Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

قدرت کے باوجود

Urdu · 2 min read

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کو اپنے دشمن پرقدرت حاصل ہوجائے تو اسے معاف کرنے کو اس پر اپنی قدرت کا شکر انہ بنالورُوی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ قال اذا قدرتَ علٰی عد وِّک فاجعل ا لعفو عنہ شکراً للقد رۃ علیہ (ادب الدنیاوالدین للماوردی، جلد1، صفحہ262)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

اخلاق کیا ہے۔ اخلاق اعلیٰ انسانی کر دار کا دوسرانام ہے۔ انسانی تعلقات میں کسی شخص سے جس اعلیٰ سلوک کی توقع کی جاتی ہے ا سی کو اخلاق کہتے ہیں۔ کسی انسان کی انسانیت کو پہچاننے کامعیار یہی اخلاق ہے۔

ایک شخص سے آپ کی دشمنی ہو گئی ۔ پھر ایسے حالات پیش آئے کہ آپ نے اس کو زیر کرکے اس کے اوپر قابو پالیا۔ اس وقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس معاملہ کو صرف انتقام کی نظر سے دیکھیں، آپ یہ سو چیں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس سے بھر پور بدلہ لیا جائے اور اپنے انتقام کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے۔ مگر یہ نہایت چھوٹی سوچ ہے ، اعلیٰ انسانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ سارے معاملہ کو خدا کی نظر سے دیکھیں۔ آپ اپنی کامیابی کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی کامیابی سمجھیں۔ ایسی حالت میں آپ کے جذبات بالکل مختلف ہوں گے۔ اب آپ کے اندر شکر کاجذبہ ابھر آئے گا۔ اپنی کامیابی کے بعد شکر کی سب سے زیادہ اعلیٰ صورت آپ کو یہ دکھائی دے گی کہ آپ اپنے دشمن کو معاف کردیں۔

قابو پانے کے باوجود دشمن کومعاف کردینا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک زبردست قربانی کامعاملہ ہے۔ اس کے لیے باہر کے دشمن کو کچلنے کے بجائے، خوداپنے نفس کو کچلنا پڑتا ہے۔ اپنے اندر بھڑکتی ہوئی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ قابو پانے کے بعد بھی اپنے دشمن کو معاف کر دے۔

معاف کرنا ایک نیکی ہے۔ اور قدرت کے باوجود معاف کرنا سب سے بڑی نیکی ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content