← Tameer-e-ShakhsiyatTameer-e-Shakhsiyat
تدبیر، نه که اشتعال
Urdu · 56 min read
20فروری1991ء کو مئو کے عبدالجبار صاحب (64 سال)سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ ہر فساد کا واحد حل حکیمانہ تدبیر ہے۔ اگر حکمت کا طریقہ اختیار کیا جائے تو کبھی کوئی فساد نہ ہو گا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنے ذاتی تجربہ کے کئی واقعات بتائے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مئو کے محلہ مرزا ہادی پورہ میں عبدالحکیم گرہست صاحب رہتے ہیں۔ ان کے گھر کے پاس ایک مسجد ہے، جو ’’جامع مسجد احناف‘‘ کے نام سے مشہور ہے ۔1981ء کا واقعہ ہے۔ رات کے وقت کسی نے خنزیر کا مرا ہوا بچہ اس مسجد میں ڈال دیا۔ صبح کو فجر کی نماز کے لیے لوگ مسجد آئے تو دیکھا کہ وہاں خنزیر پڑا ہوا ہے۔
خبر مشہور ہوتے ہی سارے مئو میں سنسنی پھیل گئی ۔ 8بجے تک عبدالحکیم گرہست کے مکان پر بھیڑ لگ گئی۔ مسلمان بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ۔ لوگ سخت مشتعل تھے۔ اور قریب تھا کہ کوئی کارروائی کر بیٹھیں اور پھر سارے شہر میں فساد کی صورت پیدا ہو جائے ۔ مگر عبدالحکیم گر هست صاحب نے لوگوں کو سختی سےرو کا اور پر امن رہنے کی تاکید کی ۔
اس کے بعد انھوں نے پولیس کو ٹیلی فون کیا۔ فوراً پولیس جائے واردات پر پہنچ گئی۔ پولیس والوں نے صدر دفتر اعظم گڑھ کو بھی ٹیلی فون کر دیا تھا۔ چنانچہ وہاں سے بھی افسران آگئے ۔ پولیس افسروں نے آکر مسلمانوں کو سمجھایا اور کہا کہ آپ لوگ پر امن رہیں، ہم کو کارروائی کرنے کا موقع دیں۔ اس کے بعد پولیس والوں نے خنزیر کو وہاں سے اٹھوایا ۔ اور فائر بریگیڈ کو بلاکر دور تک پانی سے اچھی طرح دھو دیا۔ اس کے بعد معاملہ وہیں کا وہیں ختم ہو گیا ۔ کسی قسم کے فساد کی نوبت نہیں آئی ۔ جب کہ اس طرح کے ایک واقعہ پر اکثر پورا شہرفساد کی زد میں آجاتا ہے ۔
اس طرح کے مواقع پر بہترین عقل مندی یہ ہے کہ مسلمان امن پسندی کا ثبوت دیں۔ وہ خود کوئی جارحانہ کارروائی نہ کریں، بلکہ معاملہ کو پولیس کے حوالے کر دیں ۔ اگر وہ ایسا کریں تو یقینی ہے کہ کسی قسم کا فساد نہیں ہوگا۔ خنزیر ڈالنے والے اس لیے خنزیر ڈالتے ہیں کہ مسلمان مشتعل ہو کر کوئی جارحانہ کارروائی کر دیں، تاکہ انہیں مکمل فساد کرنے کا موقع مل جائے۔ اس سازش کا توڑ یہ ہے کہ مسلمان بالکل خاموش رہیں اور پولیس کو اطلاع دینے کے سوا کوئی اور کارروائی نہ کریں۔ یہ فساد کے بم کو ناکارہ کر دینے کے ہم معنی ہوگا۔
اعراض کا فائدہ
پونہ کے ایک سفر میں وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ22 ستمبر1991ء کو پونہ میں گنیش چترتھی کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن12 ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی، اور اس کی نسبت سے مسلمان اپنا میلاد النبی کا جلوس نکالنا چاہتے تھے ۔ اگر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلتا تو یقینی تھا کہ دونوں میں ٹکراؤ ہو اور فرقہ وارانہ فساد کی صورت پیدا ہو جائے۔ اور پھر جشن کا دن شہر کے لیے غم کادن بن جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پونہ کی سیرت کمیٹی کی دانش مندی سے یہ خطرہ ٹل گیا۔ انھوں نے ایک اجتماع کر کے مشورہ کیا کہ ایسی حالت میں کیا کیا جائے ۔ اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا کہ ہم لوگ اس معاملہ میں اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ چنانچہ انھوں نے اپنی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن کی تاخیر کے ساتھ 27 ستمبر کو نکالا۔ اس طرح ہند و جلوس اور مسلمان جلوس دونوں پر امن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔
اس واقعہ پر شہر کے تمام لوگ بہت خوش ہوئے۔ اور مسلمانوں کی دانش مندی کو سراہا۔ خاص طور پر پولیس کے لوگوں نے بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ اور مسلمانوں کے اس عمل کی تعریف کی۔ انھوں نے مسلمانوں سے مل کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ فساد نہ ہونا پولیس کے لیے ایک ذاتی کارنامہ کی حیثیت رکھتا ہے ، اور یقینی طور پر پولیس کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ کارنامہ ان کی فہرست اعمال میں لکھا جائے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پونہ کی سیرت کمیٹی نے جب تاریخ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تو اس وقت انھوں نے اس کی خبر مراٹھی اخباروں میں شائع کرادی۔ اس طرح پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اس کی اطلاع ہوگئی۔ چنانچہ دوسرے جن مقامات پر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلنے والے تھے ، وہاں بھی اس طرح مسلمانوں نے اپنے جلوس کی تاریخ کو بدل دیا۔ اس کے نتیجہ میں پورا مہاراشٹر فساد کے نقصان سے بچ گیا۔
فرقہ وارانہ فساد سے بچنے کی سب سے زیادہ کارگر تد بیر یہی اعراض کا طریقہ ہے۔ جہاں بھی لوگوں نے اس تدبیر کو استعمال کیا ہے، وہاں فساد نہیں ہوا۔ فساد کے بم کو نا کارہ کرنے کی یہی واحد تدبیر ہے ۔ فساد ہمیشہ غصہ کے تحت ہوتا ہے،نہ کہ سازش کے تحت۔
ایم فیکٹر، کیو فیکٹر
دہلی کے ایک مسلم نوجوان ایک انگریزی میگزین میں کام کرتے تھے۔ اِس میگزین کے مالکان سب ہندو تھے۔ چند سال کے بعد منتظمین کی طرف سے مذکورہ مسلم نوجوان سے کہاگیا کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔ چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ استعفیٰ نہ دیں تو اُن کو برخاست کردیا جائے گا۔ اِس لیے انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔
اِس کے بعد مذکورہ مسلم نوجوان سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ میرے ساتھی کہتے ہیں کہ اِس کا سبب ایم فیکٹر (M-factor) ہے۔ میںنے کہا کہ ہر گز نہیں، اِس کا سبب صرف کیو فیکٹر(Q-factor)ہے، یعنی مسلم فیکٹر نہیں، بلکہ کوالٹی فیکٹر۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے دل سے منفی خیال مکمل طورپر نکال دیں اور آپ صرف ایک کام کریں، وہ ہے اپنی انگلش رائٹنگ کو امپروو (improve) کرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
میرے مشورے سے انھوں نے بر ٹش کاؤنسل میں داخلہ لے لیا۔ وہاں انھوں نے ایک سال اپنی زبان کو امپروو کرنے کی کوشش کی۔ برٹش کاؤنسل سے ایک سال کا کورس پورا کرنے کے بعد ان کی زبان پہلے سے بہتر ہوچکی تھی۔ اِس کے بعد انھوں نے ایک اور انگریزی میگزین میں انٹرویو دیا۔ وہاں ان کا سلیکشن ہوگیا۔ اب وہ اِس دوسرے انگریزی میگزین میں کام کررہے ہیں۔ یہاں ان کو پہلے سے تقریباً تین گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے، جب کہ اِس دوسرے میگزین کے مالکان بھی ہندو ہیں۔
اِس مثال سے زندگی کی ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب وہ کسی ناپسندیدہ صورت ِحال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ یہ کرتے ہیںکہ اس کو فوراً تعصب (bias) کا معاملہ سمجھ کر اس کی ذمے داری دوسرے کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ تعصب کا لفظ صرف ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، حقیقی زندگی میں اس کا کوئی وجود نہیں۔
جب بھی آپ کو دوسروں کی طرف سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے تو سمجھ لیجیے کہ وہ خود آپ کی کسی کمی کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اپنی کمی کو دریافت کرکے اس کو دور کیجیے اور پھر آپ کی شکایت اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔
نفرت کلچر
امریکا کے سابق صدر جارج بش اپنے آخری دورِ صدارت میںعراق گئے، وہاں4 دسمبر 2008ءکو بغداد میںایک پریس کانفرنس تھی۔ اِس موقع پر ایک عراقی صحافی منتظر الزیدی نے اپنا جوتا نکال کر جارج بش کی طرف پھینکا۔ اِس واقعے پر سارا مسلم ورلڈ جھوم اٹھا۔ ایک عرب دولت مند نے اِس صحافی کو ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا، وغیرہ۔ اِس واقعے کے بعد مسلم دنیا میں ایک نیا احتجاجی کلچر چل پڑا جس کو جوتا کلچر کہاجاسکتا ہے۔ ایک مسلم اخبار نے جوتا پھینکنے کے اِن مناظر کی تصویریں چھاپی ہیں اور اُس پر یہ عنوان قائم کیا ہے
Shoes that made history.
