← Tameer-e-ShakhsiyatTameer-e-Shakhsiyat
شخصیت سازی کا عمل
Urdu · 34 min read
روسو(Jean Jacques Rousseau)فرانس کا مشہور جمہوری مفکر ہے۔ وہ 1712ء میں پیدا ہوا اور1778ء میںاس کی وفات ہوئی۔ وہ شخصی بادشاہت کے مقابلے میں عوامی حکمرانی کا علم بردار تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھتا ہوں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man was born free, but I see him in Chain.
مگر انسان کا ایک اور مسئلہ ہے جو شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، اور وہ کنڈیشننگ ہے۔ ہر عورت اور مرد کسی ماحول میں رہتے ہیں۔ ماحول کی نسبت سے ہر ایک کے ذہن کی کنڈیشننگ ہوجاتی ہے جو اس کو صحیح طرزِ فکر سے محروم کردیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔ اِس مسئلے کو دیکھتے ہوئے روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طورپر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ— انسان فطرت پر پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ کنڈیشنڈ دکھائی دیتا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned.
ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیداہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین وہی فطری سوچ ہوتی ہے جو بطور واقعہ ہونا چاہیے۔ مگر انسان ایک سماجی حیوان (social animal) ہے۔ اس کو اپنی ساری زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے سماج کے اندر گزارنا ہوتا ہے۔اس بنا پر اس کا ذہن ہر آن خارجی تأثر قبول کرتا رہتا ہے۔ جس کو کنڈیشننگ کہاجاتا ہے۔ یہ تاثر پذیری بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان مکمل طورپر کنڈیشننگ کا کیس بن جاتا ہے۔
سن شعور کو پہنچنے کے بعد ہر عورت اور مرد کی یہ لازمی ذمّے داری ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ کو سمجھے اور اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کرکے دوبارہ اپنے آپ کو حالتِ فطری کی طرف واپس لے جائے، وہ اپنے آپ کو انسانِ مصنوعی کے بجائے انسانِ فطری بنائے۔
موجودہ زمانے میں علمِ نفسیات میںایک نظریہ بہت عام ہوگیا ہے جس کو بہیویرازم (behaviourism) کہاجاتا ہے۔ نفسیات کے اس مدرسۂ فکر میں یہ مان لیا گیا ہے کہ یہ کنڈیشننگ ہی انسان کی مستقل حالت ہے، انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے کچھ نہیں، یہ دراصل ماحول کی کنڈیشننگ ہے جو انسان کی شخصیت سازی کرتی ہے۔ اس نظریے کے حاملین کہتے ہیں کہ انسان نیچر (nature) سے نہیں بنتا۔ بلکہ وہ نرچر(nurture) سے بنتا ہے۔ یعنی ماحول کی پرورش سے۔ اس نفسیاتی مدرسۂ فکر کے لوگ کہتے ہیں کہ — انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہیں کے حالات اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں
He was nurtured when he was born. (Wotton)
انسانی شخصیت کی زیادہ گہری تحقیق اس نظریے کو ردّ کررہی ہے۔زیادہ گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت ہوتا ہے۔ جنیٹک کوڈ کی حالیہ دریافت مذکورہ نظریے کی مکمل تردید ہے۔ اس دریافت کے ذریعے یہ ثابت ہوا ہے کہ جنیٹک کوڈ کے اندر پیدائشی طورپر ہر انسان کی مکمل شخصیت موجود ہوتی ہے۔ بعد کے دور میں انسان کی جو شخصیت بنتی ہے، وہ اسی جنیٹک کوڈ کی صرف اَن فولڈنگ (unfolding)ہے۔
اِس نقطۂ نظر کے مطابق، زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ماحول کی کنڈیشننگ اصل انسان کے اوپر ایک مصنوعی پردے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا انسان کی شخصیت پیاز کی مانند ہے۔ پیاز کے اندر مٹر کی مانند ایک مغز ہوتا ہے۔ اس داخلی مغز کے اوپر خارجی پردے کے مانند بہت سے چھلکے ہوتے ہیں۔ اگر ان چھلکوں کو ہٹایا جائے تو پیاز کا اندرونی مغز کھل کر سامنے آجائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی شخصیت کے اوپر ماحول کے اثر سے مصنوعی پردے پڑ جاتے ہیں۔ ان پردوں کو ہٹا دیا جائے تو انسان کی اصل شخصیت کھل کر سامنے آجائے گی۔
انسانی شخصیت کے انھیں خارجی پردوں کو ہٹانے کانام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ جو آدمی سچائی کا طالب ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے مصنوعی پَردوں کو ختم کرے تاکہ اس کی اصل شخصیت سامنے آسکے۔
مذہب میں یہ تسلیم کیاگیا ہے کہ انسان خدا کی خاص تخلیق ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی خدائی شخصیت (divine personality) پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے داخلی وجود کے اعتبار سے ایک صحیح اور کامل شخصیت ہوتا ہے۔ ابدی کامیابی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی سب سے پہلے اپنی اس فطری شخصیت کی حفاظت کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس حالتِ فطری پر قائم کرے جس پر اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اسی خود تعمیری جدوجہد کانام ڈی کنڈیشننگ ہے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان جب ایک ماحول میں پرورش پاتا ہے توہر دن اس کے ساتھ مختلف منفی تجربے پیش آتے ہیں۔ یہ تجربے اس کی اصل شخصیت پر غیر مطلوب پردے ڈالتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص اس کے مقابلے میں زیادہ ترقی کر گیا۔ یہ تجربہ اس کے اندر حسد کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی شخصیت کے اندر حسد کا ایک عنصر شامل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اس کے ساتھ ناپسندیدہ سلوک کرتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی شخصیت میں نفرت کا ایک عنصر شامل کردیتا ہے۔ ایک مشاہدہ اس کے سامنے آتا ہے اس کو دیکھ کر اس کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو لالچ کہاجاتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی شخصیت میں لالچ کا ایک عنصر داخل کردیتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اس کے ساتھ ظلم کا معاملہ کرتا ہے۔ یہ تجربہ اس کے اندرتشدد کا جذبہ جگاتا ہے، اوراس کی شخصیت میں تشدد کا عنصر شامل ہوجاتا ہے۔
اس طرح ماحول کے اندر آدمی کو مختلف قسم کے تجربات سے سابقہ پیش آتا رہتا ہے، اور ہر تجربہ ایک منفی عنصر بن کر اس کی شخصیت کی تشکیل کرتا رہتا ہے۔ یہاںتک کہ انسان کی اصل شخصیت پردوں میں ڈھک جاتی ہے۔ انسانِ فطری بدل کر انسانِ مصنوعی بن جاتا ہے۔
ڈی کنڈیشننگ اسی مصنوعی صورتِ حال کی تصحیح ہے۔ یہ ڈی کنڈیشننگ ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر انسان کی شخصیت ایک ناقص شخصیت بنی رہے گی، وہ کبھی کامل شخصیت کا درجہ نہ پاسکے گی۔اس ڈی کنڈیشننگ کا بنیادی ذریعہ احتساب خویش (introspection) ہے۔ ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اپنا نگراں بن جائے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے اندر سے ہر منفی آئٹم کو نکالے اور اس کو فکری تصحیح کے عمل سے گزار کر مثبت آئٹم بنائے۔ اور پھر اسی مثبت آئٹم کو اپنی شخصیت میں واپس داخل کرے۔ جس طرح مویشی جگالی (rumination) کرکے اپنے اندر سے غیر ہضم شدہ غذا کو نکالتے ہیںاور پھر اس کو قابل ہضم بنا کر اپنے پیٹ میں دوبارہ داخل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کریں۔
نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے دوبڑے حصے ہیں— شعور اور لاشعور۔ انسان کے ساتھ جب کوئی ناخوشگوار تجربہ گزرتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کے ذہن کے شعوری خانے میں ایک منفی آئٹم کے طور پر داخل ہوتا ہے۔ یہ منفی آئٹم چند دن تک زندہ شعور کے خانے میں رہتا ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ اس کے لاشعور کے خانے میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی پہلے ہی دن یا چند دن کے اندر ہر منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے۔ تا کہ یہ آئٹم جب زندہ شعور سے گذر کر اس کے لاشعور میںیا حافظے کے اسٹور میں پہنچے تو وہ ایک مثبت آئٹم کے طورپر وہاں محفوظ ہو۔
یہی وہ عمل ہے جو انسانی شخصیت کی تعمیر میںاصل فیصلہ کن عامل(factor) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی عمل کے دوران یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی انسان منفی شخصیت کا حامل ہوگا یا مثبت شخصیت کا حامل۔جو آدمی اپنے روز مرّہ کے تجربات پر تصحیح کا عمل کرکے اس کو مثبت آئٹم میں ڈھالتا رہے،اس کے لاشعور یا حافظے کے اسٹور میں تمام آئٹم مثبت آئٹم کے طورپر جمع ہوں گے۔ ایسے انسان کی شخصیت ایک مثبت شخصیت ہوگی۔ اس کے برعکس، جو انسان تجربے کے پہلے ہی مرحلے میںتصحیح کا یہ عمل جاری نہ کرسکے اس کو پیش آنے والے تمام منفی آئٹم اس کے لاشعور کے خانے میں صرف منفی آئٹم کے طورپر جگہ پائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی پوری شخصیت ایک منفی شخصیت بن جائے گی۔
انسان جو بھی عمل کرتا ہے، خواہ وہ اس کی سوچ ہو یا وہ اس کا قول ہو یا وہ اس کا عمل، سب کچھ اس کے لاشعور کے تحت ہوتا ہے۔ کوئی انسان اپنے شعور کے کم اور اپنے لاشعور کے زیادہ تابع ہوتا ہے۔ جس انسان کا لاشعور منفی آئٹم کا ذخیرہ بن جائے، اس کے تمام اقوال و اعمال منفی نوعیت کے ہوں گے۔ اس کے برعکس، جس انسان کا لاشعور خود تعمیری کے نتیجے میں مثبت آئٹم کا ذخیرہ بنا ہوا ہو، اس کے تمام اقوال و اعمال صحت مند اور مثبت انداز کے حامل ہوں گے۔
حق کی تلاش یا حق کی یافت دونوں ہی مثبت شخصیت کا فعل ہیں۔ یہ دراصل مثبت شخصیت ہے جس کے اندر تلاشِ حق کا اعلیٰ جذبہ جاگتا ہے۔ اور یہ مثبت شخصیت ہی ہے جو اپنی سلامتِ فکر کی بنا پر آخر کار حق کی یافت کے مرحلے تک پہنچتی ہے۔
مثبت شخصیت، منفی شخصیت
اسلامی فقہ کا یہ مسئلہ ہے کہ اگر ایک ٹب پاکیزہ پانی ہو، اُس میں گندگی کا ایک قطرہ ڈال دیا جائے تو ٹب کا پورا پانی گندا ہو جائے گا۔ اِس کے برعکس، اگر ایک ٹب گندا پانی ہو اور اس میں ایک قطرہ پاک پانی ڈال دیا جائے تو اُس سے وہ پانی پاک نہیں ہوجائے گا، بلکہ وہ بدستور گندا رہے گا۔ یہ ایک خارجی نوعیت کی مادی مثال ہے۔ یہی معاملہ انسان کی داخلی شخصیت کا ہے۔
ایک شخص کے ذہن میں اگر 99 مثبت آئٹم ہوں اور صرف ایک منفی آئٹم اس کے اندر داخل ہوجائے تو یہی منفی آئٹم غالب آجائے گااور آدمی کی پوری شخصیت منفی شخصیت بن جائے گی۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ مثبت سوچ کسی درجے میں بھی منفی سوچ کو قبول نہیں کرتی ۔ آدمی کی شخصیت یا تو صد فی صد مثبت شخصیت ہوگی، یا وہ سرے سے مثبت شخصیت ہی نہ ہوگی۔
