Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

سنتِ صبر

Urdu · 2 min read

صبر کیا ہے ، صبر یہ ہے کہ جذبات یا اشتعال کے موقع پر اپنے آپ کو تھا ماجائے۔ جوابی کارروائی کرنے سے پہلے اپنے جذبات کو روک کر یہ سوچاجائے کہ میر ے لیے اس موقع پر صحیح ردِّعمل کیا ہے اور زیادہ نتیجہ خیز کا رروائی کیا ہو سکتی ہے۔

کبھی جذبات کو روک لینے کانام صبر ہے، کبھی صبر اس کانام ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو جوابی اقدام سے باز رکھا جائے اور کبھی صبر یہ ہوتا ہے کہ اقدام توکیا جائے مگر وہ منصوبہ بنداقدام ہو نہ کہ محض جذباتی اقدام۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایک مخالف اگر کسی کو نقصان پہنچائے تو وہ اس پر صبر کرلے یا وہ اس کا توڑ کرنے کی کوشش کرے۔

جواب یہ ہے کہ صبر کا مطلب خواہ مخواہ نقصان اٹھانا نہیں ہے۔ صبر کامطلب یہ ہے کہ غیر موافق صورت ِحال پیش آنے کے بعد ٹھنڈے ذہن سے آپ یہ سوچیں کہ آپ کاجوابی اقدام آپ کے حق میں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا یا آپ کے نقصان میں مزید اضافہ کا سبب بن جائے گا۔ صبر کا مطلب اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچانا ہے،نہ کہ غیرضروری طور پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا۔صبر کبھی عمل کانام ہوتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو عمل سے روک لینے کا،یہ دراصل حالات ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی موقع پر کون ساصبر مطلوب ہے۔

صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبرآدمی نتیجہ پر غور کیے بغیر حالات کے طوفان میں کود پڑتا ہے۔ اورصبر والا آدمی صورتِ حال پیش آجانے کے بعد پہلے سنجید گی کے ساتھ غور کرتا ہے ، لوگوں سے مشورہ کرتا ہے ، اور سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت وہ کارروائی کرتا ہے جو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز ہو سکے ۔ صبر حکمت ِعملی کانام ہے اور بے صبری یہ ہے کہ آدمی وقتی کیفیت سے متاثر ہو کر ایسا اقدام کربیٹھے جس کا حکمت اور دوراندیشی سے کوئی تعلق نہ ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.