Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

شکر کا ایروژن

Urdu · 3 min read

ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت شکر کی ہے۔ ہماری زندگی میں بار بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو شکر کے جذبے کوگھٹانے والے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر مومن کو بہت زیادہ با شعور ہونا چاہیے۔ مومن کے لیے شکر کا ایروژن (erosion) ناقابلِ برداشت ہونا چاہیے۔

اصل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں 99 فی صد شکر کی بات ہو اور صرف ایک فی صد منفی بات تو شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک فی صد منفی بات کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ 99 فی صد مثبت بات آدمی کی نظر سے اوجھل ہوجاتی ۔ وہ شکر کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی ناشکری کے احساس میں جینے لگتا ہے۔ ایسے موقع پرآدمی کو چاہیے کہ وہ فوراً یہ کہے کہرَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ (23:97)۔یعنی، اے اللہ!میں پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے۔ اِس کے بعد ان شاء اللہ، شیطان بھاگ جائے گا۔ یہ صرف عقیدہ کی بات نہیں، بلکہ یہی میرا تجربہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ ناشکری کی کوئی بات دماغ میں آئے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کو سرتاسر بے اصل سمجھے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ اس کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دے۔ وہ اس کو بداہۃً قابلِ رد (prima facie its stands rejected)سمجھتے ہوئے فی الفور اپنے دماغ سے نکال دے۔

مثلاً 19 اکتوبر 2009 کا واقعہ ہے۔ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے قطر کا سفر ہوا۔ ہم لوگ تین آدمی تھے۔ کانفرنس میں لوگوں کو دینے کے لیے ہم قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ائر پورٹ پر پہنچ کر ہمارے ساتھیوں نے اس کو چیک ان (check-in) کردیا۔قطر کے اِس سفر میں غیر معمولی قسم کی سہولیات کا تجربہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ قطر کے اِس چار روزہ سفر میں ہم کو غیر متوقع طور پر اتنی زیادہ سہولتیں (facilities) حاصل رہیں کہ ان کو اگر شاہانہ سفر کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔

دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر ہم لوگ داخل ہوئے تو فوراً ہی ائرلائن کی ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا اور ہم کو ضروری رہنمائی دی۔ یہ منظر دیکھ کر دل سے دعا ء نکلی کہ خدایا، جب میں آخرت کے گیٹ پر پہنچوں تو وہاں بھی رحمت کا ایک فرشتہ اِس عاجزانسان کے استقبال کے لیے موجود ہو۔

دہلی ائر پورٹ پر میں نے قدم قدم پر خدا کی نصرت اور رحمت کے ایسے مناظر دیکھے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے— خدایا، اگر میں دنیا کی تمام زبانیں جانتا اور تمام زبانوں کی ڈکشنریوں کے تمام الفاظ مجھ کو یاد ہوتے اورمیں تیری حمد اور تیرا شکر ادا کرتا تو میں اس کا حق ادا نہیں کرسکتا تھا۔ خدایا، اگر دنیا کے تمام درخت میرے لیے قلم بنا دئے جاتے اور تمام سمندر میرے لیے سیاہی ہوتے اور میں تیرے احسانات کو لکھنے بیٹھتا تو یقینا ایسا ہوتا کہ تمام قلم ختم ہوجائے اور تمام سمندر خشک ہوجاتے، تب بھی تیری حمد کا بیان ختم نہ ہوتا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ الفاظ جب میری زبان پر آئے تو اُس وقت میں نے سوچا کہ قرآن (31:27) میں جو یہ بات کہی گئی ہے ، بظاہر وہ خدا کی طرف سے ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانی جذبات کا اظہار ہے۔ وہ علم الٰہی کا بیان نہیں، بلکہ وہ بندۂ مومن کا احساس ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کائنات میں تدبر کرکےانعامِ خداوندی کو اِس طرح دریافت کرے کہ واقعۃً اس کو یہ محسوس ہونے لگے کہ تمام درختوں کے قلم اور تمام سمندروں کی سیاہی بھی اس کے جذباتِ حمد کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content