Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Shakhsiyat
Tameer-e-Shakhsiyat

نعمت کا اعتراف

Urdu · 4 min read

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فرمایا کہ انسان کو اسفل سافلین کی حالت میں ڈال دیا گیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیںلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ( 95:4-5)۔یعنی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے ادنیٰ درجے میں ڈال دیا۔ یہ بات لفظی معنی میں نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ خود قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے جنت سے مشابہ دنیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیںكُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ (2:25)۔ یعنی، جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی زندگی مادی معنوں میں اسفل نہیں ہے۔ بلکہ وہ نفسیاتی معنی میں احساس محرومی کی زندگی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان کو اعلیٰ ذوق (high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے ایسا ہے کہ موجودہ دنیا کی مادی نعمتیں انسان کو فل فلمنٹ (fulfillment) کے درجہ میں تسکین نہیں دیتیں۔ خواہ انسان کو دنیوی نعمتیں کتنی ہی زیادہ حاصل ہوجائیں۔ مثلاً امریکا کے بل گیٹس (Bill Gates, b. 1955)کے لیے اس کی دولت تسکین کا ذریعہ نہیں بنی۔ امریکا کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ (Donald Trump, b. 1946)کو وائٹ ہاؤس میں پہنچ کر سکون نہیں ملا۔ چنانچہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کو کوکون (cocoon) بتایا۔یعنی ریشم کے کیڑے کا خول۔

اس معاملہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موجودہ دنیا کو جنت کے مشابہ دنیا کے طور پر دریافت کرے۔ اس کو چاہیے کہ وہ دنیا کی نعمتوں کو جنت ِ دنیا کے طور پر دریافت کرے۔ تاکہ اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو، اور لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (14:7) —یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا— کے مطابق وہ جنتِ آخرت کا مستحق بنے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نہ ملے پر شکایت، ملے پر بے اعترافی

انسان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ شیطان کا پیرو بن جائے۔ شیطان کی پیروی کیاہے۔ شیطان کی پیروی ہے، ظلوم و کفار بن جانا(ابراہیم،14:34)۔ یعنی بہت زیادہ ظالم، اور بہت زیادہ ناشکرا۔شیطان کا واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا، اور اس کو غیر معمولی طاقت دی۔ لیکن شیطان نے اس عطیے (gift) کا اعتراف نہیں کیا۔ لیکن جب اللہ نے انسان کو پیدا کیا، اور اس کو زمین کا خلیفہ (incharge) بنا دیا، تو شیطان غصہ ہوگیا، اور ابدی طور پر اپنے خالق کا دشمن بن گیا۔ شیطان کی یہ صفت کیا ہے— نہ ملے پر شکایت، اور ملے پر بے اعترافی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ عادت بلاشبہ سب سے بری عادت ہے۔ اللہ رب العالمین کا ایک تخلیقی نظام (creation plan) ہے۔ اس کے تحت اس دنیا میں انسان کو کبھی کوئی چیز ملتی ہے، اور کبھی کوئی چیز نہیں ملتی ۔ اس نظام کے تحت یہ ناممکن ہے کہ انسان کو ہر چیز ملے، وہ کسی چیز سے محروم نہ رہے۔ ایسا ہونا فطرت کے قانون کے مطابق ناممکن ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جب اس کو کوئی ملنے والی چیز ملے، تو و ہ اس پر شکر ادا کرے۔ اس کے برعکس، جب اس کو کوئی نہ ملنے والی چیز نہ ملے، تو وہ اس پر صبر کرے۔یہی ایک سچے انسان کا طریقہ ہے۔ یہی وہ انسان ہے، جو اللہ کے یہاں صابر اور شاکر قرار پائے گا، اور اس کو ابدی جنتوں میں داخلہ ملے گا۔

اس کے برعکس، جس کا حال یہ ہو کہ وہ ظلوم اور کفار بن جائے۔ یعنی جو چیز اس کو نہ ملے، اس پر وہ خوب شکایتیں کرے۔ اس کے برعکس، جو چیز اس کو ملی ہوئی ہے، اس سے وہ بے خبر رہے۔ اس کی زبان سے اس کا اعتراف نہ نکلے۔ وہ منفی چیز (negative item) کو تو خوب جانے، لیکن مثبت چیز (positive item) کے بارے میں وہ ایسا بنا رہے، جیسے کہ وہ اس کو جانتا ہی نہیں۔ اس کی زبان منفی باتوں پر خوب کھلی ہوئی ہو، لیکن مثبت باتوں پر اس کی زبان ہمیشہ بند رہے۔ ایسا انسان خالق کی نظر میں شیطان کا پیرو ہے۔ آخرت میں ایسے انسان کو شیطان کے پڑوس میں جگہ ملے گی۔ اس کو جنتیوں کے پڑوس میں جگہ ملنے والی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content