یہ ایک اہم نفسیاتی اصول (psychological principle)ہے جو آدمی اپنے اندر مثبت شخصیت (positive personality) کی تعمیر کرنا چاہتا ہے، اُس کو لازمی طورپر یہ کرنا ہے کہ وہ سختی کے ساتھ اپنا محاسب بن جائے۔ وہ ہر وقت اِس بات کی نگرانی کرتا رہے کہ اس کے ذہن میں ادنی درجے میں بھی کوئی منفی سوچ داخل نہ ہو۔ شکایت یا نفرت کا کوئی ایک آئٹم بھی اگر اس کے اندر موجود ہے تو وہ ڈھونڈ کر اس کو باہر نکال دے۔ اِس معاملے میں وہ خود اپنا نگراں بن جائے۔
تعمیر شخصیت کا یہ ایک مستقل عمل ہے جو ہر آدمی کو ہر صبح وشام انجام دینا ہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس معاملے میں غفلت کی تلافی نہیں بن سکتا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ مثبت شخصیت ہی ربانی شخصیت ہے اور ربانی شخصیت ہی وہ شخصیت ہے جس کو آخرت کے دورِ حیات میں جنت میں داخلہ ملے گا۔ منفی شخصیت رکھنے والے لوگ بلاشبہ جنت میں داخلے کے لیے غیر مستحق قرار پائیں گے۔
سوال و جواب
سوال
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملا قات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔مگر ایک چیز سے میں ابھی تک پورا اتفاق نہ کر سکا۔
وہ یہ کہ الرسالہ میں مثبت انداز میں کام کرنے کو کہا جاتا ہے، مگر خود الرسالہ میں تنقیدی اُسلوب پایا جاتا ہے۔ حالاں کہ تنقید کا اُسلوب منفی اُسلوب ہے۔ مزید یہ کہ الرسالہ کی تنقید یک طرفہ تنقید ہوتی ہے۔ اِس میں زیر تنقید شخص کے مثبت پہلو کو عام طور پر بیان نہیں کیا جاتا۔(ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی)
جواب
ماہ نامہ الرسالہ میں کبھی یہ نہیں لکھا گیا کہ تنقیدی اُسلوب درست نہیں۔ الرسالہ میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ صرف منفی اُسلوب کے بارے میں ہے، نہ کہ تنقیدی اُسلوب کے بارے میں۔ منفی اُسلوب میں دو قسم کی چیزیں شامل ہیں، شکایتی اُسلوب اور عیب زنی کا اُسلوب۔یہ دونوں چیزیں بلا شبہ حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہیں۔
جہاں تک تنقیدی اُسلوب کی بات ہے، وہ سرے سے قابلِ اعتراض ہی نہیں۔ تنقید کے بغیر کبھی ذہنی ترقی نہیں ہو سکتی۔ تاہم تنقید سے مراد تنقیص نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد علمی تجزیہ ہے۔ اور علمی تجزیہ ہمیشہ نہایت مفید ہوتا ہے۔الرسالہ میں جو تنقید ہوتی ہے، وہ ہمیشہ علمی تجزیہ کے معنی میں ہوتی ہے، نہ کہ شکایتی اُسلوب اور عیب زنی کے اُسلوب کے معنی میں۔
اصل یہ ہے کہ لوگوں نے خود ساختہ طور پر بعض شخصیتوں کو اکابر کا درجہ دے رکھا ہے۔ اِس لیے جب اُن کے مفروضہ اکابر پر تنقید کی جائےتو اِس سے اُنھیں تکلیف پہنچتی ہے۔ مگر ملت کے افراد کو اصاغر اور اکابر میں تقسیم کرنا بجائے خود ایک بدعت ہے، اور بدعت کو حدیث میں ضلالت کہا گیا ہے(مسند احمد، حدیث نمبر17144)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اُسلوبِ کلام کے دو طریقے ہیں۔ ایک اصلاحی اُسلوب، اور دوسرا قانونی اُسلوب۔ دونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں۔ اِس لیے دونوں کا انداز یکساں نہیں ہو سکتا۔
اصلاحی اُسلوب کا مقصد کسی شخص یا اشخاص کی اصلاح ہوتا ہے۔ اِس لیے حکمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ سارا زور کمی والے پہلو پر دیا جائے، تاکہ آدمی کا ذہن اُس کو پکڑ سکے۔ اصلاحی اُسلوب میں اگر ’’عیب مے جملہ بہ گفتی، ہنرش نیز بگو‘‘(تم نے تمام عیب بیان کردیے، اب اس کی خوبی بھی بیان کر دو)کا طریقہ اختیار کیا جائے، تو کلام بے اثر ہو کر رہ جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثلاً حضرت عائشہ سےایک بار بتایا گیا کہ ابو ہریرہ فلاں حدیث بیان کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا كَذَبَ أَبُو هُرَيْرَةَ(ابو ہریرہ نے جھوٹ کہا)۔ حضرت عائشہ نے یہ انداز اختیار نہیں کیا کہ — پہلے وہ حضرت ابو ہریرہ کے تمام کارنامے بیان کریںاور اس کے بعد یہ کہیں کہ صرف ایک حدیث کے بیان میں ابو ہریرہ سے غلطی ہو گئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قسم کا’’متوازن‘‘طریقہ رسول نے یا اصحابِ رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس قسم کا طریقہ متوازن طریقہ نہیں ہے، بلکہ وہ غیر مفید طریقہ ہے۔
واضح رہے کہ قانونی اُسلوب میںمختلف پہلوؤں کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ لیکن اصلاحی اُسلوب یہ ہے کہ دوسرے تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر صرف اُس پہلو کو بیان کیا جائےجو موقع کی نسبت سے مطلوب ہے۔ یہی اصلاح یا دعوت کا صحیح اُسلوب ہے، اور یہی وہ اُسلوب ہے جس سے حقیقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
سوال
میں دعوتی کام کرتا ہوں۔ مگر دعوتی کام کے دوران میں نے پایا ہے کہ کچھ لوگ لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں۔ میں اُن کو بہت زیادہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر وہ مطمئن نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں مجھ کو کیا کرنا چاہیے؟(ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد)
جواب
