Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

صبر کا کرشمہ

Urdu · 2 min read

گل برگا (کرناٹک) کے ایک صاحب نے اپنے ایک خط (10 فروری 2010ء ) میں اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ یہ واقعہ انھیں کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے

other sourceWords of another person or source

’’ایک غلط پروپیگنڈے کی بنا پر مجھ کو تین ماہ سروس سے معطل ہونا پڑا۔ لیکن اِس دوران نہایت صبر واستقلال کے ساتھ غیر ضروری باتوںسے اعراض کرتے ہوئے بلا طلبِ حجت یک طرفہ طورپر’’میں غلطی پر تھا‘‘ کے مشورے پررجوع بکار ہوا۔ اِس کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ مجھ کو سروس سے برخاست کرنے کے لیے جو طریقے اپنائے گئے تھے، وہ بالکل ناکام ثابت ہوئے، اور میں پہلے سے زیادہ مضبوط طورپر اپنی جگہ واپس آگیا۔ یہ بلاشبہ الرسالہ کی فکری پالیسی کا نتیجہ تھا‘‘۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نزاعی مسائل کا حل کیا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خاموش ہوجائیں اور صرف دعا کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد آپ کا مسئلہ نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوگیا ہے۔

نزاع کے موقع پر جب ردعمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فریقِ ثانی کے اندر ضد اور انانیت جاگ پڑتی ہے۔ اِس طرح مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔

اِس کے برعکس، اگر آپ خاموشی اختیار کرلیں اور دعاء کریں تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ فریقِ ثانی کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ اِس کے بعد وہ معاملے پر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچنے لگے گا، یہاں تک کہ عین ممکن ہے کہ اس کو خود اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور وہ اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان خود ہی معاملے کو ختم کردے۔

صبر کا طریقہ فرشتے کو آپ کا مددگار بنا دیتا ہے۔ اِس کے برعکس ، جب آپ بے صبری کا طریقہ اختیار کریں تو شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ معاملے کو زیادہ سے زیادہ بگاڑے، یہاں تک کہ آپ کو تباہی کے کنارے پہنچادے۔ جوآدمی اِس راز کو سمجھ لے، وہ کبھی ناکامی سے دوچار نہیں ہوسکتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content