Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

اذیت پر صبر

Urdu · 3 min read

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں

hadithQuotes a hadith

عَنِ ابْنَ عُمَرعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَالْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ، وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ قَالَحَجَّاجٌخَيْرٌ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ(حدیث نمبر 5022)۔ یعنی عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ مومن جو لوگوں سے مخالطت کرتا ہے، اور ان کی اذیت پر صبر کرتا ہے، وہ اجر میں اس سے زیادہ ہے جو مخالطت نہیں کرتا، اور لوگوں کی اذیت پر صبر نہیں کرتا۔ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں، وہ بہتر ہے ان سے جو لوگوں سےمخالطت نہ کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مخالطت کا مطلب ملنا جلنا (social intercourse) ہے۔ جو شخص اپنے آپ میں جینے والا ہو، اس کو لوگوں کی طرف سے کوئی اذیت نہیں پیش آئے گی۔ لیکن جو شخص لوگوں کے درمیان رہے، لوگوں کے ساتھ اس کا انٹر ایکشن ہوتا ہو، لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات پیش آئیں، ایسے آدمی کو فطری طور پر دوسروں کی طرف سے چھوٹی یا بڑی اذیت پیش آئے گی۔

تنہائی کی زندگی گزارنے والے کے مقابلے میں مخالطت کی زندگی گزارنے والا افضل کیوں ہوتا ہے۔اس کا سبب فطرت کا ایک اصول ہے۔ فطری نظام کے تحت ہر آدمی بے پناہ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہ صلاحیتیں اس کے اندر بالقوۃ (potential) کے طور پر ہوتی ہیں۔ اس بالقوۃ کو بالفعل (actual) بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کو شاک کا تجربہ پیش آئے۔ فطرت کا نظام شاکنگ ٹریٹمنٹ (shocking treatment) کے اصول پر قائم ہے۔ جو آدمی شاک کو سہے، اس کے فطری امکانات اَن فولڈ (unfold) ہوتے رہتے ہیں، اس کا ذہنی ارتقا (intellectual development) ہوتا رہے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص صدمہ (shock) کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری نہیں ہوگا۔ وہ جیسا پیدا ہوا تھا، ویسے ہی مرجائے گا۔

صبرکا وقت عبادت کا وقت ہے

مسجد سے اذان کی آواز بلند ہو تو لوگ جان لیتے ہیںکہ خدا کی عبادت کا وقت آگیا۔ وہ تیزی سے چل کر مسجد پہنچتے ہیںتاکہ خدا کی عبادت کرکے اُس کا انعام حاصل کرسکیں۔ اسی طرح جب رمضان کے مہینے کا نیا چاند افق پر دکھائی دیتاہے تو لوگ فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ اب روزے کا مہینہ آگیا۔ وہ ضروری تیاریاں شروع کردیتے ہیں تاکہ رمضان کے روزے رکھ کر وہ ثواب حاصل کرسکیں جو خدا نے روزے کی عبادت میںرکھ دیا ہے۔

اسی طرح صبر بھی ایک عبادت ہے۔ جب بھی وہ وقت آجائے جب کہ خدا کی مرضی پر قائم رہنے کے لیے صبر کی قیمت دینا ضروری ہوگیا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صبر والی عبادت کی ادائیگی کا وقت آگیا، وہ عبادت جس پر اللہ نے بے حساب اجر کا فیصلہ فرمایا ہے إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ(39:10)۔یعنی، بیشک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک آدمی آپ کے ساتھ اشتعال انگیزی کرے اور آپ کے اندر غصے کی آگ بھڑک اٹھے تو ایسی حالت میں اللہ کا حکم ہے کہ تم جوابی غصے کی کارروائی نہ کرو بلکہ اِس پر صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے اُس آدمی کو معاف کردو (الشوریٰ،42:37)۔ گویا کسی کے دل میں غصے کا آنا اُس کے لیے صبر کی عبادت ادا کرنے کے وقت کا آنا ہے۔ یہ عبادت بلا شبہ اُسی طرح مطلوب ہے جس طرح دوسری معروف عبادتیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی معاملہ دوسرے تمام منفی جذبات کا ہے۔ جب بھی ایک آدمی کے اندر کسی کے بُرے سلوک کے نتیجے میں نفرت، انتقام اور حسد جیسے منفی جذبات بھڑکیں تو یہ اس بات کا خاموش اعلان ہوتا ہے کہ اُس آدمی کے لیے صبر کی اعلیٰ عبادت ادا کرنے کا وقت آگیا۔ وہ فریقِ ثانی کی طرف سے بدسلوکی پر صبر کرکے یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا ثبوت دے اور اس کا مستحق بن جائے کہ اعلیٰ ترین عبادت پر اُس کو اعلیٰ ترین انعام کا مستحق قرار دیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content