موجودہ زمانے کے مسلمان منفی سوچ میں جی رہے ہیں۔ مذکورہ واقعہ اِس منفی سوچ کا ایک انتہائی بدنما مظاہرہ ہے۔ اِس جوتا کلچر کا صرف یہ نتیجہ ہوا کہ اس نے عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی تصویر بگاڑ دی۔ اِس لیے اس کا صحیح عنوان یہ ہونا چاہیے
Shoes that distorted the image of Islam.
جوتا پھینکنے کا یہ کلچر اپنی حقیقت کے اعتبار سے دوسروں پر جوتا پھینکنا نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے آپ پر جوتا پھینکنا ہے۔ ایسا کرکے مسلمان دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں، بلکہ وہ خود اپنے آپ کو ایکسپوز (expose) کررہے ہیں۔ یہ واقعہ اور اِس طرح کے دوسرے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے پاس دوسروں کے لیے صرف نفرت کا سرمایہ ہے۔ یہ بلا شبہ وہی نفسیات ہے جس کا مظاہرہ آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس نے کیا تھا۔ جو لوگ انسان کے خلاف اِس قسم کی نفرت آمیز نفسیات میں مبتلا ہوں، انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے اِس عمل سے کس کی پیروی کررہے ہیں۔اِس طرح کے افعال بلاشبہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والے ہیں۔ وہ کسی کو خدا کی رحمت کامستحق بنانے والے نہیں۔ سچا مومن وہ ہے جو انسان سے محبت کرے۔ جو لوگ انسان سے نفرت کریں، وہ سچے مومن نہیں۔ جوتا کلچر انسانی شرافت کے بھی خلاف ہے اور ایمان اور اسلام کے بھی خلاف۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
قدیم زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ الحرب انفٰی للحرب (جنگ کا توڑ جنگ ہے)۔ یہ فکر ہزاروں برس سے انسان کے اندر چلی آرہی تھی۔ بد قسمتی سے یہی فکر تاریخی تسلسل کے نتیجہ میں خود مسلمانوں میں کسی نہ کسی طورپر جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے لے کر اب تک کی مسلم تاریخ میں اس کے نمونے پھیلے ہوئے ہیں۔ 1948ء میں فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا جو عملاً پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ اس وقت بھی تمام مسلم ذہن اسی ڈھنگ پر سوچنے لگے۔ اس سوچ کی نمائندگی ایک عرب شاعرخیر الدین الزرکلی (وفات1976ء) کے شعر میں ان الفاظ میں ملتی ہے— صلاح الدین ایوبی کو ہمارے درمیان دوبارہ لے آؤ، حطین یا حطین جیسے معرکے دوبارہ گرم کرو
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
هاتي صلاح الدين … ثانية فينا
وجددي حطين … أو شبه حطينا
اقبال اپنے علم اور ذہانت کے باوجود اس فکر سے اوپر نہ اُٹھ سکے۔ ان کا پورا کلام کسی نہ کسی طورپر اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ مثال کے طورپر ان کا یہ شعر پڑھیے
گفتند جهان ما آیا بتو می سازد گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی، دریافت فرمایا کہ میرا جہاں تمہارے ساتھ سازگاری کررہا ہے؟ میں نے جواب دیا سازگاری نہیں کر رہا ۔کہاکہ اسے درہم برہم کر دو۔
hadithQuotes a hadith
اسلام اس معاملہ میں انقلابی تبدیلی کا پیغام تھا۔ جنگ کیوں ہوتی ہے۔جنگ ہمیشہ اختلافات کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ لوگ اختلاف کو صرف مٹانا جانتے تھے، اس لیے وہ فوراً فریقِ ثانی سے لڑ جاتے تھے۔ اسلام نے اس معاملہ میں ایک نئے اُصول کو رواج دیا۔ قرآن میں یہ اُصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہےوَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔یعنی،اور صلح بہتر ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ صلح بہتر ہے۔ صلح کیا ہے۔ صلح یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے پر زور نہ دیا جائے بلکہ اختلاف کو گوارہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ گویا اس کا مطلب ہے، اختلاف کے باوجود اتحاد۔ اس فارمولے کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے
Art of difference management
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی تدبیر کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طورپر آپ نے قدیم مکہ میں610ء میں دعوتِ توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت توحید کے نقطۂ نظر سے مکہ میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے گھر (کعبہ) میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری طَہِّر الکعبۃ من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔بلکہ اس کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری کہ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ(74:4)۔ یعنی، اپنے اخلاق کو درست کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس قرآنی اُصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے زمانہ میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پر امن جدوجہد شروع کردی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں واقعہ صلح حدیبیہ628ء کا ہے۔ یہ صلح گویا ڈیفرنس مینجمنٹ(difference management) کی ایک کامیاب مثال تھی جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو وہ ہرحال میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول پر اس کو حل کرے۔ کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے۔ حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے بعد امراء اور حکام کے اندر بگاڑ آئے گا مگر تم ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم ظلم کے باوجود ان کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کے لیے اللہ سے دعا کرنا(أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا الله حقكم) مسند احمد، حدیث نمبر 3641۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس معاملہ میں ایک حدیث وہ ہے جو سنن ابوداؤد، جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی روایت ہے، اس کا آخری حصہ یہ ہے
إِنِّي لَأَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، فَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ(تفسیر عبد الرزاق، حدیث نمبر 814)۔ یعنی، مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کن لیڈروں سے ہے او رجب تلوار میری امت میں داخل ہوگی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث کا مطلب در اصل یہ ہے کہ امت میں جب اختلافات پیدا ہوں گے تو نااہل لیڈر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول پر اس کو رفع نہ کرسکیں گے بلکہ وہ اختلاف کو دور کرنے کے نام پر لڑائی چھیڑ دیں گے اور جب ایک بار امت میں دین کے نام پر لڑائی کی روایت قائم ہوگئی تو اجتماعی نفسیات کی بنا پر وہ قیامت تک جاری رہے گی۔
hadithQuotes a hadith
حدیث کی یہ پیشین گوئی بد قسمتی سے امت کی بعد کی تاریخ کے بارے میں درست ثابت ہوئی۔ امت کے اندر وضع سیف کا یہ معاملہ خلیفہ ثالث عثمان بن عفان کی شہادت کے ساتھ شر وع ہوا۔ پھر اس کے بعد وہ اس طرح مسلسل جاری ہو گیا کہ امت کی ہزار سالہ تاریخ میں وہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ خلیفہ چہارم اور دمِ عثمان کے نام پر اُٹھنے والوں کے درمیان جنگ، حسین اور یزید کے درمیان جنگ، بنوامیہ اور بنو عباس کے درمیان جنگ، سنی اور شیعہ کے درمیان جنگ، مغلوں اور غیر مغلوں کے درمیان جنگ، اسی طرح موجودہ زمانہ میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان جنگ، وغیرہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااخْتِلافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 39)۔ یعنی، میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف (difference) خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے۔ وہ فطرت کا ایک لازمی جزء ہے اس لیے اختلاف کبھی زندگی سے ختم نہیں ہوتا۔ امت کے اصحاب علم و معرفت اس راز کو سمجھیں گے اور اختلاف کو مٹانے کے بجائے اختلاف کے ساتھ جینے کی کوشش کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلہ کو حل کریں گے۔ اس طرح سنت کی پیروی کی صورت میں اختلاف امت محمدی کے لیے رحمت بن جائے گا۔ اختلاف کے ہوتے ہوئے وہ ترقی کا پر امن سفر کامیابی کے ساتھ طے کر سکیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسری بہت سی سنتیں ہیں اسی طرح وہ چیز بھی ایک سنت رسول ہے جس کو ہم نے آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ اس اُصول کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے ہے، کوئی بھی پہلو اس سے خالی نہیں۔
مثال کے طورپر فقہی اختلافات جو ہزار سال سے اب تک ٹکراؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں ان کے معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا سادہ اُصول یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ اختلافات توسع پر مبنی ہیں،نہ کہ تعددپر۔ ان میں سے جس طریقہ کی بھی پیروی کی جائے وہ درست ہوگا(بِأَيِّهِمْ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح علی اور معاویہ کا معاملہ یا یہ سوال کہ چاروں خلفاء کے درمیان تفضیل کی بحث۔ اس قسم کے معاملات میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق (application) یہ ہے کہ اس کو خدا کے حوالہ کردیا جائے اور ہر فرقہ اپنی آج کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہوجائے۔
موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان تباہ کن ٹکراؤ جاری ہے۔ اس معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا انطباق یہ ہے کہ اسلام پسند جماعتیں حکومت کے دائرہ میں براہ راست مداخلت کا طریقہ چھوڑ دیں ۔ وہ غیر حکومتی دائرہ ، مثلاً تعلیم اور اصلاح اور دعوت کے شعبوں میں، اپنی کوششیں صرف کریں۔
موجودہ زمانہ میںہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان لیڈر یا مسلم گروہ مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی قومی یا ملّی مقصد کے حوالہ سے غیر مسلم حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری کئے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلسطین اور کشمیر او رچیچنیا اور فلپائن ،وغیرہ میں۔ ان مقامات پر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد کو مکمل طورپر ترک کردیا جائے اور صرف مسلّمہ پرامن طریق کار کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تحریک چلائی جائے۔
قرآن کریم کی آیتوَالصُّلْحُ خَيْرٌ(4:128)۔یعنی، صلح بہتر ہے— بتاتی ہے کہ ڈیفرنس مینجمنٹ کا مذکورہ طریقہ مطلق طورپر خیر کا سبب ہے۔ وہ ہر حال میں قابل عمل ہے۔ یہ طریقہ صرف اس وقت ناقابل عمل بن جاتا ہے جب کہ تشدد کا آغاز کرکے فضا کو بگاڑ دیا جائے۔ تشدد کا آغاز لازمی طورپر جوابی تشدد پیدا کرے گا اور پر امن طریق کار کو اختیار کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اگر مسلمان یہ غلطی کریں کہ تشدد کا آغاز کرکے وہ صورت حال کو بگاڑ دیں تو خود انہیں کو دوبارہ صورت حال کو نارمل بنانے کی ذمہ داری لینی پڑے گی۔ اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تشدد کو یک طرفہ طورپر ختم کردیں تا کہ وہ موافق فضا پیدا ہو جس میں ڈیفرنس مینجمنٹ پر عمل کرنا ممکن ہو جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام دین فطرت ہے۔ مذکورہ اصول فطرت ہی کا ایک اصول ہے جس کو اسلام میں اختیار کیا گیاہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔ ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو مسٹر ڈیفرنٹ کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق و اختلاف والا سماج ہے۔ یہ فرق و اختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ایسی حالت میںقابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔
It requires difference management rather than eliminating the difference.
فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملہ سے بھی ہے اور سیکولر معاملہ سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طورپر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈیفرنس مینجمنٹ کا آرٹ جانتے ہوں۔ فرق و اختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے اور فرق و اختلاف کو مینج کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔
فرق و اختلاف کوئی بُرائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے۔ فرق و اختلاف سے اجتماعی زندگی میں چیلنج پیدا ہوتا ہے۔ اور چیلنج کا سامنا کرنا ہی اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا واحد راز ہے۔
کوئی دشمن نہیں
پچھلے زمانے میں کوئی کسی کا دوست ہوتا تھا ، اور کوئی کسی کا دشمن۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب کوئی نہ کسی کا دوست ہے، اور نہ کوئی کسی کا دشمن۔ اب ہر آدمی پرو سیلف (pro-self)ہے۔ ہر آدمی کا ایک ہی کنسرن (concern)ہے۔ اور وہ اس کا اپنا انٹرسٹ ہے۔ آج کا انسان اپنے انٹرسٹ میں اتنا گم ہے کہ اس کو کسی اور کے خلاف سوچنے کی فرصت نہیں۔
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا فرق کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مواقع (opportunities)بہت محدود ہوتے تھے۔ مواقع پر ایک مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) کا قبضہ ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں اصولی طور پر یہ صورتِ حال ختم ہوگئی ہے۔ اب تمام مواقع ہر آدمی کے لیے کھل گئے ہیں۔ اس لیے ہر آدمی اپنے انٹرسٹ کے لیے دوڑ رہا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے اس دوڑ میں کسی کے پاس دوسرے کے خلاف سوچنے کا وقت نہیں۔ کسی کے پاس دوسرے کے خلاف دشمنی اور سازش کرنے کا وقت نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دشمنی کا لفظ دور جدید کی ڈکشنری سے عملاً حذف ہوچکا ہے۔ اب اگر کوئی کسی کا دشمن بنتا ہے تو وہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کو’’پتھر‘‘ مار کر اس کو مشتعل کردیا جائے۔ اگر آپ آبیل مجھے مار کی سیاست اختیار کرکے کسی کے ایگو (ego)کو چھیڑ دیں تو وہ ضرور آپ کو سینگ مارے گا۔ اگر آپ مکمل طور پر پر امن بن جائیں تو کوئی شخص نہ آپ کا دشمن ہوگا، اور نہ کوئی شخص آپ کے خلاف سازش کرے گا۔
ایک حدیث رسول موجودہ زمانے میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتی ہےالْفِتْنَةُ نَائِمَةٌ لَعَنَ اللهُ مَنْ أَيْقَظَهَا(کنز العمال، حدیث نمبر 30891)۔ یعنی، فتنہ سویا ہوا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو جو اس کو جگائے— ہوش مندی کے ساتھ زندگی گزاریے، اور پھر آپ کو کسی سے دشمنی کا تجربہ نہ ہوگا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انتہا پسندی نہیں
ایک مغربی مصنف لینس آرم اسٹرانگ (Lance Armstrong) کی ایک کتاب چھپی ہے۔ یہ کتاب اسپورٹس اور اس کے شائقین کے بارے میں ہے۔ اِس کتاب کا فرانسیسی نام یہ ہے
Tour de France.
کتاب کے مصنف نے بتایا ہے کہ اسپورٹس کے شائقین کی یہ نفسیات ہے کہ وہ اپنی قوم کے جیتنے والوں سے جذباتی طورپر محبت کرتے ہیں، اور اگر وہ ہار جائیں تو اسی شدت کے ساتھ وہ اُن سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ— عوام یا تو آپ سے محبت کرتے ہیں یا آپ سے نفرت۔ اِس معاملے میں ان کے یہاں کوئی درمیانی حالت نہیں
Either the public loves you or hates you. There is no such thing as a happy middle ground.
عوامی نفسیات کے بارے میں یہ بیان بالکل درست ہے۔ عام لوگ محبت اور نفرت دونوں کے معاملے میں سخت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک تباہ کن عادت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ محبت اور نفرت کو عقل کے تابع کیاجائے، نہ کہ جذبات کے تابع۔
حدیث میںآیا ہے کہ دوستی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دوست کبھی تمھارا دشمن بن جائے۔ اور دشمنی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دشمن کبھی تمھارا دوست بن جائےأَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا(سنن الترمذی، حدیث نمبر1997)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک نہایت حکیمانہ ہدایت ہے۔ دنیا میں دوستی اور دشمنی دونوں عارضی چیزیں ہیں۔ اِس معاملے میں ضروری ہے کہ آدمی اعتدال پسندی کا رویہ اختیا رکرے، نہ کہ انتہا پسندی کا رویہ۔ اعتدال پسندی کا رویہ ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، اور انتہا پسندی کا رویہ ہمیشہ مہلک نتیجے کا سبب بنتا ہے۔
محبت کے بجائے نفرت
’’میں مراد آباد میں پیدا ہوا۔ پھر دس برس بجنور میں رہا ۔ 14 برس دہلی میں اور اب35 برس سے حجاز میں ہوں۔ حضرت شاہ عبد العزیز کے فتوے کی بنا پر میں ہندستان کو دارالحرب جانتا تھا اور اس کے قیام کو حرام۔ اسی نظریہ کے تحت انگریزی دور میں ہندستان سے ہجرت کی، بلکہ ہجرت شرعی سے بھی کچھ زیادہ۔ یہ معاملہ میری نظر میں اتنا سنگین تھا کہ حجاز آنے کے بعد دوبارہ ہندستان واپس جانے کے تصور کوبھی میں نا جائز خیال کرتا تھا ۔ ایک بار میں بیوی کے ساتھ حج کے لیے گیا ہوا تھا۔ عرفات کا میدان تھا اور عصر و مغرب کے درمیان کا وقت۔یہ وقت میدان عرفات میں گناہوں کی بخشش کا ہوتا ہے، میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ یہ گنا ہوں کی معافی کا وقت ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ حقوق العباد کا ہوتا ہے۔ مجھ سے تمہارے حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہی ہوئی ہو اس کو معاف کردو۔ بیوی نے کہا کہ ایک شرط ہے ۔ وہ یہ کہ تم مجھ کو ہندستان لے جاکر ایک بار مجھے میرے عزیزوں سے ملادو۔ ہندستان کا نام سن کر میرے ہوش اڑ گئے ۔ میں اور ہندستان ۔ پھر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ ایک طرف دوزخ ہو،ا ور دوسری طرف ہندستان تو تم دونوںمیں سے کس کو ترجیح دوگے۔ اس کے بعدمیں نے جوفیصلہ کیا وہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں ‘‘۔
یہ ایک بزرگ کی خود نوشت کہانی کا ایک حصہ ہے، جو انھوں نے دہلی کے ایک اردو روزنامہ (5 اگست 1991ء) میں شائع کی ہے ۔ یہ کوئی ایک کہانی نہیں، اس قسم کی ان گنت کہانیاں ہیں، جو ساری دنیا میں بکھری ہوئی ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں ایسے بے شمار لوگ پیدا ہوئے، جنھوں نے غیرمسلم قوموں کو اسلام کا حریف سمجھ کر ان سے نفرت کی ، مگر وہ ان کو اسلام کا مدعو اور مخاطب سمجھ کر ان سے محبت نہ کر سکے۔ ان خیالات کے تحت بے شمار لوگ ایسی ہجرت اور جہاد میں مصروف رہے، جس کا کوئی فائدہ نہ دینی صورت میں نکلنے والا تھا اور نہ دنیوی صورت میں ۔
