← Tameer-e-ShakhsiyatTameer-e-Shakhsiyat
سیلف ڈسپلن
Urdu · 3 min read
مارکسی لیڈر جوزف اسٹالن (Joseph Stalin) نے اشتراکی انقلاب (1917ء) سے پہلے اپنی ایک تقریر میں کہا تھاکہ ہم کو انقلاب کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے اول ہتھیار، دوم ہتھیار، سوم ہتھیار، آخر میں پھر ہتھیار۔ یہ جھوٹے انقلاب کا فارمولا تھا۔ سچے انقلاب کا فارمولا یہ ہے— اول صبر، دوم صبر، سوم صبر، آخر میں پھر صبر۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
صبر کیا ہے، صبر دراصل امن پر مبنی دانش مندانہ منصوبہ بندی (planning) کا نام ہے۔ صبر یہ ہے کہ وقت اور طاقت کا کوئی معمولی حصہ بھی بے فائدہ ٹکراؤ میں ضائع نہ کیا جائے، بلکہ ساری حاصل شدہ توانائی کو صرف ایک مقصد کے لیے استعمال کیا جائے، یعنی ٹکراؤ کو نظر انداز کرنا او ردستیاب مواقع کو بھرپور طور پر استعمال کرنا۔
صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی رد عمل(reaction) سے اپنے آپ کو بچائے، وہ دانش مندانہ تدبیر کے ذریعے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ صابرانہ منصوبہ بندی صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو حالات سے اوپر اٹھ کر سوچے، جو حالات کا عامل بن جائے، نہ کہ حالات کا معمول۔
تاریخ کے تمام تجربات بتاتے ہیں کہ ہتھیار یا جنگ صرف تخریب کاری کا سبب ہے۔ جب بھی کسی نے حقیقی معنوں میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو وہ پرامن جدوجہد کے ذریعے حاصل کی ہے۔ اگر نتیجے کی بنیاد پر منصوبہ بنایا جائے تو کوئی بھی شخص مسلح عمل کا منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ ہر شخص لازمی طورپر پرامن عمل کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنائے گا۔
صبر کا طریقہ ثابت شدہ طورپر بہتر طریقہ ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ لوگ صبر کا طریقہ اختیارنہیں کرتے۔ اِس کا واحد سبب یہ ہے کہ صبر اپنے آپ پر سیلف کنٹرول کا تقاضا کرتا ہے۔ صبرکا طریقہ اختیار کرنے کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھنا ضروری ہوتاہے۔ صبر دراصل سیلف ڈسپلن کا نام ہے، اور بلا شبہ سیلف ڈسپلن سے زیادہ مشکل کوئی کام انسان کے لیے نہیں۔
ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا
مرد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایگوئسٹ(egoist) ہوتا ہے۔ عورت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اموشنل (emotional) ہوتی ہے۔ یہ دونوں صفتیں پیدائشی صفتیں ہیں۔ اِن کو بدلنا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔ اگر آپ اِس حقیقت کو جان لیں تو آپ کے لیے عورت اور مرد دونوں کے ساتھ معاملہ(deal) کرنا آسان ہوجائے گا۔ اس کا مختصر فارمولا یہ ہے کہ مرد کے ایگو کو ٹچ (touch) نہ کیجیے، اور عورت کے اموشن (emotion) سے نہ ٹکرائیے۔ یہی فارمولا خاندانی زندگی میں بھی کار آمد ہے اور سماجی زندگی میں بھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں معاملات ہمیشہ ٹکراؤ کی بنا پر بگڑتے ہیں۔ ٹکراؤ سے اعراض کرنا ہی پُرعافیت زندگی کا واحد کامیاب فارمولا ہے۔ اِس کے سوا کوئی اور فارمولا عملی طورپر اِس دنیا میں ممکن نہیں۔ اِس فارمولے کو ایک لفظ میں ٹکراؤ مینج مینٹ (conflict management) کہاجاسکتا ہے۔
ٹکراؤ سے اعراض کرنا، صرف ایک اخلاقی معاملہ نہیں،بلکہ یہ خود اپنی تعمیر (self development) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب آپ ٹکراؤ سے بچتے ہیں تو نتیجے کے اعتبار سے اِس کا دوسرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا وقت بچایا، آپ نے اپنی توانائی بچائی، آپ نے اپنا مال بچایا، آپ نے اپنے آپ کو اِس قابل بنایا کہ کسی وقفے کے بغیر اپنی زندگی کا سفر جاری رکھیں۔ آپ غیر ضروری طورپر ذہنی تناؤ (tension) کا شکار نہیں ہوئے، آپ نے اپنے ذہن کو کامل طور پر مثبت سوچ کے لیے فارغ رکھا، وغیرہ۔
کامیاب زندگی پچاس فی صد خود اپنے استعمال کا نام ہے، اورپچاس فی صد دوسروں سے موافقت (adjustment) کرنے کا نام ہے۔ یہ ایک اٹل فطری قانون ہے، اِس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ کامیابی کے لیے دونوں ہی چیزیں یکساں طورپر ضروری ہیں۔
جو انسان اِس تقسیم پر راضی نہ ہو، اس کو اپنے لیے ایک اور دنیا کی تخلیق کرنا چاہیے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں اِس کے سوا زندگی کی کوئی اور صورت ممکن نہیں۔