اصل یہ ہے کہ جب آپ ایک شخص سے براہ راست گفتگو کریں تو اس میں آپ اور دوسرا شخص دونوں آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ اِس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران ایگو پرابلم (ego problem)پیدا ہو جاتا ہے۔
شعوری یا غیر شعوری طور پریہ احساس جاگ اُٹھتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں۔اگر میں نے دوسرے کی بات مانی تو میں اُس کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔اِس لیے دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب تک آپ دیکھیں کہ گفتگو سنجیدہ انداز میں ہو رہی ہے، تو آپ اپنی گفتگو جاری رکھیں، ورنہ آپ اُس کو مطالعے کے لیےکوئی کتاب پیش کر دیں۔ آدمی جب کتاب پڑھتا ہے، تو ایک طرف وہ خود ہوتا ہےاور دوسری طرف صرف ایک کتاب، نہ کہ اُس کےجیسا کوئی انسان۔
اِس لیے کتاب کے مطالعے میں ایگو پرابلم نہیں ہوتا۔آدمی کھلے ذہن کے تحت پڑھتا ہے اور کھلے ذہن کے تحت اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس طریقے کا نام حکمتِ دعوت ہے، اور حکمت کے بغیر دعوت کا کام مؤ ثر طور پر نہیں ہو سکتا۔
سوال
میں آپ کے قول و فکر سے بہت متاثر رہا ہوں ۔ یہ اس بنا پر کہ میں نے آپ کی تحریر کی ہوئی باتیں آپ کے ماہنامہ الرسالہ میں پڑھی ہیں ۔ میں نے آپ کی بتائی ہوئی اچھی باتیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں نے پایا کے میرے اطراف کے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے ۔
جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو وہ مجھے کوئی قابلِ قبول وجہ نہیں بتا سکے۔یہ لوگ صرف سنی سنائی باتوں کاذکر کرتے ہیں ۔ میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ وہ خود اپنا کوئی ذاتی تجربہ یا مشاہدہ بتائیں تو وہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس طرح میں ان کو نظر انداز کر کے خاموشی سے تعمیری سوچ اور کام میں لگا ہوا ہوں۔میرا ایک مشاہدہ آپ کے بارے میں ایسا ہوا ہے جو میری سمجھ سے غیر مناسب ہے اور آپ جیسی شخصیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔
کل کے اخبار (The Hindu, Aug.7, 2009) سے معلوم ہوا کہ آپ نے اڈوانی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب ’’میرا وطن میری زندگی‘‘کے Release Function میں شامل ہیں۔ ایک طرح سے یہ اُس شخصیت کا endorsement ہے جس کی لکھی ہوئی یہ کتاب ہے۔ اس مصنف کی جو قدریں (values) ہیں، وہ اس کے قول اور اُس سے زیادہ اس کے عمل اور کردار سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس بارے میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
میرا تجربہ ہے اور دانش مندوں کی کہاوت ہے کہ خود غرض اور ظالم کی دوستی فائدہ مند نہیںہوتی، خواہ وہ ظالم آپ پر مہربان ہو۔ ایسے لوگوں کے دعوت نامہ کو قبول کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے ایسی دعوت قبول کرنا بھی پڑے تو ایسے موقع پر اپنی بات پوری وضاحت اور مضبوطی سے کہنا چاہیے۔ تا کہ negative values کا endorsment نہ ہونے پائے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملہ میں آپ وضاحت کریں اور میری غلط فہمی دور کریں۔(ایم اے صدیقی، کان پور)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جواب
اصل یہ ہے کہ کسی واقعہ کو دیکھنے کے دو زاویے (angles) ہوتے ہیں۔ ایک مثبت زاویہ اور دوسرا منفی زاویہ۔ ایک واقعہ مثبت زاویہ سے دیکھنے میں صحیح واقعہ نظر آئے گا ۔ اسی واقعہ کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو وہ منفی واقعہ بن جائے گا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صلح حدیبیہ پیش آیا ۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمر فاروق نے منفی زاویہ سے دیکھا تو ان کو وہ پسپائی کا ایک واقعہ نظر آیا۔ انھوں نے کہا کہ لمَ نعطِي الدَّنيَّة في دِيننا (مسند احمد،حدیث نمبر18928)۔اس کے بر عکس، اللہ نے اس کو مثبت زاویہ سے دیکھا اور قرآن میں اعلان کیا کہ یہ فتح مبین ہے (48:1)۔آپ کی غلط فہمی یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ اجتماع میں میری شرکت کو دوستی کے زاویہ سے دیکھا اور اس کو صاحب کتاب کا endorsement سمجھ لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ کے لیے صحیح یہ تھا کہ آپ اس کو دعوت کے زاویہ سے دیکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ مذکورہ اجتماع میں میری شرکت ایک صحیح اور باعثِ ثواب معاملہ تھا ۔ جو شخص بھی ماہ نامہ الرسالہ اور اس کا خبر نامہ باقاعدگی کے ساتھ پڑھے تو اس کو معلوم ہو گا کہ مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بہت سے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ تھا۔
میں اور میرے ساتھی دعوت الی اللہ کا مشن چلا رہے ہیں ۔ یہ مشن ایک مبنی بر لٹریچر مشن ہے۔ ہم مسلسل یہ کر رہےہیں کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ہونے والے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں ۔ وہاں ہم لوگوں کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر مذہب اور ہر گروہ اور ہر پارٹی کے اجتماعات میں جاتے ہیں ۔ اگر ہم آپ کے بیان کردہ زاویے سے چیزوں کو دیکھیں تو ہم دعوت کے مواقع (opportunities) کو استعمال نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں گناہ گار ثابت ہوں گے۔