کیسی عجیب بات ہے۔ لوگوں نے ہندستان کو دارِحرب سمجھا، مگر وہ اس کو دارِدعوت نہ سمجھ سکے ۔ ہندؤوں کو انھوں نے غیر قوم قرار دیا،مگروہ ان کو مدعو قوم قرار نہ دے سکے۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں کو لوگوں نے شیطان کے بندے کہہ کر ان کے خلاف جہاد کیا، مگر وہ ان کو خدا کے بندے سمجھ کر ان کو خدا سے قریب لانے کی کوشش نہ کر سکے ۔ انھوں نے مسلم حکمرانوں اور بادشاہوں کو ظالم ٹھہرا کران کی ہلاکت کے منصوبے بنائے، مگر وہ ان کو اپنا بھٹکا ہوا بھائی جان کر ان کی اصلاح کی خیر خواہانہ کوشش نہ کر سکے۔ کیسی عجیب تھی یہ ہجرت اور کیسا عجیب تھا یہ جہاد۔ اس عجیب و غریب ہجرت اور جہاد کے نتیجہ میں اگر موجودہ دنیا میں اسلام کو غلبہ حاصل نہ ہو سکا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ۔
دشمن میں دوست
روایات میں آتا ہے کہ محرم3ھ میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غطفان کی جانب سفر کیا۔ اس سفر سے واپسی میں آپ ایک موقع پر ایک درخت کے نیچے تنہا لیٹ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس وقت مشرکین میں سے ایک شخص ادھر سے گزرا۔ وہ آپ کو اکیلا دیکھ کر آپ کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تلوار تھی۔ اس نے کہاکہ اے محمد، تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس کے بعداس نے تلوار رکھ دی اور آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ اب بتائو کہ تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔اس نے کہاکہ آپ بہتر تلوار لینے والے ہیں۔ آپ نے اس سے یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ کبھی آپ کے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔ اس کے بعد وہ اپنے قبیلہ والوںکے پاس گیا اور کہا کہ میں تمھارے پاس سب سے اچھے انسان سے مل کر آرہا ہوںجِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ (مسند احمد، حدیث نمبر 15190؛ سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 2504)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
دوسری روایت کے مطابق، اعرابی کایہ کہنا اس کے قبیلہ والوں کے لیے اسلام سے قربت کا سبب بن گیا۔ چنانچہ پورا کا پورا قبیلہ آپ کا ساتھی بن گیا (مغازی الواقدی، جلد1، صفحہ 196)۔ جس آدمی نے آپ کی جان لینے کا ارادہ کیا تھا، آپ کے حسنِ اخلاق کے نتیجہ میں اس نے اپنے قبیلہ کے تمام آدمی کو آپ کا ساتھی بنا دیا ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔ ایک نفسِ لوّامہ (ضمیر) اور دوسرے، نفسِ اماّره (انانیت)۔ یہ دونوں صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہیں۔ اب اگر آپ فریق ثانی کے نفسِ لوّ امہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا انسانی جزء آپ کے حصہ میں آئے گا۔ اور اگر آپ فریق ثانی کے نفسِ اماّرہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا حیوانی جزء آپ کے حصہ میں آئے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ آپ آدمی کے وجود کے انسانی حصہ کو جگائیں ۔ اس لیے آپ نہ صرف اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے، بلکہ بروں کے ساتھ بھی آپ ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آدمی کی چھپی ہوئی فطرت جاگتی تھی۔ اور آخر کار وہ آپ کا ساتھی بن جاتا تھا۔
موجودہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل نہیں کرتے کہ بروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو۔ وہ ہمیشہ ردِّ عمل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کا طریقہ صرف فریقِ ثانی کی انانیت کو جگانے کا باعث بنتا ہے ۔ خدا کے بندوں کے لیے ان کے پاس’’ معافی‘‘ نہیں، البتہ ان کے پاس ’’نفرت ‘‘ کافی مقدار میں موجود ہے، جس کو وہ لوگوں کے اوپر انڈیلتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو خدا کے اس باغ میں صرف کانٹے ملیں گے ۔ وہ اس باغ کے پھولوں کے مالک نہیں بن سکتے۔ یہی قانونِ قدرت کا فیصلہ ہے۔
صبر و اعراض کا کرشمہ
جناب محمد کلیم اللہ صاحب مدر اس کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے مکمل حوالے کے ساتھ مدراس کے دو تقابلی واقعات ہمیں لکھ کر بھیجے ہیں۔ ان واقعات میں بہت بڑا سبق ہے۔ موصوف کا پتہ یہ ہے
Mohammad Kalimullah, 352, T.T.K. Road,
Royapettah, Madras 600014.
ان کا خط مورخہ28 ستمبر1991ء اور مورخہ12 اکتوبر1991ء ہمارے سامنے ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے اس کے انگریزی روز نامہ’’ ہندو‘‘ کی ایک کاپی روانہ کی ہے جس کے صفحہ3 پر مذکورہ واقعہ کی ر پورٹ شائع کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ مکمل طور پر اس صفحہ کے نیچے نقل کی جارہی ہے۔ خبریہ ہے
مدر اس میں ہر سال گنیش چتر تھی کا جلوس نکلتا ہے۔ پچھلے سال ہندؤوں کا یہ مذہبی جلوس 21 ستمبر1990ء کو نکلا تھا۔ یہ جلوس چلتا ہوا ٹریپلی کین ہائی روڈ میں داخل ہوا۔ یہ ایک مسلم علاقہ ہے ، یہاں مسجد کے سامنے باجا بجایا گیا اور اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔ اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے۔ آخر کار مسلمانوں اور پولیس کے درمیان با قاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجہ میں دو مسلمان مارے گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے۔ مسلمانوں کی کئی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ جانی اور مالی دونوں نقصان صرف مسلمانوں کا ہوا۔
گنیش چترتھی کا یہ جلوس اس سال بھی 21ستمبر1991ء کو نکالا گیا ۔ مگر اس سال مسلمانوں نے جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا۔ انھوں نے اس بار’’ اعراض کرو اور کامیابی حاصل کرو‘‘ کا فارمولا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلوس نے حسب معمول مسلم محلہ میں با جابھی بجایا اور اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے۔ مگر مسلمانوں نے نہ تو روٹ بدلنے کا مطالبہ کیا اور نہ وہ اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس سڑک پر چلتا ہوا گزرگیا ۔مسلمانوں کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ علاقہ میں مکمل طور پر امن قائم رہا۔
RESTRAINT PREVENTED LARGE SCALE VIOLENCE
Two organisations—Citizens for a Secular Society and Penn — a Centre for Women's Studies—have expressed deep concem over the Vinayaka Chathurthi procession on Sunday.
other sourceWords of another person or source
In a statement they said "the processions were far from religious in nature. What we found instead was an aggressive and communal campaign directed against members of the minority community. The processionists were boisterous young men, a number of them carrying sticks, shouting slogans like 'This is a Hindu nation and only Hindus can live here: ''We will destroy the mosque and build a Ram temple.'' Fearless Hindus, come forward as a battalion.
unverifiedAttribution could not be verified automatically
This show of communal viciousness made a mockery of a supposedly religious occasion. Members of the minority community, on the whole showed great restraint. It was this, combined with effective police presence that, in our opinion, prevented large scale violence.
