← Tameer-e-ShakhsiyatTameer-e-Shakhsiyat
شکر کے دو درجے
Urdu · 51 min read
اِس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل وجان کے ساتھ اِن کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔ اِس اعتراف کا مذہبی نام ’شکر‘ ہے۔اِس کے دو درجے ہیں— ایک، نارمل شکر یانارمل اعتراف (normal acknowledgement)۔ دوسرا، تخلیقی شکر یا تخلیقی اعتراف (creative acknowledgement) ۔ نارمل شکر کی مثال یہ ہے کہ آپ کو پیاس لگی۔ آپ نے گلاس میں پانی لے کر اس کو پیا۔ اِس سے آپ کو سیرابی حاصل ہوئی اور پھر آپ نے کہا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھ کو پانی دیا جس سے میں اپنی پیاس بجھاؤں۔
تخلیقی شکر کی مثال یہ ہے کہ آپ نے جب پانی پیا تو آپ کو پانی کی وہ پوری تاریخ یاد آگئی جو جدید سائنس نے دریافت کی ہے، یعنی تقریباً 15 بلین سال پہلے وسیع خلا میں بے شمار ستارے (stars) وجود میں آئے۔ پھر ایک عرصے کے بعد لٹل بینگ (little bang) ہوا، جس سے موجودہ نظامِ شمسی وجود میں آیا۔ اِس کے بعد زمین کی سطح پر بہت بڑی مقدار میں ہائڈروجن گیس اور آکسیجن گیس کے بادل چھاگئے، پھر دو گیسوں کے ملنے سے وہ استثنائی چیز وجود میں آئی جس کو ’’پانی‘‘ کہاجاتا ہے۔ پھر یہ پانی سمندروں میں کھاری پانی کی حیثیت سے جمع ہوگیا، پھر بارش کے نظام کے تحت، اِس کھاری پانی کا ازالۂ نمک (desalination) ہوا۔ اِس طرح ہمیں وہ میٹھا پانی حاصل ہوا جس سے ہم اپنی پیاس بجھائیں اور دوسرے کام کریں۔ مثلاً زراعت، وغیرہ۔
پانی کے معاملے میں پہلی صورت نارمل شکر کی ہے اور دوسری صورت تخلیقی شکر کی۔ دوسرے الفاظ میں، پہلا شکر اگر صرف شکر ہے تو دوسرا شکر برتر شکر۔ شکر اور برتر شکر کا یہی معاملہ دوسری تمام چیزوں کے بارے میں پیش آتا ہے۔
اِسی طرح اِس معاملے کی ایک مثال خون (blood) ہے۔ انسان جو غذا اپنے جسم میں داخل کرتا ہے، وہ ایک پیچیدہ نظام کے تحت خون میں تبدیل ہوتی ہے، پھر یہ خون ایک اور پیچیدہ نظام کے تحت سارے جسم میں رگوں کے ذریعے مسلسل دوڑتا ہے۔ یہ بلاشبہ ربوبیت کے نظام کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ خون کا بننا، خون کا مسلسل گردش کرنا اور خون کی صفائی کا انتظام، وغیرہ۔ یہ سب چیزیں انسان کو خدا کی نعمتیں یاد دلاتی ہیںاور وہ اللہ کے لیے سراپا شکر میں ڈھل جاتا ہے۔
قدیم زمانے میں خون کا تصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک سرخ سیال ہے جو جسم کی طاقت کے لیے جسم کے اندر گردش کرتا رہتا ہے۔ پھر یہ دریافت ہوئی کہ خون دو قسم کے ذرات سے مل کر بنتا ہے— سرخ ذرات (red blood corpuscles)، اور سفید ذرات (white blood corpuscles) ۔ اب یہ دریافت ہوئی ہے کہ خون میں اِس کے سوا، ایک اور خورد بینی ذرہ ہوتا ہے۔ اس کو پلیٹ لیٹس (platelets) کانام دیاگیاہے۔ یہ تیسرا ذرہ انسان کی زندگی اور صحت کے لیے بےحد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خون ہراعتبار سے، اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اِس نعمت کا احساس آدمی کے اندر شکر وحمد کے چشمے جاری کردیتا ہے۔
اِس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کے اوپر انسان کی زندگی قائم ہے۔ یہ نظام براہِ راست خدا کی قدرت کے تحت قائم ہے اور اِسی کو قرآن میں ربوبیت کہاگیاہے۔ یہ نظامِ ربوبیت تمام تر اللہ کی جانب سے قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ربوبیت کے اِس نظام سے واقفیت حاصل کرے اور پورے معنوںمیں اللہ کا شاکر بندہ بن کر اِس دنیا میں رہے۔
قرآن میں بتایا گیاہے کہ رب صرف اللہ ہے اور اُسی کی ربوبیت اِس دنیا میں قائم ہے (6:164)۔اِسی طرح فرمایا کہ حکم صرف اللہ کا ہے اور تمام چیزیں اُسی کے زیر حکم ہیں(12:40)۔ یہ دونوں الفاظ (رب اور حکم) اللہ کی ذات کی نسبت سے قرآن میںآئے ہیں، اس کا کچھ بھی تعلق سیاسیات یا معاشیات سے نہیں ہے۔مگر موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ انھوں نے مذکورہ الفاظ قرآن سے لیے اور اس کے اندر اپنے خود ساختہ مفہوم کو شامل کردیا۔ یہ گویا کہ ’رب‘ اور’ حکم‘ کے لفظ کو سیاسی بنانا (politicisation) تھا۔ قرآنی الفاظ میں اِس قسم کا خود ساختہ مفہوم شامل کرکے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان کا یہ مشن ہے کہ وہ دنیا میں نظامِ ربوبیت یا نظامِ حاکمیت قائم کرے۔ یہ بلا شبہ ایک غیرعلمی بات ہے۔ اس کی غلطی اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ بداہۃً ہی قابلِ رد ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جذباتِ شکر کی بیداری
حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر شام کو پانی سے افطار کیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر2357) ۔یعنی، پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور روزے کا اجر ان شاء اللہ ثابت ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پانی ایک غیر معمولی قسم کی نعمت ہے۔ پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں۔ مگر عام حالات میں پانی کی اِس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے اور اُس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اُس وقت جب آدمی پانی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔
اُس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid)پانی بن گیا۔ اتھاہ مقدارمیں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہوگئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہوگئیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ پانی آدمی کی پیاس کو بجھاکر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اِسی کے ساتھ شکر ِخداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہوجاتا ہے۔
اللہ، انسان کا منعمِ حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا، اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روزہ کے ذریعہ جب انسان کے اندران نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہوجاتا ہے۔ وہ غفلت سے باہر آجاتا ہے۔ وہ احساسِ نعمت سے سرشار ہوکر حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔روزہ ، جذباتِ شکر کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انسان ہر وقت انعاماتِ خداوندی کے سمندر میں رہتا ہے، مگر عام حالات میں اس کو ان نعمتوں کا شعوری احساس نہیں ہوتا۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اِن نعمتوں کو ازسرِ نو دریافت کرکے اپنے رب کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے۔
شکر کا احساس
اگر آپ لذیذ کھانا کھائیں اور اس کو کھا کرلپ سروس کے طور پر الحمد للہ کہیں تو یہ حیوانی درجے کا شکر ہے۔ کیوں کہ یہ مشاہدہ اور ذائقہ پر مبنی ہے، اور مشاہدہ اور ذائقہ کے درجے کا شکر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے، وہ اعلیٰ انسانی درجے کا شکر نہیں۔
اعلیٰ درجے کا شکر یہ ہے کہ جب کھانا آپ کے سامنے آئے تو اس کو دیکھ کر خدا کا پورا تخلیقی نظام آپ کو یاد آجائے۔ آپ سوچیں کہ یہ تمام غذائی چیزیں پہلے غیر غذائی چیزیں تھیں۔ خدا نے ایک برتر عمل (process) کے ذریعے ایک عظیم واقعہ برپا کیا۔ وہ تھا غیر غذا (non-food) کو غذا (food) میں تبدیل کرنا۔ اِس طرح ایک کائناتی عمل کے ذریعے یہ تمام غذائی چیزیں وجود میں آئیں۔
پھر آپ یہ سوچیں کہ یہ غذائی چیزیں اپنی ابتدائی صورت میں میرے لیے توانائی (energy) کا ذریعہ نہیں ہوسکتی تھیں۔ چنانچہ خدا نے مزید یہ کیا کہ اُس نے میرے جسم کے اندر ایک پیچیدہ قسم کا نظام ہضم (digestive system) رکھ دیا۔ یہ نظامِ ہضم ایک خود کار نظام ہے۔ جب میں کوئی چیز کھاتا ہوں تو یہ نظام ہضم اِن غذائی چیزوں کو حیرت انگیز طورپر زندہ خلیات(living cells)میں تبدیل کردیتا ہے، پھر یہ زندہ خلیات میرے جسم میں گوشت اور خون جیسی چیزوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہ سوچ کر آپ کے اندر شکر کا گہرا احساس پیدا ہوگا، جس کو الفاظ میں ظاہر کرنے کے لیے آپ خود کو عاجز پائیں گے۔