ہمارا یہ طریقہ پیغمبر کے سنت کے عین مطابق ہے۔ حضرت یوسف نے قدیم مصر میں وہاں کے بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں ایک ذمہ دار انہ عہدہ قبول کیا، حالاں کہ یہ بادشاہ ایک مشرک بادشاہ تھا۔حضرت یوسف اگر اس معاملہ کو (شرک) کے زاویے سے دیکھتے، تو بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن (administration) میں شرکت نہ کرتے۔ مگر آپ نے اس کو اپنے دعوتی مشن کی حیثیت سے دیکھا اور قبول کر لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی زمانہ میں 13 سال تک مکہ میں تھے ۔ وہاں آپ کعبہ میں جاتے اور نماز ادا فرماتے اور لوگوں کو دعوت پہنچاتے ، حالاں کہ اس زمانے میں کعبہ کی عمارت میں کھلے طور پر 360 بت رکھے ہوئے تھے ۔ اگر اس واقعہ کو منفی زاویہ سے دیکھا جائے تو وہ شرک کا انڈورسمینٹ نظر آئے گا ۔ لیکن رسول اللہ نے اس کو دعوت کے زاویے سے دیکھا۔
آپ نے یہ فارمولا اختیار کیا کہ — بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرو اور وہاں موجود لوگوں میں اپنا پیغام پہنچائو۔
ہم نے اپنے دعوتی مشن میں اسی پیغمبرانہ طریقہ کو اختیار کیا ہے ۔ ہم لوگوں کو دشمن اور دوست کے اعتبار سے نہیں دیکھتے ۔ ہم ہر انسان کو صرف انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ ہر عورت اور ہر مرد کو ہم حق کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے ہم ہر اجتماعی موقع پر جاتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں ہوتی ہیںان کو ہم ایک ایک شخص تک پہنچاتے ہیں ۔ مذکورہ اجتماع میں پورے انڈیا کے تقریباًتمام ٹاپ کے کٹر ہندو لیڈر موجود تھے ۔ ہمارے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر اُن لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا(لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جس کو وہ نہیں جانتے)کی مثال ہے۔ جو لوگ دعوت کے فرض سے غافل ہیں ، جو یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمان کا دوسرے انسانوں سے تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں ۔ وہ انسانوں کو دوست اور دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ وہ کسی کو اپنا اور کسی کو غیر سمجھتے ہیں۔وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور کسی سے نفرت۔ ایسے لوگ ایک داعی کی پوزیشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی انگریزی یا ہندی اخبار میں ایک خبر پڑھ کر رائے نہ بنائیں بلکہ خود ہماری تحریروں کو پڑھ کر ہمارے بارے میں رائے بنائیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو کبھی مذکورہ قسم کی غلط فہمی نہیں ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سوال
مولانا صاحب ، میں نے آپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں ، ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں ۔ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے۔ (بشریٰ عامر، پاکستان)
جواب
سب سے پہلے آپ یہ کیجیے کہ اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت ذہن کی تعمیر کریں، ایک ایسا ذہن جو منفی سوچ سے پوری طرح خالی ہو۔
اِس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ آپ افراد کی سطح پر دوسروں میں بھی مثبت سوچ والے انسان بنانے کی کوشش کریں، اور جب آپ کو ایسے کچھ ساتھی مل جائیں تو ہفتے وار اجتماع کی شکل میں اُن کو منظّم کرنے کی کوشش کریں۔
میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ حقیقت پسند (realist)بنیں، رومانی تصورات میں جینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ امت کے ماضی کی عظمت کے خول سے مکمل طور پر باہر آ جائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہو گی۔
سوال
کہا جاتا ہے کہ امریکا اور افغانستان کی جنگ میں امریکا ناکام ہو گیا اور افغانستان جیت گیا ۔وہ اس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور پر مثبت نتائج کا سبب بن رہی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر کے اِس بیان کی روشنی میں کہی جاتی ہے کہ امریکا جو کچھ افغانستان میں کر رہا ہے، وہ سب اُس کے لیے الٹے نتیجوں کا ہی سبب بن رہا ہے۔
براہِ کرم ، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں۔(عبدالباسط عمری، قطر )
جواب
افغان جنگ کے بارے میں امریکی افسر نے جو بات کہی، وہ صرف ایک جنگی تبصرہ ہے، اِس سے وہ نتیجہ ہر گز نہیں نکلتا جو مذکورہ قسم کے لوگ اُس سے نکال رہے ہیں۔ کوئی بھی منفی تبصرہ ، مثبت نتیجے کا سبب نہیں بن سکتا ۔
امریکا نے جب عراق اور افغانستان پر ہوائی حملے کیے ، تو اس کا مقصد اصلاً القاعدہ کا زور توڑنا تھا، اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت (2011ء) کے بعد یہ مقصد ایک حد تک حاصل ہو چکا ہے۔ لیکن امریکی قائدین کو غالباً اِس کا اندازہ نہ تھا کہ اُن کے اقدام سے القاعدہ کی طاقت تو کمزور ہو سکتی ہے، لیکن اس اقدام کے ردعمل میں امریکا کے خلاف مسلمانوں میں جو نفرت پیدا ہو گی ، اس کا کوئی توڑ ممکن نہ ہو گا۔