The attention of the public is drawn to this transforming of a religious event by blatantly communal and political organisations. (The Hindu, Madras, September 26, 1991).
other sourceWords of another person or source
موجودہ واقعہ پر مدر اس کے انگریزی اخبار ہندو (26 ستمبر1991ء) نے جو رپورٹ چھاپی ہے وہ نہایت سبق آموز ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال کے برعکس، اس سال جلوس کے واقعہ پر فساد نہ ہونے کا خاص سبب مسلمانوں کا صبر و تحمل کا رویہ تھا۔ دو ہندو تنظیموں نے مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے ہندؤوں کے جلوس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جلوس والوں نے اقلیتی فرقہ کے خلاف قابل اعتراض نعرے لگائے جن کا مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے مدر اس پولیس کی بھی تعریف کی جس نے شہر کو نقض امن سے بچانے کی موثر تدابیر اختیار کیں (صفحہ3)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس خبر پر غور کیجیے۔ ایک ہی واقعہ ایک ہی محلہ میں دوبار ہوتا ہے ، ایک بار وہاں فساد ہو جاتا ہے، اور دوسری بار فساد نہیں ہوتا۔ اس فرق کا سبب جلوس والوں کا رویہ نہیں ہے، بلکہ محلہ والوں کا رویہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فساد کا ہونا یانہ ہونا تمام تر محلہ والوں کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہیں تو ایک قسم کا رد عمل اختیار کر کے معاملہ کو فساد تک پہنچا دیں اور چاہیں تو دوسرے قسم کارد عمل اختیار کر کے فساد کی جڑ کاٹ دیں ۔
دوسرا سبق اس میں یہ ہے کہ مسلمان اگر ان مواقع پر مخالفانہ رد عمل کا مظاہرہ کریں تو معاملہ پولیس اور مسلمان کا بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو معاملہ جلوس والوں کا اور پولیس کا رہتا ہے۔ ایک صورت میں مسلمان پولیس کے نشانہ پر آجاتے ہیں اور دوسری صورت میں جلوس والے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ تحمل کا رویہ نہایت اثر کرنے والا رویہ ہے۔ چنانچہ مدر اس کے مذکورہ واقعہ پر جب مسلمانوں نے تحمل کا رویہ اختیار کیا تو خود اکثریتی فرقہ کے اندر سے ایسے افراد اٹھے جنھوںنے جلوس والوں کی مذمت کی۔ اور مسلمانوں کی شرافت کا واضح طور پر اعتراف کیا۔ اخبارات میں مسلمانوں کو سراہا گیا اور دوسرے گروہ کو کنڈم کیا گیا۔
یہ سارا کر شمہ صرف ایک چیز کا تھا، اور وہ صبر ہے، جس کو اخبار’’ہندو‘‘نے اپنے تبصرہ میں برداشت (restraint) کا نام دیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سماجی ہم آہنگی
(انگریزی سہ ماہی میگزین السلام، نئی دہلی سے موصول ہونے والے سوالنامے کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ الرسالہ، ستمبر2003 میں چوں کہ سوال کے بغیر صرف جوابات شائع ہوئے تھے۔ اس لیے یہاں بھی صرف جوابات ہی نمبر وار نقل کیے جارہے ہیں)۔
۱
مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے۔ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوز کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور ایک کلچر کا سماج بنایا جائے۔ مگر یہ کوئی فارمولا نہیں ۔ کیوں کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعدد اور تنوع کے اصول پر بنایا ہے ۔ یہی تعدد اور تنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا حصہ ہو، اُس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ۔ ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچر ل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنٰی ہے جتنا کہ مادّی دنیا کے تنوع کو ختم کر کے یکساں مادّی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔اس سلسلے میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب یکساں ہیں ۔ اس نظریہ کے حامی، لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں ۔
اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کردیں ، اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہوجائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنٰی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذہبوں اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں ۔ یہ فارمولا یقینی طور پر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے ۔ وہ عملی طور پر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں ، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکر میں ارتقاء کا ذریعہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابل عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جو رواداری (tolerance)کے اصول پر مبنی ہے۔
اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ— ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو
Follow one and respect all.
۲
ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو غلط فہمیاں موجود ہیں ان کی ذمہ داری ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے رہنماؤں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کے تحت دونوں طرف کے رہنماؤں نے اپنے اپنے عوام کو وہ ذہن دیا جس کو شناخت(identity)کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی نے اپنے قومی وجود کے لیے شناخت کو اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔
اس کو پختہ کرنے کے لیے ہندو رہنما ؤں نے یہ نظریہ بنایا کہ مسلمان مَلچھ ہیں اور مسلم رہنماؤں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ ہندو کافر ہیں۔
میرے نزدیک یہ دونوں نظریہ یکساں طور پر غلط ہے ۔ ہندو کو دل سے یہ ماننا چاہیے کہ مسلمان انھیں کی طرح انسان ہیں ۔ اسی طرح مسلمانوں کو دل سے یہ ماننا چاہیے کہ ہندو انھیں کی طرح انسان ہیں ۔ جب تک سوچ میں یہ تبدیلی نہ آئے ہماری سماجی زندگی میں معتدل تعلقات کا ماحو ل قائم نہیں ہوسکتا۔
اس معاملہ کا ایک اور پہلو ہے ، اور اس کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں سے ہے ۔ مسلمان اپنے عقیدہ کی رو سے داعی ہیں اور ہندو اُن کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
داعی مدعو کے اس رشتہ کا تقاضا ہے کہ مسلمان یک طرفہ طور پر ذمہ داری لیں کہ انہیں شرعی حکم کے مطابق ، تالیف قلب کے اصول پر عمل کرنا ہے۔ انہیں یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہندوؤں کی شکایتوں کو یک طرفہ طور پر اپنے او پر لے لیں تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان وہ معتدل ماحول قائم ہو جو دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے۔
یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ ہندوؤں کی کئی شکایتیں جن کو مسلمان’’غلط فہمی‘‘ قرار دیتے ہیں اور غلط فہمی دور کرنے کے نام پر ایک غیر مؤثر مہم لمبی مدت سے چلارہے ہیں ۔ اس کو انہیں مکمل طور پر ترک کردینا چاہیے۔ کیوںکہ جو معاملہ ہندوؤں کے نزدیک صحیح فہمی کا ہو اس کا خاتمہ اس طرح نہیں ہوسکتا کہ ہم اس کو غلط فہمی کہہ کر نظر انداز کردیں ۔
مثال کے طور پر مسلم بادشاہوں کی کئی کارروائیوں پر ہندوؤں کو بجا طور پر شکایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کھلے طور پر ان کارروائیوں کی مذمت کریں ۔وہ کھلے طور پر یہ کہیں کہ ہندستان کی مسلم حکومتیں خاندانی حکومتیں تھیں،نہ کہ اسلامی حکومتیں ۔ اس کے سوا کسی اور طریقہ سے اس معاملہ کا خاتمہ ممکن نہیں ۔
۳
اقلیت واکثریت کے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں پہل مسلمانوں کو کرنا چاہیے ۔ مثلاً مسلمانوں کے اندر دوقومی نظریے کے بجائے ایک قومی نظریہ کو فروغ دینا۔ مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ سوچ کو ختم کرکے قومی سوچ (national thinking) پیدا کرنا ، اسی طرح مسلمانوں کے اندر سے اس ذہن کو مکمل طور پر ختم کرنا کہ وہ ہندوؤں کے ایک طبقہ کو دشمن ہندو اور دوسرے طبقہ کو سیکولر ہندو سمجھتے ہیں ۔
وہ الیکشن میں دھوم مچاتے ہیں کہ مفروضہ دشمن ہندو ہاریں اور سیکولر ہندو جیتیں ۔ اس قسم کی سیاست دین اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ مسلمان اس قسم کی تفریقی سیاست کا تحمل نہیں کرسکتے ۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس غیر دانشمندانہ سیاست کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا جائے۔
اس سلسلہ میں دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ (interaction)زیادہ سے زیادہ بڑھا یا جائے۔ قدیم زرعی دور میں یہ میل ملاپ فطری طور پر موجود تھا۔ مگر اب صنعتی دور میں یہ خطرناک حد تک کم ہوگیا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں ۔ وہ ہندو اسکول اور مسلم اسکول کی تفریق کے بغیر ہر تعلیمی ادارہ میں داخلہ لے کر پڑھیں ۔