اِس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی شکر کیا ہے اور حیوانی شکر کیا۔ اگر آپ کے اندر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے توآپ ہمیشہ ناشکری کے احساس میں جئیں گے۔ شکر کے اعلیٰ احساس میں جینے کے لیے انسانی درجے کا جذبۂ شکر درکار ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ کم پائی جاتی ہے وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ( 34:13)۔یعنی، اور میرے بندوں میں کم ہی شکرگزار ہیں۔انسان سے اللہ تعالیٰ کو جو شکر مطلوب ہے، وہ انسانی درجے کا شکر ہے۔ صرف حیوانی درجے کا شکر انسان جیسی مخلوق سے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اعلیٰ شکر
قرآن کے مطابق ، شیطانی اغوا کا اصل نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے (7:17)۔ ہدایت اور گم راہی دونوں کا اصل خلاصہ یہی ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ آدمی شکر کے احساس میں جینے والا ہو۔ اِس کے مقابلے میں، گم راہی یہ ہے کہ آدمی کا دل شکر کے جذبات سے خالی ہوجائے۔ شیطان یہی کام ہمیشہ کرتا رہا ہے، لیکن بعد کے زمانے میں شیطان کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر شکر ِ خداوندی کے راستے سے ہٹا سکے۔ اِسی لیے حدیث میں اِس فتنے کو دجّال یا دجّالیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خدا کی نعمتوں کے اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ یہ شکر ہر زمانے میں انسان سے مطلوب تھا۔ پچھلے زمانے میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی۔ کسی انعام پر مُنعم کا اعتراف کرنا، ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ لیکن اعتراف کے لیے ہمیشہ کسی پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً جب آپ کھانے کی کوئی چیز کھاتے ہیں، تو آپ کو فوڈ آئٹم کی صورت میں شکر، یا اعتراف کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس مل جاتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ خدایا، تیرا شکرہے کہ تو نے مجھے یہ چیز کھانے کے لیے عطا کی۔
لیکن ایک شخص جو جدید علم نباتات(Botany)اور جدید علم زراعت (Agriculture) اور جدید علم باغبانی (Horticulture) سے واقف ہو، اس کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ کسی فوڈ آئٹم کی معنویت کو ہزاروں گُنا زیادہ اہمیت کے ساتھ دریافت کرسکے۔ اِس طرح اس کا احساسِ شکر، عام انسان کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ جب وہ کہے گا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے کھانے کے لیے یہ فوڈ آئٹم دیا، تو وہ ایک عظیم اہتزاز (super thrill) کے جذبے کے تحت، وہ الفاظ بولے گا جس کا تجربہ پہلے کسی انسان کو نہیں ہوسکتا تھا۔پہلا شخص جس حقیقت کو صرف ذائقہ لسانی کی سطح پر جانے گا، دوسرا شخص اس کو وسیع تر علم سائنس کی سطح پر دریافت کرے گا۔ پہلے شخص کا اعتراف اگر ایک سادہ اعتراف ہوگا، تو دوسرے شخص کا اعتراف ایک ہمالیائی اعتراف بن جائے گا۔
شکر ِقلیل، شکر ِکثیر
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ لَمْ يَشْكُرِ الْقَلِيلَ، لَمْ يَشْكُرِ الْكَثِيرَ(مسند احمد،حدیث نمبر18449)۔ یعنی، جو شخص کم پر شکر نہیں کرے گا، وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرے گا۔ اِس حدیثِ رسول میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ چھوٹے واقعے کو یاد کرنے سے بڑے بڑے واقعات ذہن میں تازہ ہوجاتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ میں بہت سے الگ الگ فولڈر (folder) ہوتے ہیں۔ مثلاً محبت کا فولڈر، نفرت کا فولڈر، اعتراف (acknowledgement)کا فولڈر، ظلم کا فولڈر، وغیرہ۔ جوچیزیں انسان کے تجربے اورمشاہدے میں آتی ہیں،اُن کو دماغ الگ الگ کرکے ان کے متعلق فولڈر میں ڈالتا رہتا ہے۔ آدمی جب کسی ایک واقعے سے متاثر ہو تو اُس وقت انسان کا دماغ ٹریگر (trigger) ہوجاتاہے اور پھر فوری طورپر ایسا ہوتا ہے کہ اُس سے متعلق (relevant) فولڈر کھل جاتا ہے اور اس نوعیت کے تمام واقعات آدمی کے ذہن میںتازہ ہوجاتے ہیں۔
