Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

بھولنا ایک مثبت عمل

Urdu · 2 min read

موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی قسم کے نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔نقصان کا یہ تجربہ ایک تلخ یاد بن کر اس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ عام طورپر پیش آتا ہے۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ ایک اردو شاعر اخترانصاری (1909-1988ء)نے کہاہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

یہ نقصان کے مسئلے کا ایک منفی حل (negative solution) ہے، اور منفی حل صرف دل کی تسکین کے لیے ہوتا ہے، وہ اصل مسئلے کا حقیقی حل نہیں ہوتا۔ اِس مسئلے کا ایک حل جارج برناڈ شا (وفات 1950ء) نے بتایا ہے۔ اُس نے کہا کہ— سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلا دینے کے لیے کچھ نہ ہو

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The most uneducated person is one who has nothing to forget in his life.

نقصان، زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ وہ مختلف صورتوں میں ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اِس مسئلے کا بے ضرر حل صرف یہ ہے کہ اُس کوبھلا دیا جائے۔ فراموشی اِس مسئلے کا سیکولر حل ہے۔ اِس کا مذہبی حل یہ ہے کہ اِس قسم کے تجربات کو خدا کے خانے میں ڈال دیا جائے۔

مزید یہ کہ اِس دنیا میں ہر چیز کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے۔ نقصان کے تجربے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتا ہے۔جب تلخ تجربہ ایک شاکنگ تجربہ (shocking experience)بن جائے، وہ آدمی کی سوچنے کی صلاحیت میںاضافہ کرتا ہے۔ وہ آدمی کو نئے نئے تجربات سے آشنا کرکے اس کے ذہنی اُفق (intellectual level) کو وسیع کرتا ہے۔ اس کے برعکس، بے حسی کسی انسان کے لیے نفسیاتی موت (psychological death) کی حیثیت رکھتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content