مسلمانوں میں اگر بھر پورطور پر اس قسم کی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہوجائیں تو اس کا دو یقینی فائدہ ان کو حاصل ہوگا ۔ اوّل یہ کہ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے دوران غیر مسلموں سے ان کا میل ملاپ بڑھے گا، اور interaction اپنے آپ میں ہر مسئلہ کا حل ہے ۔
دوسرے یہ کہ مسلمان جب تعلیم میں آگے بڑھیں گے تو اس کے بعد فطری طور پر وہ دفتروں اور کمپنیوں اور تجارتی اداروں میں بڑی تعداد میں پہنچیں گے۔ اس طرح وہ دوری اپنے آپ ختم ہوجائے گی جو زمانی تبدیلی کے نتیجہ میں پیدا ہوگئی ہے۔
۴
پُر امن بقائے باہم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ لازم کردیا گیا کہ وہ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ پُر امن بقائے باہم کا ماحول سماج میں قائم رکھیں ۔ اسی قربانی کا نام صبر ہے۔
صبر کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تب بھی مشتعل نہ ہونا۔ دوسرے اگر نادانی کر یں تب بھی اس سے اعراض کرنا ۔ دوسرے اگرستائیں تب بھی اس کو برداشت کرلینا ۔ دوسرے اگر نزاع کھڑی کریں تو پہلے ہی مرحلے میں صلح کر کے اس کا خاتمہ کردینا ۔ دوسرے اگر نقصان پہنچائیں تو دوسروں سے لڑنے کے بجائے خدا سے اس کی تلافی کی امید رکھنا ۔ دوسرے اگر فساد کریں تب بھی ان کے لیے اصلاح کی دعائیں کرنا ۔ دوسرے اگر کاٹنے کی کوشش کریں تب بھی ان سے جڑے رہنا ۔ دوسرے اگر نہ دیں تب بھی ان کو دینے کی کوشش کرنا ۔ دوسرے اگر ظلم کریں تب بھی انہیں معاف کردینا ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں اس حد تک گئے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں آپ تقریباً سولہ ماہ تک کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے تا کہ وہاں بسنے والے یہودیوں سے غیر ضروری ٹکراؤ نہ پیش آئے۔
قرآن میں اس معاملہ میں یہ اصول مقرر کیا گیا — تمہارے لیے تمہارادین اور ہمارے لیے ہمارا دین (109:6)۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے جو منشور جاری کیا ، اُس میں آپ نے یہ درج فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین اور یہود کے لیے یہود کا دینلِلْيَهُودِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمَيْنِ دِينُهُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 107)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس مقصد کے لیے یہ اعلان کیا گیاکہ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں ۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں ۔ تمام انسان خدا کی عیال ہیں ۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں دنیوی تعلقات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدّس میں اس طرح نظم کیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
مثبت سوچ، منفی سوچ
مثبت سوچ
ایک ہندستانی کو پہلی بار جاپان جانے کا موقع ملا۔ ایک روز انھوں نے اپنے جاپانی میزبان سے ازراہِ ہمدردی کہا’’آپ لوگوں کے ساتھ امریکا نے بڑا ظلم کیا۔ اس نے تاریخ کے پہلے ایٹم بم آپ کے ملک پر گرائے اور آپ کے دو شہروں کو کھنڈر بنادیا۔‘‘
’’نہیں کوئی ظلم نہیں‘‘ جاپانی نے کہا۔ ’’یہ بم تو ہمارے لیے رحمت ثابت ہوئے۔ ہمارے یہ شہر قدیم طرز پر آباد تھے۔ تنگ اور خم دار سڑکیں، فرسودہ مکانات، گندے محلّے، ان کا نام تھا ہیرو شیما اور ناگاساکی۔ معمولی حالات میں ہم نئے طرز پر ان کی تعمیر نہیں کرسکتے تھے۔ مگر جب جنگ نے اچانک ان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا تو ہم کو موقع مل گیا اور ہم نے قدیم ملبہ پر انتہائی جدید قسم کے منصوبہ بند شہر آباد کردیے‘‘۔ مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے۔ وہ ہر بربادی میں اپنے لیے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈ لیتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے۔ وہ ہر بربادی میں اپنے لیے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈھ لیتی ہے۔
مثبت سوچ کی ضرورت
مثبت سوچ (positive thinking) کا مطلب کیا ہے۔ اس سے مراد وہ سوچ ہے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو۔ جس میں شکایت اور احتجاج کے بجائے، مکمل طور پر حقیقتِ واقعہ کی بنا پر رائے قائم کی جائے۔ مثبت سوچ وہ ہے جو ہر قسم کے فخر اور تعصب سے خالی ہو۔ مثبت سوچ دوسرے الفاظ میں مبنی بر حقیقت سوچ کا نام ہے۔
مثبت سوچ کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ منفی سوچ سے منفی شخصیت بنتی ہے، اور مثبت سوچ سے مثبت شخصیت۔ مثبت سوچ فطرت کی آواز ہوتی ہے، اور منفی سوچ ابلیس کی آواز۔ مثبت سوچ انسان کو پاکیزہ شخصیت بناتی ہے، اور منفی سوچ اس کی شخصیت کو آلودہ شخصیت بنادیتی ہے۔ مثبت سوچ والے آدمی کو جنت میں بسانے کے لیے منتخب کیا جائے گا، اور منفی سوچ والا آدمی ہمیشہ کے لیے جنت میں داخلے سے محروم رہے گا۔
منفی سوچ سے بچنا ، اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیارکرنا، اتفاق سے نہیں ہوتا۔ یہ خصوصیت آدمی کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ اس معاملہ میں بہت زیادہ باشعور ہو، جب وہ شعوری طور پر اپنے آپ کو ایسا بنانے کی کوشش کرے۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی برابر اپنا محاسبہ کرتا رہے۔
مثبت سوچ کا معاملہ، مثبت سوچ برائے مثبت سوچ نہیں ہے۔ یعنی مثبت سوچ بذاتِ خود اصل مقصود نہیں ہے، بلکہ مثبت سوچ کا فائدہ یہ ہے کہ مثبت سوچ والا آدمی ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے بچ جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کوصرف ضروری باتوں میں مشغول کرے، وہ غیر ضروری باتوں میں اپنے وقت کو ضائع نہ کرے۔ مثبت سوچ آدمی کو بامقصد انسان بناتی ہے۔ مثبت سوچ آدمی کو ایسی مصروفیت سے بچاتی ہے جس کا کوئی فائدہ ، نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔
منفی سوچ کا نقصان
تمام ناکامیوں کا سبب منفی سوچ ہے اور تمام کامیابیوں کا سبب مثبت سوچ— یہی ایک لفظ میں زندگی کا خلاصہ ہے۔ منفی سوچ والا آدمی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا اور اگر وہ بظاہر کامیاب دکھائی دے تو اس کی کامیابی وقتی ہوگی۔ اس کے برعکس مثبت سوچ والے آدمی کے لیے کامیابی پائیدار بھی ہے اور یقینی بھی۔
منفی سوچ کیا ہے اور مثبت سوچ کیا۔ منفی سوچ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جانے مگر وہ دوسروں کو نہ جانے۔ وہ مسائل کو جانے مگر وہ مواقع کو نہ جانے۔ وہ حال کو جانے مگر وہ مستقبل سے بے خبر ہو۔ وہ اپنے قریبی حالات کو جانے مگر وہ دور کے حالات سے باخبر نہ ہو۔
منفی سوچ والے آدمی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے ذہنی خول میںجیتا ہے۔ اُس کے ذہن کے اندر جو خیال آجائے اُسی کو وہ اصل حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگی کی بنا پر اس قابل نہیں ہوتا کہ اُس کے ذہن کے باہر جو حقیقتیں ہیں اُن کو جانے اور ان کی روشنی میں زیادہ درست رائے قائم کرے۔ منفی سوچ دراصل بند سوچ کا دوسرا نام ہے۔
اس کے مقابلہ میں مثبت سوچ وہ ہے جو کھُلی سوچ ہو۔ مثبت سوچ والا آدمی تعصبات سے آزاد ہوکر سوچتا ہے۔ وہ معاملات میں بے لاگ رائے قائم کرتا ہے۔ اس کی رائے ہمیشہ انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ وہی سوچتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو سوچنا چاہیے اور وہی بولتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو بولنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مثبت سوچ والے آدمی کی راہیں کبھی بند نہیں ہوتیں، جب کہ منفی سوچ والے آدمی کو ہر طرف اپنی راہیں بند دکھائی دیتی ہیں۔
منفی سوچ مایوسی کی سوچ ہے اور مثبت سوچ امید کی سوچ۔ منفی سوچ راستہ کو بند حالت میں دیکھتی ہے، جب کہ مثبت سوچ والے آدمی کو ہر طرف راستے کھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مثبت سوچ بصیرت ہے اور منفی سوچ بے بصیرتی۔
مثبت سوچ، منفی سوچ
قرآن کی سورہ الاحزاب میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ایک ایسی چیز دی گئی ہے، جو سارے زمین وآسمان کو نہیں دی گئی، اور وہ امانت ہے، یہی امانت وہ چیز ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے۔ امانت سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو فری تھنکنگ (free-thinking) کہاجاتا ہے، یعنی آزادانہ طورپر سوچنا اور آزادانہ طورپر اپنے عمل کی پلاننگ کرنا۔ اس امانت کی صحیح ادائیگی انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہے، اور اس امانت کی ادائیگی میں ناکام ہونا انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے (33:72-73)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس موقع پر قرآن میں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ، ظلوم اور جہول، یعنی غیر عادل اور نادان۔ انسان اپنی آزادی کو غلط استعمال کرنے کی بنا پر بہت جلد عدل (justice) سے ہٹ جاتا ہے، اور اسی طرح وہ آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر دانش مندی (wisdom) کے راستے سے ہٹ جاتاہے۔ یہی انحراف (deviation) اس کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کی اصلاح کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنی فطرت (nature) سے نہ ہٹے۔ اگر آدمی اپنے آپ پر کنٹرول کرے اور فطرت کے راستے سے نہ ہٹے تو فطرت خود ہی اس کی راہ نما بن جائے گی۔ فطرت سے ہٹنا آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے، اور فطرت پر قائم رہنا آدمی کو کامیاب بناتا ہے۔
