Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

اشتعال کے بغیر

Urdu · 3 min read

اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے ‌لا ‌تعتمد ‌على ‌خلق ‌رجل حتى تجربه عند الغضب(التبر المسبوك في نصيحة الملوك للغزالی، صفحہ 24)۔یعنی، کسی آدمی کے حسن اخلاق پر بھروسہ مت کرو جب تک غصہ کے وقت اس کا تجربہ نہ کرلو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب غصہ دلانے والی بات کی جائے تو اس کے جواب کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی بپھرا ٹھے اور ناقدین پر لعن طعن کرنے لگے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ناقد کی بات کو بالکل ٹھنڈے ذہن سے سنا جائے ۔ اس کی بات کے غیر متعلق پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل بات کا جواب بالکل سادہ طریقے سے دے دیا جائے ۔ دونوں طریقوں میں صرف دوسرا طریقہ اسلامی طریقہ ہے۔ اس سلسلے میں یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔

1۔ ابن عبد البر اندلسی (م 463ھ) لکھتے ہیں  أَنَّ طَاوُسًا وَوَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ الْتَقَيَا، فَقَالَ طَاوُسٌ لِوَهْبٍ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، بَلَغَنِي عَنْكَ أَمْرٌ عَظِيمٌ فَقَالَ مَا هُوَ؟ قَالَ تَقُولُ ‌إِنَّ ‌اللهَ ‌حَمَلَ ‌قَوْمَ ‌لُوطٍ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ ثُمَّ سَكَتَ قَالَ فَقُلْتُ هَلِ اخْتَصَمَا؟ قَالَلَا(جامع بیان العلم و فضله،اثر نمبر1799)۔یعنی،طاؤس(وفات 106ھ) اور وہب بن منبہ (وفات 114 ھ)دونوں ایک دوسرے سے ملے ۔ طاؤس نے وہب سے کہا  اے ابو عبداللہ ، آپ کے بارے میں مجھے ایک بڑی سنگین بات پہنچی ہے ۔ انھوں نے پوچھا کہ وہ کیا؟ طاؤس نے کہا میں نے سنا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ ہی نے تو قوم لوط کے بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر چڑھایا تھا ۔ یہ سن کر وہب نے کہا اللہ کی پناہ ۔ پھر دونوں چپ ہو گئے ۔ میں نے راوی سے پوچھاکیا دونوں میں بحث ہوئی ۔ انھوں نے جواب دیا نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

2۔ مولانا احمد علی لاہوری (1887-1962ء)کے صاحبزادہ مولانا حبیب اللہ لاہوری نے مولانا سید حسین احمد مدنی (1879-1957ء) کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ دارالعلوم دیوبند میں مولانا مدنی کے دورہ ٔحدیث میں شریک تھے ۔ شرکاءِ درس میں سے کسی طالب علم کو شرارت سوجھی ۔ اس نے مولانا کے پاس ایک رقعہ بھیجا اور اس کے ذریعہ تحریری طور پر یہ سوال کیا کہ آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ حرامی ہیں ۔ مولانا مدنی نے رقعہ لے کر رکھ لیا اور پہلی نشست میں کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسری نشست میں جب طلبہ جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا’’ کسی دوست نے مجھ کو رقعہ لکھا ہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے‘‘۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ سنتے ہی تمام مجلس میں ہیجان بر پا ہو گیا۔ طلبہ غیظ و غضب سے بھر گئے کہ کس گستاخ نے یہ حرکت کی ہے۔ مولانا مدنی نے فرمایا’’ خبر دار کسی کو غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ میرا حق ہے کہ میں سوال کرنے والے کی تسلی کر وں‘‘۔ پھر سنجیدگی کے ساتھ فرمایا ’’میں ضلع فیض آباد، قصبہ ٹانڈہ کا رہنے والا ہوں ۔ اس وقت بھی میرے والدین کے نکاح کے گواہ زندہ ہیں۔ خط بھیج کر سمجھ لیا جائے‘‘ ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content