امریکی افسر نے جو کچھ کہا وہ صرف امریکی قائدین کے غلط اندازے کو بتاتا ہے۔ اُس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اِس جنگ میںا فغانستان کی جیت ہوئی ہے، واقعات بتاتے ہیں کہ افغانستان کی اقتصادی طاقت بالکل تباہ ہو گئی ہے۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کا کام بالکل رکا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ افغانی لوگوں میں آپس کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ یہ واقعات افغانستان کی تباہی کو بتاتے ہیں، نہ کہ اس کی جیت یا کامیابی کو۔اِس معاملے میں جہاں تک اسلامی نقطۂ نظر کا تعلق ہے، اسلام میں وہی اقدام مثبت اقدام ہے جو مثبت نتیجہ بر آمد کرنے والا ہو۔فریقِ ثانی کے نقصان پر خوش ہونا اسلام کا طریقہ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق، قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ اِس جنگ میں امریکا کو کچھ نقصان پہنچا، اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ افغانستان بدستور پچھڑا ہوا ایک ملک ہے، وہ تعمیر و ترقی کے راستے میں آگے نہ بڑھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بھی بدستور اپنے بیٹوں کوامریکا بھیج رہے ہیں، کوئی بھی شخص اپنے بیٹوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔
سوال
آپ نے کشمیر کی نسبت سے کافی لکھا ہے ۔ یہ کشمیریوں کے ساتھ آپ کی خیر خواہی کی دلیل ہے۔ آپ نے’’کشمیرمیںامن‘‘ (Peace in Kashmir) اور’’صبحِ کشمیر‘‘ (The Dawn over Kashmir) نام کی کتابوں کو تحریر کر کے کشمیریوں کو صحیح رہنمائی دی ہے۔ ایک اگرhistorical document ہے تو دوسری ideological document ہے۔ دونوں تحریروں میں تاریخ اور مذہب کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔
میں کشمیر کے gun culture میں جوان ہوا ، لہٰذا میں کشمیر کے صوفی کلچر سے عملاً بےخبر ہوں ۔ البتہ میرے والد بتاتے ہیں کہ ’’میں جب اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو کشمیر کی موجودہ صورت حال مجھے ایک خواب نظر آتی ہے۔ جب گاؤں میں ہمارا کوئی مہمان آتا تھا تو اس کی تواضع کے لیے ہم مرغ ذبح کرتے تھے، لیکن مرغ ذبح کرنے کے لیے ہمیں مشکل ہی سے کوئی آدمی ملتا تھا ۔ اکثر لوگوں کے پاس چاقو تک نہ ہوتا تھا۔ لوگ جانور کو مارنے سے کتراتے تھے، کسی انسان کو تکلیف دینے کو تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک روز میں نے کیڑے مار دوا چھڑکی ۔ صبح کو میرے والد نے مجھے بلایا ۔ مرے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا— یہ قتل ہے۔
میں اِس رحم دلی کے مزاج کو یاد کر کے آج روتا ہوں ۔ یہ ایک شخص کی کہانی نہیں ، بلکہ یہی کشمیریوں کی فطرت تھی جس کو عرف عام میں ہم ’’کشمیریت‘‘سے یاد کرتے ہیں۔
جہاں تک میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے ، کشمیر کی نسبت سے آپ کا مشن کشمیر کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر لانا ہے، تا کہ ہم دنیا کو امن و سلامتی (اسلام) کا پیغام دے سکیں۔ برائے مہربانی مزید رہنمائی سے نوازیں۔(انجینئرسید عابد حسین، بڈگام، کشمیر)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جواب
کشمیر کا مسئلہ ہو یا اس قسم کے دوسرے مسائل ، ہر ایک کا سبب صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگ محدود طور پر صرف اُس مسئلے کو لے کر سوچتے ہیں جس سے وہ عملاً دوچار ہیں۔ وہ اُن مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ یہ اوپر اٹھ کر سوچنا ۔وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کہا گیا ہے۔ خلق عظیم کا لفظی مطلب ہے بر تر کردار ، لیکن بر تر کردار بر تر آئڈیالوجی سے پیدا ہوتا ہے۔بر تر آئڈیالوجی نہیں تو بر تر کردار بھی نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مومن کے لیے بر تر آئڈیالوجی صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی دوسری چیزوں کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے ۔ اس کے اندر خدا رخی سوچ (God oriented thinking ) آ جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اندر خدا رخی سوچ نہیں ، وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں۔
ان کی موجودہ سوچ اسی بنیاد پر بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں۔
موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیںکشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ ۔ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً لا ینحل مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ اِن دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو اب تک وہ ہو چکا ہوتا۔ لیکن 60سال سے زیادہ مدت کی غیر معمولی کوششوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے کسی بھی درجے میں حل نہیں ہوئے۔
ایسی حالت میں کشمیریوں اور عربوں دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں ۔ اس کے سوا، ہر دوسری تدبیر صرف نقصان میں اضافہ کرے گی ، وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی نہیں۔