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی آزمائش اس بات میں ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح انتخاب (right choice) کو لے، وہ اپنے آپ کو غلط انتخاب سے بچائے۔ صحیح انتخاب اور غلط انتخاب کا یہ معاملہ فکر سے بھی تعلق رکھتا ہے، اور عمل سے بھی۔
فکرکے اعتبار سے صحیح انتخاب وہ ہے جس کا نمونہ آغازِحیات کے وقت فرشتوں نے اختیار کیا، اور غلط انتخاب وہ ہے جس کو ابلیس نے اپنا شیوہ بنایا۔ فرشتوں سے جب کہاگیا کہ انسان کے آگے جھک جاؤ تو وہ جھک گئے۔ اس کے برعکس، ابلیس اس پر راضی نہ ہوا۔ اس نے یہ اعتراض کیا کہ انسان کو خلیفة الارض کیوں بنایا گیا۔ یہ اعتراض انتخابی سوچ (selective thinking) کی ایک مثال تھی۔ ابلیس جنوں کا سردار تھا۔ جن کو خدا نے اس سے زیادہ چیز دی تھی، یعنی خلافت کائنات۔ لیکن ابلیس نے اس پہلو کو نظر انداز کیا اور صرف یہ سوچا کہ انسان کو زمین کی خلافت کیوں دی گئی۔
یہی برائی پوری تاریخ میں رائج ہے۔ انسانوں کی ننانوے فیصد سے زیادہ تعدادمنفی سوچ میں پڑی ہوئی ہے، یعنی انتخابی سوچ۔ ملے ہوئے کو نظر انداز کرنا، اور نہ ملے ہوئے کو مسئلہ بنا کر اس کو اپنی سوچ کا محور بنانا۔
اس معاملے میں مسلمانوں کا استثنا نہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ہر قسم کے بہترین مواقع پائے ہوئے ہیں، جس طرح دوسرےلوگ ان کو پائے ہوئے ہیں۔ لیکن فطرت کے قانون کے تحت ایسا ہے کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو مسلمانوں کو نہیں ملی۔ مسلمان یہ کررہے ہیں کہ اسی نہ ملے ہوئے کو اپنی سوچ کا مرکز ومحور بنائے ہوئے ہیں اور ملے ہوئے کو نظر انداز کررکھا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کی دلدل میں پڑے ہوئے ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ شکر سے محروم ہیں جو کسی انسان کی سب سے بڑی عبادت ہے۔
مسلمانوں کی اس منفی سوچ کا سبب کیا ہے، وہ ہے 99 فی صد کو نظر انداز کرنا، اور ایک فی صد کو لے کر اپنی رائے بنانا۔ یہ نہایت برا طریقہ ہے۔ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہوں، ان کو اس کی سب سے بڑی قیمت یہ دینی پڑے گی کہ ان کے اندر مثبت شخصیت نہ بنے— مثبت شخصیت سے محرومی کا مطلب ہے اللہ کی رحمت سے محرومی۔
صحیح طرزِ فکر
صحیح طرزِ فکر (right thinking) حکیمانہ طرزِ فکر کی ایک اعلیٰ قسم ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم جس دنیا میں جیتے ہیں، یا صبح و شام گزارتے ہیں، اس میں چیزیں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ مخلوط (mixed) حالت میں ہیں۔ اس بنا پر بظاہر چیزوں کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چیزوں کے بارے میں صحیح رائے اس وقت قائم ہوتی ہے، جب کہ آپ چیزوں کو الگ الگ کرکے دیکھ سکیں۔ اس طرح تجزیاتی مطالعے کے بغیر آدمی کے اندر صحتِ فکر پیدا نہیں ہوسکتی، وہ مبنی بر واقعہ سوچ کا حامل نہیں بن سکتا۔
مثلاً ایک شخص اپنے بارے میں یا اپنی کمیونٹی کے بارے میں یہی کہے گا کہ ہمارے اوپر ظلم ہورہا ہے۔ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ تمہارے باپ دادا کا جو اسٹینڈرڈ تھا، کیا تمھارا اسٹینڈرڈ اس سے کم ہے۔ وہ جواب دے گا کہ نہیں اس سے تو بہت اچھا ہے۔ مثلاً میرے باپ دادا بائیسکل پر سفر کرتے تھے، آج میں کار پر سفر کرتا ہوں۔ میرے دادا کے زمانے میں بچے معمولی مدرسے میں پڑھتے تھے، آج وہ شہر کے ایک اچھے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ میرے دادا کچے گھر میں رہتے تھے، آج میں اور میرے بچے پکے گھر میں رہ رہے ہیں، وغیرہ۔ اب اگر آپ اس سے پوچھیں کہ جب تمھاری فیملی کا اسٹینڈرڈ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے، تو ظلم کہاں ہورہا ہے۔ اب وہ حیران ہوجائے گا، اور کہے گاکہ میں نے اس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے۔ اصل مسئلہ خارج میں نہیں ہے، بلکہ داخل میں ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح طرز فکر نہیں ہے۔ اس لیے لوگ شکایت میں جی رہے ہیں، حالاں کہ انھیں شکر میں جینا چاہیے۔ صحیح طرزِ فکر تجزیاتی فکر کا نام ہے۔ اگر آپ کے اندر ڈی ٹیچڈ تھنکنگ (detached thinking)ہو، اگر آپ تجزیاتی انداز میں سوچنا جانتے ہوں، تو آپ درست طرزِ فکرکے حامل بن سکتے ہیں۔
ہر چیز پرچۂ امتحان
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئےفرمایاتَعْلَمَ أنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 77)۔یعنی، یاد رکھو، جو تم کو ملا، وہ تم سے کھویا جانے والا نہ تھا۔ اور جو کچھ تم سے کھویا گیا،وہ تم کو ملنے والا ہی نہ تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس حدیثِ رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ نہ اتفاقاً ملتا ہے اور نہ بطور انعام۔ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف پرچۂ امتحان کے طورپر ملتا ہے۔ خدا کے فیصلے کے تحت، ہر عورت اور مرد کو کچھ چیزیں دی جاتی ہیں، تاکہ اُن چیزوں میں آزما کر دیکھا جائے کہ آدمی کا رویّہ کیسا تھا۔ خدا کبھی کوئی چیز دے کر امتحان لیتا ہے کہ آدمی نے اُس پرشکر کیا، یا اُس کو پاکر وہ گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا۔ اِسی طرح کوئی چیز چھین کر خدا آدمی کا امتحان لیتا ہے کہ اُس سے محروم ہو کر اُس نے صبر کیا، یا وہ شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan)ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کی نظر اِس پر نہیں ہونی چاہیے کہ اُس نے کیا پایا اور اُس سے کیا چھینا گیا۔ اِس کے بجائے اُس کو اپنا سارا دھیان اِس پر لگانا چاہیے کہ اُس کو جن حالات میں رکھ کر خدا نے اُس کا امتحان لینا چاہا تھا، اُس میں اُس نے مطلوب رسپانس (response) دیا، یا وہ مطلوب رسپانس دینے میں ناکام ہوگیا۔
یہ زندگی کا مثبت تصور ہے۔ یہ زندگی کا مثبت فارمولا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا ہوجائے، وہ کبھی ٹنشن میں مبتلا نہیں ہوگا۔ وہ کسی بھی حال میں مایوسی یا تلخی کا شکار نہیں ہوگا۔ کوئی تجربہ اُس کو زندگی کی تعمیری شاہراہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہوگا۔ وہ کبھی فکری انتشار کا شکار نہ ہوگا۔ اُس کی زندگی میں کبھی یہ حادثہ پیش نہیں آئے گا کہ اُس کی زندگی حالات کے بھنور میں پھنس کر رہ جائے اور وہ آخری منزل تک نہ پہنچے۔
مثبت طریقہ
قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوںیکساں نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے تم برائی کابدلہ اچھا ئی کے ذریعہ دووَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (41:34 )۔ یہ بات قرآن میں مختلف الفاظ میں بار بار کہی گئی ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کامطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کوہمیشہ مثبت ردِعمل کاثبوت دینا چاہیے۔ انھیں ہر حال میںمنفی ردِعمل سے بچنا چاہیے۔ ان کاسلوک دوسروں کے ساتھ عام حالات میں بھی بہتر ہونا چاہیے۔ او راگرکوئی شخص یاگروہ اپنی طرف سے برے سلوک کامظاہرہ کرے تب بھی خداپر ستوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ ردِعمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس وقت بھی وہ بااصول انسان کا ثبوت دیں۔برائی کے جواب میں بھی وہ اپنے اچھے سلوک پر قائم رہیں۔
مذکورہ آیت کی تشریح میں حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیںأَمَرَ اللهُ المؤمنين بالصبر عِنْدَ الْغَضَبِ وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ ( تفسیر ابن کثیر،جلد7، صفحہ 165)۔ یعنی، اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب انھیں غصہ آجائے تو وہ صبرو برداشت سے کام لیں۔ ان کے ساتھ جب کوئی شخص جہالت کرے تو وہ بردباری کا طریقہ اختیار کریں۔ اور جب ان کے ساتھ کوئی شخص براسلوک کرے تو وہ اسے معاف کر دیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ا س اسلامی سلوک کو ایک لفظ میں مثبت سلوک کہا جاسکتا ہے ۔یعنی جوابی معاملہ نہ کرتے ہوئے ہر ایک سے معتدل معاملہ کرنا۔ دوسروں کی روش خواہ کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو ہمیشہ اعلیٰ انسانی سلوک پر قائم رکھنا۔
