Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

بے صبری نہیں

Urdu · 8 min read

میں نے اپنی پوری زندگی مطالعہ میں گزاری ہے۔میں نے جب انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ وہی انسان کامیاب ہوسکتاہے، جو مستقل مزاج ہو۔ لیکن جس کے اندر گراس ہاپر (grasshopper) والا مزاج ہو، یعنی جو مستقل مزاجی کے ساتھ کسی ایک چیز پر ٹک کر نہیں رہتا ہو، وہ ہر میدان میں ناکام ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستقل مزاجی سے انسان کو کامیابی ملتی ہے۔ کیوں کہ فطری قانون کے مطابق، اس د نیا میں کامیابی چند لمحوں کی محنت سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے صبر کے ساتھ لگاتار کوشش کرنا پڑتا ہے۔برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل ( 1874-1965) کا ایک قول ہے— مستقل کوشش، نہ کہ قوت یا عقل، ہمارے پوٹنشل کو ایکچول بنانے کی چابی ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Continuous effort, not strength or intelligence, is the key to unlocking our potential.

یہ صرف دنیوی امور کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ دینی امور میں بھی یہی مستقل کوشش پسندیدہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکہ کون سا عمل اللہ کو سب سے محبوب ہے (أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ )، آپ نے کہا کہ جو مسلسل کیا جائے اگرچہ کم ہوأَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلّ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 782)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی چیزکو پانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ صرف آپ کا معاملہ نہیں ہوتا ، بلکہ اس میں دوسری چیزوں کو مینج کرنے کا معاملہ بھی شامل ہوجاتا ہے، خواہ وہ دوسرے انسانوں کا معاملہ ہو یا کوئی اور چیز۔ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو مینج کرتے ہوئے انسان کی کوشش کا نتیجہ ظاہر کرتاہے۔ اس لیے انسان کو اس کی کوشش کا نتیجہ فوراً نہیں مل پاتا ، اس کو مسلسل کوشش کرنا پڑتا ہے۔ اس کو جلد بازی کے بجائے تدریج کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔

خدا جلدی نہیں چاہتا

ایک شخص اپنے عیسائی دوست سے ملنے گیا۔ جب وہ دوست کے یہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے سامنے بے تابی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔’’آج میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں،آخر کیا بات ہے‘‘۔ اس نے پوچھا۔ عیسائی دوست اچانک سنجیدہ ہوگئے۔ انھوں نےکہا

I am in hurry, but God isn't.

میں جلدی چاہتاہوں،مگر خدا جلدی نہیں چاہتا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے صحن میں ایک مرجھائے ہوئے آم کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہامیں نے اس کو بڑی امیدوں کے ساتھ پچھلے ہفتہ لگایا تھا ۔ مگر اب وہ سوکھ کر ختم ہو چکا ہے۔

’’یہ درخت تو کافی بڑا ہے، پھر ایک ہفتہ پہلے کیسے آپ نے اس کو لگایا تھا‘‘۔ آدمی نے پوچھا۔’’یہی تو اصل بات ہے‘‘۔ عیسائی دوست نے کہا۔’’میں نے چاہا کہ میں اچانک ایک بڑا درخت اپنے یہاں کھڑا کر دوں۔ مگر خدا کی اس دنیا میں ایسا ہو نا ممکن نہیں۔ میں نے آم کا چھوٹا پودا لگانے کے بجائے یہ چاہا کہ پانچ سال کا درخت لاکر اپنے صحن میں لگاؤں اور اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے کرلوں ۔ میں نے درخت تو کہیں نہ کہیں سے لاکر لگالیا، مگر وہ اگلے ہی دن سوکھ گیا۔ اور اب اس کی جو صورت ہے وہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو‘‘۔

other sourceWords of another person or source

اس کے بعد عیسائی دوست نے کہا اس دنیا میں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے خد ا کا ایک قانون ہے۔ ہم اس قانون کی پیروی کر کے ہی اس چیز کو اپنے لیے وجود میں لاسکتے ہیں۔ اگر هم قدرت کے اصول کی پیروی نہ کریں اور اپنی خواہشوں پر چلنے لگیں تو ہمارے حصہ میں’’سوکھا درخت‘‘آئے گا، نہ کہ’’ہرا بھرا باغ‘‘۔

other sourceWords of another person or source

لکڑی کی ایک کشتی کی تاریخ اگر چھوٹے پودے سے شروع کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر کشتی والا انتظار کرتا ہے کہ قدرت ایک درخت اگائے ۔ زمین و آسمان کے تمام انتظامات اس کو پروان چڑھانے کے لیے وقف ہوں۔ یہ کام سو برس تک ہوتا رہے۔ یہاں تک کہ جب مسلسل عمل کے نتیجہ میں ننھا پودا پختہ درخت کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، اس وقت کشتی والا اس کو کاٹتا ہے۔ اس کے تنے بنا تا ہے اور پھر ان تختوں کو لوہے کی کیلوں سے جوڑ کر وہ کشتی تیار کر تا ہے جو انسانی قا فلوں کو پانی کے اوپر سفر کرنے کے قابل بنائے۔

ذاتی معاملات میں ہر آدمی اس بات کو جانتا ہے۔ مگر جب ملت کا معاملہ ہو تو وہ چاہتا ہے کہ فی الفور ایک عظیم الشان کشتی دریا میں اتار دے، خواہ اس کے پاس کشتی کے نام سے کاغذ کی ناؤ ہی کیوں نہ ہو۔

