Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

صبر ایک عظیم نیکی

Urdu · 2 min read

پروگرام کی دوقسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کی حیثیت مثبت پر وگرام کی ہو۔ اور دوسری وہ جو اتفاقی ضرورت کے تحت اختیار کی جائے۔ مثلا ًصحت بخش غذا ہمارے جسم کی مستقل ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ کبھی جسم کو دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر دواکی حیثیت صرف وقتی مطلوب کی ہے۔ غذاہمارے جسم کی مستقل ضرورت ہے اور دواہمارے جسم کی صرف اتفاقی ضرورت ۔

یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین میں صبر کی حیثیت مثبت تعلیم کی ہے۔ صبر ہماری مستقل دینی ضرورت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جنگ کی حیثیت صرف وقتی ضرورت کی ہے۔ صبر ایک عظیم نیکی ہے جو ہر وقت اور ہر حال میں مطلوب ہے۔ جب کہ جنگ صرف اس وقت مطلوب ہو تی ہے جبکہ انتہائی ناگزیرحالات میں بطور دفاع اس کی ضرورت پیش آگئی ہو۔

صبر وہ اہم ترین اصول ہے جو موجودہ امتحان کی دنیا میں ہر وقت اور ہر شخص کو درکار ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص اس امتحان کے مرحلہ سے کامیابی کے ساتھ گزرنہیں سکتا۔

اس دنیا میں آدمی کو اپنے نفس کے مقابلہ میں صبر کرنا ہے۔ شیطان کی ترغیبات کے مقابلہ میں صبر کرنا ہے۔ دوسرے انسانوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گوار یوں پر صبر کرنا ہے۔

صبر کی ضرورت ہر لمحہ اور ہر موقع کے لیے ہے۔ نقصان کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے کو مایوسی سے بچائیں۔ فائدہ کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے اندر اٹھنے والے برتری کے احساس کو کچل کر ختم کر دیں۔ بیماری کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ آہ وفغاں نہ کریں۔ صحت کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے اندر فخر وناز کے جذبات کونہ اٹھنے دیں۔ اشتعال انگیزی کے موقع پر صبر یہ ہے کہ آپ اپنے کو مشتعل ہونے سے بچائیں۔ اور جب کوئی شخص آپ کی تعریف کرے تو اس وقت صبر یہ ہوگا کہ آپ اس سے کبر کی غذالینے کے بجائے سراپا تو اضع بن جائیں۔

صبر کوئی انسانی قانون نہیں، وہ خود فطرت کاایک قانون ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے ، خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.