مومن وہ ہے جو برتر حقیقتوں میں جینے لگے۔ جس کے سوچنے کی سطح عام انسانوں سے اوپر اٹھ جائے۔ا یسے انسان کے اندر بے پناہ تحمل کی کیفیت پیداہوجاتی ہے۔ اس کو اندرونی طور پر اتنا سکون مل جاتا ہے کہ وہ باہر کے کسی بھی ناموافق واقعہ سے بے حوصلہ نہیں ہوتا۔جہاں لوگ غصہ کرتے ہیں وہاں اسے لوگوں کے اوپر ترس آتا ہے ، جہاں لوگ بھڑک جاتے ہیں وہاں وہ سمندر کی طرح پرسکون بنارہتا ہے۔
مصیبت کا مثبت پہلو
ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہےمَا دَعَا اللهَ الْمُؤْمِنُ بِدَعْوَةٍ إِلَّا وُكِّلَ بِحَاجَتِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُلَا تَعْجَلْ بِإِجَابَتِهِ فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ(حِلیۃ الاولیاء،جلد2، صفحہ327)۔یعنی، جب کوئی بندہ اللہ کو پکارتا ہے، تو جبریل فرشتہ کواس کی حاجت برآری کے لیے مقرر کردیا جاتا ہے، اوراللہ کہتا ہے کہ( اے جبریل) اس کی حاجت کو پورا کرنےمیںجلدی نہ کر، کیوں کہ مجھے یہ محبوب ہے کہ میں مومن بندے کی آواز کو سنوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ ایک مومن بندہ کی صوت (آواز) کو کیوں پسند کرتا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ اس کی صوت(voice) میں کوئی نغمہ (melody)ہوتا ہے۔ بلکہ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی بندہ مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتا ہے تو اس سے اس کی روحانی ارتقا (spiritual development) میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ کو یہ روحانی ارتقا پسند ہے، نہ کہ صوت کا نغمہ۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے اوپر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کی حساسیت (sensitivity) کو بڑھاتی ہے۔ حساسیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی قوتِ اخذ (grasp) بڑھ جاتی ہے۔ اس بنا پر ایسا آدمی ،اگر وہ منفی سوچ میں مبتلا نہ ہو تو وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے تجربے سے زیادہ سے زیادہ سبق لے، وہ چیزوں میں چھپی ہوئی حکمت کو زیادہ سے زیادہ دریافت کرسکے۔
مصیبت حساسیت کو بڑھاتی ہے، اور حساسیت آدمی کی قوت اخذ میں اضافہ کرتی ہے، اور قوت اخذ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے آدمی کی معرفت کو بہت زیادہ بڑھادیتی ہے۔ مصیبت بجائے خود کوئی مطلوب چیز نہیں، مگر اس کا نتیجہ (result) اس کو مطلوب بنا دیتا ہے۔ معرفت جسمانی اعضاء کی طرح ایک تخلیقی عطیہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک خود دریافت کردہ چیز (self-discovered item)ہے، اور دریافت کا یہ عمل (process) ہمیشہ ناخوش گواری کے راستے سے گزرتا ہے۔ معرفت کے حصول کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں۔
مثبت روش کا نتیجہ
اسلام کی ایک تعلیم قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہےوَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیم (41:34)۔یعنی،اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ،تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔قرآن کی اس آیت میں عام اجتماعی زندگی میں حسنِ اخلاق (good behaviour)کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ حسن اخلاق بلاشبہ ایک اہم اسلامی قدر (Islamic value)ہے۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عداوت کی نسبت سے ہے، نہ کہ نارمل تعلقات کی نسبت سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام ایک مشن ہے، پرامن دعوتی مشن۔ باعتبارِ حقیقت یہ مشن پوری طرح پرامن اور غیر سیاسی مشن ہے۔ لیکن کسی ماحول میں جب اس مشن کے لیے کام کیا جائے تو کچھ لوگ نظریاتی بنیاد پر اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان عملاً نزاع (controversy)کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے موقعے پر مدعو کی طرف سے داعی کی مخالفت شروع ہوجاتی ہے۔ مذکورہ قرآنی تعلیم اسی طرح کی نزاعی صورتِ حال کے بارے میں ہے۔
اس طرح کی صورتِ حال میں داعی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہرگز اپنے کلام میں منفی رد عمل (negative reaction) کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ بلکہ وہ یک طرفہ طور پر مثبت رسپانس (positive response)کی روش پر قائم رہیں۔ داعی اگر اپنے آپ کو منفی ردعمل سے بچائے، مکمل طورپر دونوں کے درمیان اعتدال کی فضا قائم رہے، تو فطرت اپنا کام کرے گی۔ فطری پراسس کے تحت مدعو کی نفسیات بدلنا شروع ہو جائے گی، یہاں تک کہ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ جو شخص بظاہر مخالف نظر آرہا تھا، وہ داعی کا حامی اور موافق بن جائے گا۔ منفی ردِّعمل مدعو کی ایگو (ego) کو بھڑکاتا ہے، مثبت رسپانس اس کو معتدل بنا دیتا ہے۔
ری ایکشن کا طریقہ
زندگی کے معاملے میں اصولی بات یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ دراصل ری ایکشن کا طریقہ ہے، اور ری ایکشن کا طریقہ کبھی بھی کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمیشہ ایک ری ایکشن کے بعد دوسرا ری ایکشن پیدا ہوتا ہے، اور اس طریق کار کے نتیجہ میں جو چیز وجود میں آتی ہے، وہ چین ری ایکشن (chain reaction)ہے، نہ کہ ری ایکشن کا خاتمہ۔ قدیم زمانے میں ٹرائبل ایج میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ لوگ برابر لڑتے رہتے تھے۔ اسلام نے یہ کیا کہ یک طرفہ طور پر امن کا طریقہ اختیار کرکے چین ری ایکشن کو ختم کردیا۔ اس کے بعد دنیا میں امن کا دور آیا۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا(41:34)۔ قرآن کی اس آیت میں جس طریقِ کا ر کا ذکر کیا گیا ہے، اس کو دوبارہ اختیار کیا جائے تو دوبارہ وہی نتیجہ حاصل ہوگا، جس کا مذکورہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے، یعنی جو بظاہر دشمن نظر آتا ہے ا س کا دوست بن جانا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لوگ اکثر اپنے حریف کی شکایت کرتے ہیں۔ لیکن غور کیجیے تو یہ ظلم نہیں ہوتا، بلکہ وہ چین ری ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے حریف کو پتھر مارا، اس کے بعد اس نے آپ کو بم مارا۔ آپ نے دوبارہ حریف کے خلاف کوئی کارروائی کی، اس کے جواب میں اس نے بھی کوئی کارروائی کی۔ اس طرح ایک چین ری ایکشن شروع ہوگیا، جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
تشدد کا خاتمہ جوابی تشددسے نہیں ہوتا۔ تشدد کے خاتمہ کی صرف ایک صورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ یک طرفہ طور پر تشدد کی کارروائی کرنا چھوڑدیں، آپ یک طرفہ طور پر خاموش ہوجائیں، آپ یک طرفہ طور پر امن کا طریقہ اختیار کرلیں۔
مثبت تجربہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کئی غزوات پیش آئے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو احد کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں میں سے ستر آدمی مارے گئے تھے، اور ستر زخمی ہوئے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ بھی زخمی ہوگئے تھے۔ اس مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
فَأَثَابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِکَیْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَکُمْ وَلَا مَا أَصَابَکُمْ (3:153)۔ یعنی، پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ اس موقع پر قرآن میں یہ نصیحت کی گئی— تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
so that you might not grieve for what you lost,
یہاں رنجیدہ برائے رنجیدہ نہیں ہوسکتا۔ ضرور ہے کہ رنجیدہ نہ ہونے کا کوئی مثبت مقصد ہو۔ وہ مقصد یہ ہے کہ غزوہ ٔاحد کے موقع پر جو کچھ پیش آیا، وہ بظاہر ایک منفی واقعہ تھا، لیکن تم کو چاہیے کہ اس منفی واقعہ کو مثبت تجربہ میں بدلو۔ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے۔ ایسا اس طرح ہوسکتا ہے کہ لوگ خالص غیر متاثر ذہن کے تحت پورے معاملے پر سوچیں، اور خالص سوچ کے ذریعے اس نتیجے تک پہنچیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ، بلکہ وہ نئی زندگی کا آغاز ہے۔
مصیبت پر رنجیدہ نہ ہونا، کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی اپنی جسمانی مصیبت کو ذہنی مصیبت نہ بنائے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اس سے جو کچھ کھویا گیا، اس کے غم میں اپنا یہ حال کرلے کہ جو کچھ اب بھی اس کے پاس باقی ہے، اس سے غافل ہوجائے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کھوئے ہوئے کو فراموشی کے خانے میں ڈالے، اور جو کچھ اب بھی اس کے پاس بچا ہوا ہے، اس کو لے کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔ اس دنیا میں ہر ایک کو نقصان کا تجربہ ہوتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو بچے ہوئے کو جانے ، اور اس کی بنیاد پر اپنے لیے نئی زندگی کی تعمیر کرے۔ اسی کا نام دانش مندی ہے، اور یہی دانش مندی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