فطرت کا یہ قانون شکر اور اعتراف کے معاملے میں بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مثلاً آج آپ کو ایک موبائل ملا۔ اُس سے آپ نےکسی دوسرے مقام پر موجود ایک شخص سے بات کی۔ اُس وقت آپ نے سوچا کہ پہلے زمانے میں ایک آدمی کو کسی دوسرے پر موجود آدمی سے رابطہ قائم کرنے میں کتنی مشکلیں پیش آتی تھیں۔ اِس پر آپ نے گہرے تاثر کے ساتھ خدا کا شکر ادا کیا تو اس کے بعد فوراً یہ ہوگا کہ آپ کا دماغ ٹریگر ہوجائے گا۔ اُسی وقت دماغ کا وہ فولڈر کھل جائے گا، جس میں آپ کی پوری زندگی میں پیش آنے والے شکر واعتراف کے تمام آئٹم محفوظ ہیں۔فطرت کے اِس نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ شکر کے چھوٹے واقعے کی یاد، شکر کے دوسرے تمام واقعات کو یاد دلا دیتا ہے۔ اِس طرح شکر کا چھوٹا واقعہ بڑے شکر کا سبب بن جاتاہے، یہاں تک کہ آدمی کے دل میں شکر کا چشمہ جاری ہوجاتا ہے۔ شکر کا احساس خدا سے آدمی کے تعلق کو بڑھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اعلیٰ معرفت کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
شکر سب سے بڑی عبادت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ مثلاً صحیح البخاری (حدیث نمبر 6490)، صحیح مسلم ( حدیث نمبر 2963)،جامع الترمذی ( حدیث نمبر 2513)، سنن ابن ماجہ(حدیث نمبر 4142) ،وغیرہ۔ مسند احمد (حدیث نمبر10246) کے الفاظ یہ ہیںانْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللهِ۔ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ ۔ عَلَيْكُم۔ یعنی، تم اس کو دیکھو جوتم سے نیچے ہے اورتم اس کونہ دیکھو جوتم سے اوپر ہے ، کیوںکہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کوکم نہیں سمجھوگے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث کی مزید تشریح ایک اورحدیث سے ہوتی ہے ۔ ایک مرفوع روایت کے مطابق رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللهُ شَاكِرًا وَصَابِرًا ، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ ، فَحَمِدَ اللهَ ، كَتَبَهُ اللهُ شَاكِرًا صَابِرًا وَمَنْ نَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللهُ عَلَيْهِ ، لَنْ يَكْتُبَهُ اللهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا (مسند الشامیین للطبرانی، حدیث نمبر 505)۔یعنی، دوصفتیںہیں جوکسی کے اندرہوں تو اللہ اس کو شاکر اورصابر لکھ دیتاہے ۔ جواپنے دین کے معاملہ میںاس کو دیکھے جواس کے اوپرہے، اوردنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جواس سے کم ہے پھر وہ اللہ کا شکراداکرے، اللہ اس کو شاکر اورصابر لکھ دیتاہے ۔ اورجواپنے دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جواس سے بڑھ کرہے پھروہ اس پرافسوس کرے جو مادی برتری اللہ نے اس کے مقابل کو دی تواللہ اس کو ہرگز شاکرو صابرنہیں لکھے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شکر سب سے بڑی عبادت ہے ۔ کسی بندے سے جوچیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طورپر دریافت کرے ۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کاسینہ بھراہواہو ۔ اس کی روح میں شکر کاابدی چشمہ جاری ہوجائے۔وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طورپرپائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کررہاہے ۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہوکہ کسی بھی حال میں اس کاسینہ شکر خدا وندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔
مگر یہ کوئی آسان بات نہیں ۔ اپنے آپ کوشکر کے جذبہ سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کاشعور اس معاملہ میں پوری طرح زندہ ہو ۔ وہ اس کامسلسل اہتمام کرے ۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہ دے جواس کے جذبۂ شکر کومجروح کرنے والاہو۔ وہ سب کچھ برداشت کرلے مگر وہ اپنے جذبۂ شکر کاانحطاط (erosion) کبھی برداشت نہ کرے۔ موجودہ دنیا میں فطری طورپر ہمیشہ ایسا ہو تاہے کہ لوگوں کے درمیان نا برابری قائم رہتی ہے ۔ اس بنا پر ہرآدمی یہ محسوس کرتاہے کہ مادی اعتبارسے کوئی اس سے کم ہے اورکوئی اس سے زیادہ ۔ اب اگر آدمی اپنامقابلہ اس شخص سے کرے جوبظاہر اس سے زیادہ ہے تواس کے اندر کمتری کااحساس پیدا ہوگا اور اس کاجذبۂ شکر دب کررہ جائے گا۔ اس لیے آدمی کوایسا کبھی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ (comparison)اس سے کرے جومادی اعتبارسے بظاہر اس سے زیادہ ہے ۔ اس کے بجائے آدمی کویہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ ان لوگوں سے کرے جومادی اعتبارسے ا س سے کم ہیں ۔ اس طرح اس کاجذبۂ شکر زندہ رہے گا ۔ اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہوسکے گا۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایساہو تاہے کہ تمام لوگ مادی اعتبارسے یکساں نہیں ہو تے ۔ کوئی زیادہ ہو تاہے اورکوئی کم ، کوئی پیچھے ہوتاہے اورکوئی آگے ، کوئی طاقت ورہوتاہے اورکوئی کمزور ۔ اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے ، مگروہ حالات سے متاثرہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور کوزندہ رکھے ۔ وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو، پھربھی اس کے شکر کے جذبہ میں کوئی کمی نہ آئے ۔ وہ بے اعترافی کی صورتِ حال سے گزرے ، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے ۔ وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچارہو ، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرز فکر پرقائم رکھے ۔ شکر وہ سب سے قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کرسکتاہے ۔ ایسی حالت میںعقل مند انسان وہ ہے جو اپنے سینہ کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے ، حتی کہ انتہائی غیرموافق صورت حال میں بھی ۔
محرّک شکر
تقریباً تیرہ بلین سال پہلے سولر سسٹم وجود میں آیا۔ اس وقت زمین کے اوپر صرف گیس تھی۔ پھر گیس کے ذریعے پانی بنا۔ پانی کا فارمولا H2O ہے، یعنی زمین میں ایسے مالیکیول (molecule) رکھ دیے گئے، جس میں ہائڈروجن کے دو ایٹم ہوتےتھے، اور آکسیجن کا ایک ایٹم۔ اس طرح زمین کے اوپر پانی وجود میں آیا۔ یہ پانی بڑے پیمانے پر سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہوگیا۔ ابتدامیں نیچر نے اس پانی میں حفاظتی مادہ (preservative) کے طور پر نمک (salt) شامل کیا ۔ یہ نمک آمیزپانی براہ راست طور پر انسان کے لیے قابل استعمال نہ تھا۔ پھر زمین کے اوپرسورج کی حرارت اور پانی کے تعامل سے حیرت انگیز طور پر بارش کا انتظام ہوا۔ فطری طور پر نمک کا وزن زیادہ تھا، اور پانی کا وزن کم۔ چنانچہ جب سمندرکی سطح پر سورج کی حرارت پہنچی تو سمندر کا پانی فطری قانون کے تحت ازالۂ نمک (desalination) کے پراسس سے گزر ا،یعنی پانی بھاپ بن کرنمک سےالگ ہو گیا۔ نمک سمندر میں رہ گیا، اور پانی بھاپ بن کر فضا میں بلندہوا، وہاں وہ بادل بنااور آخر کار وہ پانی بارش کی صورت میں دوبارہ زمین پر برسا۔ اس پانی نے زمین کو سیراب کیا، اور چشموں اور دریاؤں کی صورت میں محفوظ ہوگیا۔
فطرت کے نظام کے تحت یہ ایک سائیکل (cycle) ہے، جو مسلسل طور پر جاری ہے۔ پانی کا یہی نظام ہے، جس نے زمین کو انسان کے لیے حیات بخش سیارہ بنا کر رکھا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو انسان زمین کے اوپر زندہ سماج نہ بنا سکے۔ زمین پر تہذیب کی تشکیل پانی کے بغیر ناممکن ہو جائے۔ اس پورے عمل پر غور کیا جائے ،تو اس میں حکمت کے اتنے زیادہ پہلو ہیں، جو انسان کے لیے مائنڈ باگلنگ ظاہرہ (mind-boggling phenomena) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قدیم زمانے کا انسان ان حقیقتوں سے بے خبر تھا، مگر اب سائنسی مطالعے کے ذریعے یہ حقیقتیں انسان کے علم میں آگئی ہیں۔ ان حقیقتوں کو جاننا انسان کے لیے اتھاہ خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالباً یہی وہ عظیم حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےوَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّہِ لَا تُحْصُوهَا (16:18)۔ یعنی، اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کو گن نہ سکو گے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
انسان کا اعتراف
