Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

صبر— سپیریر سولیوشن

Urdu · 2 min read

قرآن کی تقریباً 103 آیتیں براہِ راست طور پر صبر سے متعلق ہیں۔ اور بقیہ آیتیں بالواسطہ طور پر صبر سے متعلق ۔ گویا قرآن کی تمام تعلیمات صبر پر مبنی ہیں۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ قرآن صبر کی کتاب ہے۔

صبر کی براہِ راست آیتوں کا معاملہ واضح ہے۔مثلاً—

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاة ِ(2:45)۔یعنی، اے ایمان والو، صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ(3:186)۔ یعنی، اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ(31:17)۔یعنی، جو مصیبت تم کو پہنچے اس پر صبر کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(90:17)۔یعنی،اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ وغیرہ

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

‌یہ آیتیں وہ ہیں جن میں براہِ راست الفاظ میں صبر کا حکم دیا گیا ہے۔مگر دوسری بیشتر آیتوں کا بھی صبر سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ مثلاً قرآن کی پہلی آیت ہےالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(2:2)۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس کا شکر اور تعریف کریں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ دنیامیں کوئی بھی آدمی ناخوش گوار تجربات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ قرآن کے مطابق انسان کو کبد (مشقت) میں پیدا کیا گیا ہے(90:4)۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں خوشیوں اور مسرتوں کی زندگی بنا سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پھر حقیقی معنوں میں کوئی آدمی شکر کرنے والا کیسے بن سکتا ہے۔ اس کا واحد ر از صبر ہے۔ یعنی آدمی جب دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے گا، اس وقت اس کے لیے ممکن ہوگا کہ سچا کلمۂ شکر اس کی زبان پر جاری ہو سکے۔ اسی لیے قرآن میں شکر کے ساتھ صبر کو وابستہ کیا گیا ہے (31:31)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مسائل کے مقابلہ میں تسخیری انداز کا بر ترحل دریافت کر سکے۔ آدمی جب فریق ثانی کے مقابلہ میں بھڑک جائے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ وہ سوچ کر کوئی گہرا جواب دے یا کوئی دوررس منصوبہ بنا سکے۔ مگر جب وہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے که فوری اقدام کے بجائے سوچا سمجھا ہوا اقدام کرے ۔ اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ فوری اقدام کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر اقدام کرنے والا ہمیشہ کامیاب— صبر ہر قسم کے مسائل کا برترحل (سپیر یرسو لیوشن) ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content