بسا دیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندرمطلوب شخصيت كي تعمیر نہ کرسکیں، اُن کے لیے ابدی محرومی مقدر ہے۔