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ، لَمْ يَشْكُرِ اللهَ (مسند احمد،حدیث نمبر 7504)۔یعنی، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو آدمی لوگوں کا شکر نہ کرے، وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شکر ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ کیفیت کسی آدمی کے دل میں پیدا ہو جائے تو وہ منقسم ہو کر نہیں رہ سکتی۔ اگر وہ ایک معاملہ میں ظاہر ہوگی تو یہ ناممکن ہے کہ وہ اسی قسم کے دوسرے معاملہ میں ظاہر نہ ہو۔ جب آدمی ایک کا شکر گزار ہوگا تو وہ دوسرے کا بھی ضرور شکرگزار ہوگا۔
بندہ کا احسان آنکھ سے دکھائی دیتا ہے، وہ ایک براہ راست تجربہ ہے۔اس کے برعکس، خدا کا جو احسان ہے وہ ظاہری آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا، وہ آدمی کے لیے براہِ راست تجربہ نہیں۔خدا کے احسان کو سوچ کر جاننا پڑتا ہے۔ بندہ کے احسان کو آدمی بذریعہ مشاہدہ جانتا ہے اور خدا کے احسان کو بذریعہ تفکر۔جو آدمی براہِ راست مشاہدہ میں آنے والے واقعہ کا احساس نہ کر سکے، وہ ایسے واقعہ کو کیوں کر محسوس کرے گا جو بالواسطہ غور وفکر کے ذریعہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کوئی احسان کرنےوالا جب احسان کرتا ہے تو آدمی اس کے احسان کا اعتراف اس لیے نہیں کرتا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح میں محسن کی نگاہ میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ حالانکہ ایسا کر کے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔اس کے بعد وہ اپنے ضمیر کی نگاہ میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کے نزدیک کم بن جاتا ہے۔ اور بلاشبہ اپنے ضمیر کے نزدیک کم ہونا، دوسرے کے نزدیک کم ہونے سے زیادہ سخت ہے۔
اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ بندوں کے احسان نہ ماننے سے آدمی کے اندر بے اعترافی کا مزاج بنتا ہے۔ اولاً وہ انسان کا اعتراف نہیں کرتا۔ اور اس کے بعد اس کا بگڑا ہوا مزاج اس کو یہاں تک لے جاتا ہے کہ وہ رب العالمین کا بھی سچا اعتراف نہیں کر پاتا۔ اور بلاشبہ اس سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والا اور کوئی نہیں جو اپنے رب کا اعتراف کرنے سے عاجز رہے۔
اضافۂ ایمان
سائنسی اندازہ کے مطابق،سورج ہماری زمین سے تقریباًنو کرورتیس لاکھ میل دور ہے۔ سورج ہماری زمین سے ایک لاکھ تیس ہزارگنا بڑا ہے۔ سورج زمین کی مانند ٹھوس نہیں ہے، بلکہ وہ پورا کا پورا ایک عظیم دہکتا ہوا شعلہ ہے۔ اس کی گرمی گیارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ ہے۔ یہ گرمی اتنی زیادہ ہے کہ سخت ترین مادہ بھی اس میں پگھلے بغیر نہیں رہ سکتا۔ زمین اگر اس کے قریب کی جائے تو وہ ایک سکنڈ سے بھی کم عرصے میں پگھل کر گیس بن جائے گی۔
سورج کیسے چمکتا ہے اور کیسے اتنی بڑی مقدار میں وہ روشنی اور گرمی دے رہا ہے۔ قدیم خیال یہ تھا کہ سورج مسلسل جل رہا ہے، جیسے کوئی لکڑی یا کوئلہ جلتا ہے۔ مگر جب فلکیاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ ہزاروں ملین سال سے اسی طرح روشن ہے تو یہ خیال غلط ثابت ہوگیا۔ سورج میںاگر کوئی مادہ جل رہا ہوتا تو اب تک سورج بجھ چکا ہوتا، کیوں کہ کوئی چیز اتنی زیادہ لمبی مدت تک جلتی ہوئی حالت میں نہیںرہ سکتی۔
اب سائنس دانوں کا نظریہ یہ ہے کہ سورج کی گرمی اُسی قسم کے ایک عمل (process) کا نتیجہ ہے جو ایٹم بم کے اندر وقوع میں آتا ہے، یعنی سورج، مادہ کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ عمل جلنے سے مختلف ہے۔ جلنا مادہ کو ایک صورت سے دوسری صورت میں تبدیل کرتا ہے، مگر جب مادہ کو توانائی میں بدلا جائے تو بہت زیادہ توانائی صرف تھوڑے سے مادہ کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔ مادہ کا ایک اونس اتنی زیادہ توانائی پیدا کرسکتا ہے جو ایک ملین ٹن سے زیادہ چٹان کو پگھلا دے
The sun changes matter into energy. This is different from burning. Burning changes matter from one form to another. But when matter is changed into energy, very little matter is needed to produce a tremendous amount of energy. One ounce of matter could produce enough energy to melt more than a million tons of rock.
