Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

بگ برڈ تھنکنگ

Urdu · 3 min read

صبر کی حقیقت کیا ہے، اس کو بیان کرتے ہوئے خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب (وفات23 ھ) کا ایک قول کتابوں میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہےإِنَّ أَفْضَلَ عَیْشٍ أَدْرَکْنَاہُ بِالصَّبْرِ، وَلَوْ أَنَّ الصَّبْرَ کَانَ مِنَ الرِّجَالِ کَانَ کَرِیمًا (الصبرلابن ابی الدنیا،اثر نمبر 6)۔ یعنی، بیشک افضل زندگی ہم نے صبر میں پائی، اور اگر صبرایک انسان ہوتا ، تو وہ کریم انسان ہوتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ دراصل صابر انسان کی پہچان (identity) ہے۔ جس آدمی کے اندر صبر کا مزاج ہو، اس کے اندر اسی قسم کی اعلی انسانی صفت موجود ہوگی۔کریم انسان سے مراد شریف اور سنجیدہ انسان ہے۔ جو اعلیٰ سوچ کا مالک ہو، جو بولنے سے پہلے سوچے، جو بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کو بہتر سمجھتا ہو، جو بولے کم، اور سوچے زیادہ، جس کے اندر ردعمل (reaction) کا مزاج نہ ہو، وغیرہ۔

اعلیٰ سوچ کیا ہے۔اعلیٰ سوچ ایک لفظ میں بگ برڈ تھنکنگ (big bird thinking) کا دوسرا نام ہے۔ بگ برڈ تھنکنگ کی حقیقت یہ ہے کہ جب خطرناک طوفان آتے ہیں، تووہاں پر موجود چھوٹے چھوٹے پرندے جو زیادہ اوپر نہیں اڑ پاتے ہیں، وہ طوفان میں پھنس کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ا س کے برعکس، بڑے پرندے، جو اونچائی پر اڑان بھرتے ہیں، وہ طوفان سے بچنے کے لیے مزید اوپر چلے جاتےہیں جہاں طوفانی ہواؤں کا اثر نہیں ہوتا۔اس طرح وہ طوفان سے اپنے آپ کو بچالیتے ہیں۔ ایک سچے انسان کو اپنے اندر یہی مزاج ڈیولپ کرنا چاہیے، یعنی مثبت سوچ کا مزاج— عقل مند آدمی وہ ہے جو ان چیزوں کے ساتھ پرامن طورپر رہ سکے، جن کو وہ بدل نہیں سکتا

In countries where there are severe storms, birds with small wings are caught up in them, but large birds with strong wings fly upwards and save themselves from becoming victims of these storms. This phenomenon has given rise to the saying: ‘Big bird of the storm.’ A spiritual person is one who has developed the capacity for ‘big bird’ thinking.

منفی جذبات کی قربانی

دین کی راہ میں قربانی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ قربانی کے بغیر دین کا کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ جتنی بڑی قربانی اتنا ہی بڑا کام۔ قربانی سے عام طور پرعید الاضحی کے موقع پر جانوروں کا ذبح کرنا مراد لیا جاتا ہے۔ قربانی کی ایک قسم وہ ہے جب کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں مال دینا پڑے۔اسی طرح قربانی کی ایک قسم وہ ہے جب کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں جسمانی مصیبت اٹھانی پڑے۔ یہ قربانی کی صورتیں ہیں۔ لیکن دین میں سب سے اعلیٰ قربانی وہ ہے جب کہ آدمی کو اپنے منفی جذبات پر روک لگانا پڑے۔

بعض اوقات اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اپنے منفی جذبات پر روک لگا کر اس کی قربانی پیش کی جائے۔ دین پر چلتے ہوئے انسان کی انا کو چوٹ لگے، اس کے باوجود اللہ کی راہ میں اس کی استقامت پر فرق نہ آئے۔ اس کی بڑائی کا جذبہ مجروح ہو مگر وہ کسی شکایت کے بغیر اس کوبخوشی برداشت کرلے۔ اللہ کی راہ میں اس کو اپنی خواہشات کو دبانا پڑے مگر وہ اس کو رضامندی کے ساتھ گوارا کرلے۔

قربانی کی یہ قسم ایک غیر معمولی قربانی ہے۔ ایسی قربانی کو جھیلنا، بلاشبہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ لیکن کوئی بندہ اللہ کی راہ میں جب اپنی رضامندی سے ایسی قربانی کو برداشت کرے، تو اس پر اس کو بلاشبہ اجر عظیم عطا ہوگا۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی بندے کا گھونٹ اللہ تعالیٰ کے نزدیک غصہ کے گھونٹ سے افضل نہیں، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پی جائے (سنن ابن ماجہ،حديث نمبر 4189) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایسی قربانی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے، جب کہ اللہ کی راہ میں آدمی کو اپنا ایک رول ادا کرنا ہو۔ لیکن یہ قربانی دینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور ماڈسٹی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ سادہ زندگی پر راضی ہوجائے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسے لوگ موجود ہیں، اور ایسے لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content