Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

صبر کیا ہے

Urdu · 2 min read

دنیا کے خالق نے اس دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں صبر کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا (الفرقان، 25:20)۔ صبر کیا ہے؟ صبر عمل کا الٹانہیں ہے،بلکہ صبر عاجلانہ کارروائی کا الٹاہے۔صبر کے لفظی معنیٰ ہیں رکنا۔ عربی میں کہتے ہیں صبرتُ الدابّۃ (میں نے جانور کو چارے سے روک دیا)۔صبر انسان کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے۔ صبر انسان کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ غیرضروری طور پر اپنی طاقت کو ضائع کرے ۔ صبر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اختلاف کوٹکر اؤ تک نہ جانے دے ۔ صبر متحدہ جدو جہد کی لازمی ضرورت ہے۔ صبر مایوسی کو اُمید میں تبدیل کرتا ہے۔ صبر آدمی کے اندر یہ پختگی (maturity)پیدا کرتا ہے کہ جو چیز یں بدلنے کے قابل ہیں، اُن کو وہ بد لے اور ان چیزوں کے ساتھ وہ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ کرے جن کو و ہ بدل نہیں سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شریعت میں جس صبرکا حکم دیا گیا ہے،اس کی حقیقت اسی سے سمجھی جاسکتی ہے۔قرآن میں مومن کی صفات میں سے ایک صفت یہ بتائی گئی ہےوَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِم (13:22)۔اور جو لوگ صبر کرتے ہیںاللہ کی رضا چاہنے کے لیے۔ دوسرے لفظوں میں اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اصولی بنیاد پر صبر کرتے ہیں۔ جب آدمی کو ٹھیس لگے اور وہ اللہ کی رضا کی خاطر صبر کر لے تو گویا اُس نے اصولی بنیاد پر صبر کیا۔ مجبوری کے تحت تو ہر آدمی صبر کر لیتا ہے، مگر مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت اِس لیے صبر کرتا ہے کہ یہی اُس کے اصول کا تقاضا ہے۔حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَی (صحیح البخاری، حدیث نمبر1283)۔ صبر وہ ہے جو ابتدائے صدمہ کے وقت کیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content