کشمیر کے مسلمان اب تک دو چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھے، آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر۔ مگر یہ دونوں نشانے قومی سوچ پر بنے ہیں ، نہ کہ خدائی سوچ پر۔ صحیح یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی سوچ پر نظر ثانی کریں اور یہ کہیں کہ ہمارا نشانہ نہ آزاد کشمیر ہے اور نہ پاکستانی کشمیر ،ہمارا نشانہ صرف خدائی کشمیر (divine Kashmir) ہے۔ خدائی کشمیر کو اپنا نشانہ بنانے کا مطلب ہے، خدا والی سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں ہوئی تو آپ نے وہاں یہ اشو نہیں کھڑا کیا کہ مکہ سیاسی طور پر کس کے قبضے میں ہو۔ اس کے بر عکس ، آپ نے یہ کیا کہ صورتِ موجودہ (status quo)کو تسلیم کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کشمیریوں کو بھی اِسی نہج پر کام کرنا ہے۔ کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جو سیاسی اسٹیٹس کو (political status quo) بن گیا ہے وہ اُس سے ٹکراؤ نہ کریں بلکہ اس کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنی ساری کوشش پُر امن دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں۔
یہی وہ سنت ہے جو عربوں کو فلسطین میں اختیار کرنا ہے ۔ فلسطین میں عربوں کے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی متشددانہ تحریک کو مکمل طور پر ختم کر دیں ۔ وہ یک طرفہ طور پر ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ دیںاور اپنی ساری طاقت پر امن دعوت میں لگا دیں۔ فلسطین میں دعوت الی اللہ کےعظیم مواقع ہیں ، اسرائیل کے درمیان بھی اور سیاحوں (tourists) کے درمیان بھی، جو دنیا بھر سے بکثرت روزانہ فلسطین کے علاقے میں آتے ہیں۔
دعوت الی اللہ کا کام اہلِ ایمان کا اصل مشن ہے ۔ اسی مشن کی ادائیگی پر اُن کو اللہ کی نصرتیں حاصل ہوں گی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جن چیزوں کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں ، اُس مسئلے کا حل اللہ کی نصرت کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ محض ذاتی کوشش کے ذریعے، اور اللہ کی نصرت صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے وَلَیَنصُرَنَّ اللہُ مَن یَّنصُرُہ (22:40)۔ یعنی، اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سوال
میں ایک طالب علم ہوںاور جدید تعلیم حاصل کر رہا ہوں لیکن اِسی کے ساتھ دینی معلومات بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال پہلے میں نے آپ کا نام سنا تھا لیکن جن کے ذریعے آپ کا تعارف ہوا انہوں نے آپ کا کوئی مثبت ذکر نہیں کیا بلکہ دلخراش واقعات سنائے جو کہ میرے لیے باعث تشویش رہے کہ کیا دین اسلام کا داعی اس قسم کی باتیں کہہ سکتا ہے، کیا ایسا ممکن ہے ؟
unverifiedAttribution could not be verified automatically
آپ کے حقیقی تعارف کے بغیر میں ہر وقت شش و پنج میں رہتا تھا۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان باتوں کی حقیقت کو جاننے کے لیے از خود آپ کی کتابوں کا مطالعہ کروں ۔ آخر کار اپنے ایک عزیز کی وساطت سے میں نے آپ کی ایک کتاب’’کاروانِ ملت‘‘ خریدی۔ کتاب مذکور میں ان سب سوالوں کا جواب تھا جس کی وجہ سے میں پریشان ہو چکا تھا ۔ وہ منفی تاثرات جو آپ کے متعلق مجھے بتائے گئے تھے ، وہ سب گمراہ کن لگے ۔ بعد میں آپ کی کتابوں کا مطالعہ میرے روزمرہ کے شیڈول کا ایک جزء بن گیا ۔میں نے جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں یہ کتابیں قابلِ ذکر ہیں کتابِ معرفت، عظمتِ اسلام، تعمیر انسانیت، دعوتِ اسلام The Quran for all Humanity, Creation plan of God ، وغیرہ۔
اب میں اس خدا کا شکر کرتا ہوں جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کہ میرے خدا کی طرف سے یہ سب ممکن ہواکہ میں روحِ دین کو سمجھنے کی کوشش کروں ۔ اِس ’’عُسر‘‘ کے دور میں’’یُسر‘‘ کا ایک موقع مجھے ضرور ملا جس کو میں نے استعمال کیا۔ آپ کی کچھ باتیں جن کی وجہ سے میری زندگی میں بدلاؤ آیا، وہ مفہوم میں کچھ اس طرح ہیں
غیر مسلم ہمارے دشمن یا حریف نہیں بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہذا ہمیں ان سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنا ہو گا ۔
یک طرفہ طور پر دکھ درد کو برداشت کر کے ہی ہم اسلام کا پیغامِ امن ان تک پہنچا سکتے ہیں ۔
دینِ سلامتی کو دینِ قتل نہ بنائیں ۔ دینِ امن کو دینِ جنگ و جدال نہ بنائیں۔
گمراہ کن نعروں سے مسلمانانِ دنیا کے جان، مال اور آبرو کو مباح نہ بنائیں۔
دعوت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا، وغیرہ وغیرہ۔
ان جیسی اہم باتوں نے مجھے آپ کی فکر کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اِس دوران میرے ذہن میں بہت سے اشکالات رہے جن کے جوابات جاننا میرے لیے ضروری ہو گیا۔
امید ہے کہ آپ اپنی حد درجہ مشغولیت کے باوجود ذیل کی باتوں میں میری رہنمائی فرمائیں گے
1۔اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا؟
2۔قرون اول میں جو فتوحات ہوئیں ،مثلاً مصر، روم ، ایران وغیرہ ، ان کو دفاعی جنگ (defensive war) کہنا کیسے ممکن ہے؟
3۔’’نہی عن المنکر‘‘ غیر اسلامی حکومت کے اندر کیسے کیا جائے؟
4۔دفاعی طریقہ کار سے کیا آج کے دور میں ہم کسی ملک کو زیر کر سکتے ہیں؟
(احمدوانی ،کشمیر)
جواب
کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا ، ایک بے حد سنگین بات ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ متعلق شخص کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرے ، اور پھر معلومات کے مطابق وہ اپنی رائے بنائے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ پھر آپ کے اوپر فرض ہے کہ آپ ایسے شخص کے بارے میں کوئی رائے نہ بنائیں ، بلکہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں ۔
آدمی کے اوپر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے بارے میں ضرور کوئی رائے بنائے۔ لیکن اگر اس کو کسی شخص کے بارے میں اپنے رائے کا اظہار کرنا ہے تو اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ پہلے وہ براہِ راست طور پوری معلومات حاصل کرے ،اور اس کے بعد متعلق شخص کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔ جہاں تک مذکورہ سوالات کا تعلق ہے۔ یہ سوالات ہماری کتابوں میں زیرِ بحث آ چکے ہیں ۔ آپ نے مطالعے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ، اس کو جاری رکھیے، ان شاء اللہ آپ کو تشفی حاصل ہو جائے گی۔
سوال
2015ء سے میں ماہ نامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں بالخصوص پیغمبر انقلاب، غیر ملکی اسفار، وغیرہ کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ پوسٹ گریجو یشن میں تاریخ خصوصی مضمون ہے۔ ایم اے کے دوران آپ کے مضمون تاریخِ انسانی کے مطالعے سے تاریخ کے متعلق مستفید ہوا۔ عالمی منظر نامے سے واقفیت رکھنے کے لیے Indian Expressپڑھتا ہوں۔
انسانی تاریخ کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا مشن صلح حدیبیہ پر اتفاق، صبر و ضبط کا فارمولاہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لیے لازم ہیں۔ اس دورِ انسانی میں، جس میں ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کواس طرح پیش کر رہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں، صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ صبر و ضبط اپنی جگہ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لیے کس راستے کا انتخاب کیا جائے؟(محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالیگاؤں)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جواب
ہمارا لٹریچر پورا کا پورا اِسی سوال کا جواب ہے۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھی ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہ نامہ الرسالہ(اردو) اور اسپرٹ آف اسلام(انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالا ت رفع ہو جائیں گے، ان شاءاللہ۔اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر ردّ عمل (reaction)کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔
ردّ عمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور نفرت کی نفسیات آخرکار لوگوں کو تشدد تک پہنچا دیتی ہے۔لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence)میں مبتلا نہ ہوں تب بھی وہ منفعل تشدد (passive violence)کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔
سوال
یہاں ہمارے ساتھی اِس بات سے منفی (negative) ہو رہے ہیں کہ وہ دعوتی کام کرتے ہیں، لیکن لوگ تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ اِس کا حل کیا ہو، اور اپنے دعوتی ساتھیوں کو کیسے سمجھایا جائے؟(طارق بدر، پاکستان)
جواب
جو لوگ دعوت کے معاملے میں اس طرح کی منفی بات کہتے ہیں، اُن کو قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔قرآن میں نبیوں کا تذکرہ ہے۔ انبیاء وہ لوگ ہیں، جو دعوت کے معیاری ماڈل تھے۔ انہوں نے جب لوگوں کے سامنے دعوت پیش کی تو اکثریت نے منفی ردّ عمل کا اظہار کیا۔ چنانچہ قرآن میں اس تجربے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےيٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ ڱ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ (36:30)۔یعنی، افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی اُن کے پاس آیا، وہ اُس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دعوت کے مقابلے میں منفی ردّ عمل کے باوجود انبیاء اپنا دعوتی کام کرتے رہے۔ انہوں نے لوگوں کی شکایت نہیں کی، اور نہ اپنا دعوتی کام چھوڑا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس کا سبب یہ تھا کہ انبیاء جو دعوتی کام کرتے تھے، وہ مدعو کے لیے نہیں کرتے تھے، بلکہ اللہ کے لیے کرتے تھے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء دعوت کے کام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس لیے جو لوگ دعوت کا کام کریں، اُن کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اِس ماڈل کو اپنے سامنے رکھیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کی مثال بتاتی ہے کہ دعوت کا ایک اصول — ری پلاننگ ہے۔ مکی دور کا طریقہ مؤ ثر نہیں ہوا ، تو آپ نے دعوت کا دوسرا منصوبہ بنایا، اور یہ دوسرا منصوبہ اتنا زیادہ کامیاب ہوا کہ پوری قوم نے اُن کی دعوت کو قبول کرلیا۔ اِس نمونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا ایک اصول ری پلا ننگ ہے۔ اگر ایک طریقہ (method) مؤ ثر نہ ہو، تو داعی کو چاہیے کہ وہ دوسرے طریقہ کا تجربہ کرے۔ عین ممکن ہے کہ دوسرا طریقہ اللہ کی مد د سے کامیاب ثابت ہو۔