کائنات میں ا س قسم کی ان گنت نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ نشانیاں بتاتی ہیں کہ کائنات کے پیچھے ایک عظیم خالق کی ہستی کام کررہی ہے۔ عظیم خالق کے بغیر کبھی اس قسم کی عظیم تخلیق ظہور میں نہیں آسکتی۔قرآن میں بار بار کائناتی نشانیوں پر غور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ غور وفکر ایک خالص دینی عمل ہے، وہ مومن کے ایمان میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتا ہے، وہ مومن کے شکر کے جذبے کو بے پناہ حد تک بڑھا دیتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شکر کا ایک آئٹم
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْالحَمْدُ لِلهِ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُیَرْحَمُكَ اللهُ، فَإِذَا قَالَ لَهُيَرْحَمُكَ اللهُ، فَلْيَقُلْ يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ(صحیح البخاری،حدیث نمبر 6224)۔یعنی، جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے اللہ کا شکرہے۔ اُس وقت اس کا ساتھی یہ کہےاللہ کی رحمت ہو تم پر۔ اس کے بعد چھینکنے والاکہےاللہ تم کو ہدایت دے اور تمھارے حالات کو درست کردے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
چھینک آنے پر الحمد للہ کہنا محض کوئی رسمی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چھینک آنا شکر کا ایک آئٹم ہے۔ یہ بات ایک تازہ تحقیق سے علمی طورپر ثابت ہوئی ہے۔ اِس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھینک کوئی بری چیز نہیں، وہ فطرت کا ایک عمل ہے۔ چھینک سے جسم میں تازگی آتی ہے
Sneezing revives your body: A sneeze is your body’s way of rebooting naturally and patients with disorders of the nose such as sinusitis sneeze more often as they can’t reboot easily, a new study said. Researchers from the University of Pennsylvania found that our noses require ‘‘reboot’’ by the pressure force of a sneeze.
(The Times of India, New Delhi, August 2, 2012, p. 15)
اِس سے معلوم ہوا کہ چھینک آنا کوئی سادہ بات نہیں، چھینک آنا بھی شکر کا ایک آئٹم ہے۔ ہر چھینک پورے جسم کو تازگی عطا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ چھینک اللہ کی نعمتوں کی ایک یاد دہانی ہے۔ چھینک کے ذریعے ایک انسان اللہ کی ایک نعمت کو یاد کرکے جب اُس پر شکر ادا کرتاہے تو اُس وقت اس کا ذہن بیدار ہوجاتا ہے۔ اِس ذہنی بیداری کی بنا پر انسان کو شکر کے دوسرے آئٹم بھی یاد آنے لگتے ہیں۔ شکر کے ایک آئٹم پر شکر کرکے آدمی شکر کے دوسرے آئٹم پر بھی شکر کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
شکر کی نفسیات میں جینا
مسلمان ہر روز اپنی نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیںالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)۔ یعنی ساری حمد صرف اللہ کے لیے ہے جوسارے جہان کا رب ہے۔ حمد کی حقیقت شکر ہے۔’’ساری حمد اللہ کے لیے ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ سارا شکر اللہ کے لیے ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اس آیت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو صرف زبان سے پڑھ دیا جائے، بلکہ وہ ایک تربیت کا کلمہ ہے۔ وہ ہر روز مسلمان کو ایک حقیقت کی یاد دلاتاہے۔ وہ یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ روزانہ پیش آنے والے واقعات پر غور کرے۔ وہ واقعات کی ایسی مثبت توجیہ (positive explanation) تلاش کرے، جو اس کو ہر حال میں شکر کرنے والا انسان بنا دے، وہ ہردن اس احساس سے بھرا رہے کہ کائنات کا خالق ایک نہایت مہربان خالق ہے، وہ ہر وقت خالق کے لیے اور تمام انسانوں کے لیے شکر واعتراف کا رسپانس (response) دیتا رہے۔