یا درکھئے، یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ اس کو خدا نے بنایا ہے۔ اور وہ اسی خدا کےقانون کے تحت چل رہی ہے۔ ہم اس سے موافقت کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم اس کے ساتھ موافقت نہ کریں تو ہمیں اس دنیا میں کچھ ملنے والا نہیں۔

جس طرح درخت تدریج کے ساتھ اگتا ہے، اسی طرح انسانی زندگی کے معاملات بھی تدریج کے ساتھ درست ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قدرت کے اس تدریجی قانون کو جانیے اور اس کے ساتھ موافقت کرتے ہوئے اپنا سفرشروع کیجیے۔ اس کے سوا اس دنیا میں کا میابی کا کوئی اور راستہ نہیں ۔ بقیہ تمام راستےکھڈ کی طرف جاتے ہیں، نہ کہ کسی منزل کی طرف۔

قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ صبر کا مطلب بے عملی نہیں، صبر در اصل منصوبہ بند عمل کا دوسرا نام ہے۔ بے صبر آدمی فوری رد عمل کے تحت بے سوچے سمجھے کارروائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، صبر والا آدمی اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملہ پر غور کرتا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور دوسرے کی طاقت کا اندازہ کرتا ہے۔ وہ حالات کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ قانون قدرت کو سمجھتا ہے جس کےدائرہ میں اس کو اپنا عمل کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح سوچ بچار کے بعد عمل کا نقشہ بنانے کے لیے اپنے جذبات کو تھامنا پڑتا ہے، اس لیے اس کو شریعت میں صبر کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسی کو منصوبہ بند عمل کہتے ہیں۔ اس دنیا میں صابر انہ عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور غیر صابرانہ عمل ہمیشہ ناکام ۔

ایک خط

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ

29 نومبر2002 کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ ایک صاحب نے کہا کہ صبر کا مطلب آپ برداشت بتاتے ہیں، یہ غلط ہے، صبر کا مطلب حوصلہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صبر کا ابتدائی لغوی مفہوم برداشت (patience)یا اپنے آپ کو روکنا ہے ۔ مشہور عربی لغت لسان العرب میں صبر کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے  أَصْلُ ‌الصَّبْرِ الْحَبْسُ ...‌الصَّبْرُ ‌نَقِيْضُ الجَزَعِ (جلد4، صفحہ438)۔ یعنی، صبر کی حقیقت رکنا ہے... صبر کی ضد بے چینی اور جلدبازی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جہاںتک حوصلہ (courage) کا تعلق ہے وہ بلا شبہ زندگی کی ایک اہم قدر ہے۔ زندگی میں برداشت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور حوصلہ کی بھی۔ مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ کس کو کس کے تابع کیا جائے۔ حوصلہ کو برداشت کے تابع کیا جائے یا برداشت کو حوصلہ کے تابع ۔ اسی راز کو جاننے کا نام کامیابی ہے۔

میرے علم کے مطابق، تاریخ کی بیشتر تباہیاں، خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، اس لیے ہوئی ہیں کہ لوگوں نے حوصلہ کو اوپر کردیا اور برداشت کو نیچے۔اور اپنے حوصلہ مندانہ جذبات کے تحت ایک ایسا اقدام کر ڈالا جو ان کی حقیقی استطاعت (manageable limit) سے باہر تھا۔ چنانچہ ان کا نتیجہ ایسے شخص کا سا ہوا جو کسی ندی کے دہانہ کے نصف کے بقدر چھلانگ لگانے کی طاقت رکھتا ہو مگر وہ پورے دہانے کے اوپر چھلانگ لگا دے۔

کوئی صورت حال پیش آنے پر آدمی اگر ایسا کرے کہ وہ حوصلہ مندانہ چھلانگ سے اپنے آپ کو روکے اور برداشت کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے صورت موجودہ پر قائم رہے تو وہ خواہ بروقت کوئی بڑا فائدہ حاصل نہ کرسکے مگر وہ مزید نقصان سے یقینا بچ جائے گا۔

اصل یہ ہے کہ حوصلہ جذبات کا نتیجہ ہوتا ہے اور برداشت سوچ کا نتیجہ۔جذبات کے تحت کیا ہوا اقدام اکثر آخر کار آدمی کے لیے ایک پر سٹیج اشو (prestige issue) بن جاتا ہے۔وہ چاہتے ہوئے بھی اپنا قدم واپس لینے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں کرپاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کو حوصلہ جس انجام تک پہنچاتا ہے وہ صرف بے حوصلگی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی میں اصل اہمیت سوچ کی ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو فطری طورپر آدمی کے اندر سوچ کا عمل (thinking process) جاری ہوتا ہے۔ حوصلہ مندانہ اقدام اکثر اس سو چ کے عمل کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رہنے دیتا۔ اس کے برعکس، برداشت کی صفت آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ سوچ کا عمل اس کے اندر بلا رکاوٹ مسلسل جاری رہے۔ برداشت کی حیثیت سوچ کے عمل کے لیے ایک معاون کی حیثیت رکھتی ہے۔ برداشت کی بنا پر آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاملہ پر زیادہ دیر تک سوچ سکے اور پھر زیادہ صحیح فیصلہ تک پہنچ جائے۔

26 دسمبر2002،نئی دہلی دعا گووحید الدین

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content