Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

نتیجه خیز عمل

Urdu · 2 min read

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے سوال کیا کہ ہندستانی مسلمانوں کے مسائل کا حل کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ صبر ۔انھوں نے کہا کہ صبر کا کیا مطلب ہے ۔ میں نے کہا کہ صبر کا مطلب ہے— مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا۔

انھوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ صبر کا حکم قرآن میں ہے۔ مگر صبر کوئی مطلق چیز نہیں۔ جب کھلم کھلااشتعال انگیزی کی جائے۔ جب ہم صاف طور پر دیکھیں کہ مسلمانوں کے اوپر زیادتی کی جا رہی ہے تو اس وقت صبر کیسے کیا جائے گا۔ ایسی حالت میں صبر کرنا تو بزدلی اور شکست خوردگی کے ہم معنی ہو گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آپ نے صبر کا معیار غلط قائم کیا ہے ۔ صبر کے اختیار یا ترک کا معیار یہ نہیں ہے کہ صبر کرنے میں آپ کو بزدلی یا شکست خوردگی نظر نہ آئے تو آپ صبر کریں اور جب صبر کا طریقہ آپ کو بزدلی اور شکست خوردگی دکھائی دے تو آپ صبر کو چھوڑ دیں ۔ یہ جذباتیت ہے ، جب کہ معیار ہمیشہ اصولی بنیادپر طے کیا جاتا ہے۔صبر کا حقیقی معیار صرف ایک ہے، اور وہ رزلٹ (نتیجہ) ہے۔ صبر کا اصول صرف اس وقت تو ڑا جا سکتا ہے جب کہ اس میں کوئی مثبت نتیجہ ملنے والا نہ ہو ، بصورت دیگر ، صبر کی روش پر قائم رہنا ضروری ہوگا۔خواہ بظاہر وہ بزدلی اور شکست خوردگی کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔

قدیم مکہ میں مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی اشتعال انگیزی جاری تھی ۔ ہر قسم کا ظلم ان پر کیا جا رہا تھا ۔ حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان ظالموں کے خلاف جہاد کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر، ابھی ہم تھوڑے ہیں(يَا ‌عُمَرُ، ‌إِنَّا ‌قَلِيلٌ)۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، جلد3، صفحہ230۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان جب قلیل ہوں اور فریقِ مخالف کثیر ہو تو ظلم کے باوجود ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ ایسے اقدام کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسلام میں صرف اسی اقدام کی اجازت ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ جو اقدام بے نتیجہ ہو کر رہ جائے یا جس اقدام کا الٹا انجام نکلنے والا ہو، وہ سنتِ رسول کے خلاف ہے ۔ اور جو عمل سنتِ رسول کے خلاف ہو وہ بلاشبہ اللہ کے یہاں غیر مقبول قرار پائے گا۔ نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنا رویہ مقرر کر نا اسلام ہے، اور نتیجہ سے بے پروا ہو کر جوش و جذبہ کے تحت اقدام کرنا نادانی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content