Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

صبر وتقویٰ

Urdu · 2 min read

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز ہم نے جو ڑا جو ڑاپید اکی ہے (51:49)۔ یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ یہاں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے وہ دوچیزوں کے تعامل سے رونما ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز تنہااس دنیا میں کوئی واقعہ یا نتیجہ ظاہر نہیں کر سکتی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس اصول کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے۔ اسی کو ایک پرانی مثل میں اس طرح بیان کیاگیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلا تار ہے تو اس سے تالی نہیں بجے گی ۔ تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسراہاتھ اس سے ٹکرائے۔ جب تک دوسراہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکارہے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرررسانی کامعاملہ بھی یہی ہے ۔ مخالف کی ضرررسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ فریقِ ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے۔ فریقِ ثانی اگر ’’ دوسراہاتھ ‘‘ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہلِ اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہلِ اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ یعنی، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کررہے ہیں ،اللہ نے ان سب کااحاطہ کر رکھا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ دشمن کی سازش صرف 50فی صد کی حدتک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریقِ ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ 50فی صدحصہ پورا کردے۔ صبر وتقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے منصوبہ کایہ بقیہ نصف حصہ دشمن کو حاصل نہ ہو۔ جب ایسا ہو گا تو اس کی مخالفانہ تدبیر لازمی طور پر بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔

اس قانون کے تحت اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاملہ کو خود آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content