قرآن کی یہ آیت مومن کی حقیقی تصویر کو بتارہی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو الحمد للہ کی نفسیات میں جیے۔ اس کے برعکس، جو انسان عملاً لا حَمدَ للہکی نفسیات میں جیتا ہو، وہ سچا مومن نہیں۔ وہ زبان سے تو الحمد للہ کہتا ہے، لیکن اس کا دل شکایتی مزاج کی بنا پرعملاً یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ لا حَمدَ للہ، یعنی اللہ کے لیے کوئی حمد نہیں۔ یہ نفسیات منافقت کی نفسیات ہے، نہ کہ ایمان کی نفسیات۔
اس معاملہ کا تعلق حالات کی توجیہ سے ہے۔ جو آدمی حالات کی مثبت توجیہ کرے، وہ الحمد للہ کی نفسیات میں جیے گا، اور جو آدمی حالات کی مثبت توجیہ نہ کرسکے، وہ لاحَمدَ لِلہ کی نفسیات میں جینے والا انسان بن جائے گا۔ الْحَمْدُ لِلهِ شکر کا کلمہ ہے اور لاحَمدَ لِلہ ناشکری کا کلمہ۔گویا کہ الحمد للّٰہ کہنے سے پہلے ایک اور چیز مطلوب ہے،اور وہ ہے الحمد للّٰہ کی شعوری معرفت۔جو آدمی الحمد للّٰہ کہنے سے پہلے اس کی شعوری معرفت حاصل کرچکا ہو، وہی درست طورپر الحمد للہ کہے گا، اور جو آدمی اس شعوری معرفت سے خالی ہو، اس کی زندگی میں الحمد للہ ایک حقیقت کے طورپر شامل نہیں ہوسکتا۔
شکر اور ناشکری
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غزوہ پیش آیا جس کو غزوۂ حنین کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں کافی بھیڑ بکری غنیمت کی صورت میں حاصل ہوئیں۔ رسول اللہ نے غنیمت کا سامان مہاجرین میں تقسیم کردیا اور انصار کو کچھ نہیں دیا(وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا)۔ یہ دیکھ کر انصار کے کچھ افراد کو شکایت پیداہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نےانصار کے لوگوں کو جمع کرکے ایک تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے انصار! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکری لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ( أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ ) صحیح البخاری، حدیث نمبر4330 ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ دوسروں کو اگر میں نے بھیڑ بکری دی ہے تو تم کو تو میں نے خود اپنے آپ کو دے دیا ہے، یعنی اللہ کے رسول کو۔
یہ انسان کی عام کمزوری ہے کہ وہ اپنے ملے ہوئے کو نہیں دیکھ پاتا اور دوسرے کو جو کچھ ملے وہ اس کو بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ملی ہوئی چیز بظاہر زیادہ ہوتی ہے، اور نہ ملی ہوئی چیز بظاہر کم۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کا مزاج بے حد خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ نکل جائے گا، وہ ناشکری میں جینے لگے گا۔ اور یہ نقصان بلاشبہ تمام نقصانات سے زیادہ ہے۔ جو چیز آدمی کے اندر ناشکری پیدا کرے اس کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں۔
دین میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے۔ اس کے صبح و شام شکر کی نفسیات میں بسر ہوتے ہوں۔ لیکن ضروری ہے کہ آدمی اس معاملے میں اپنے شکر کی حفاظت کرے۔ شکر کی حفاظت کرنے سے شکر باقی رہے گا، اور حفاظت نہ کرنے سے شکر کا احساس آدمی کے اندر سے رخصت ہوجائے گا۔ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے ، جب کہ آدمی ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے۔
شکر یاسرکشی
ایک اچھی چیز آپ کو ملتی ہے ۔ اس کواگرآپ اپنی محنت اورقابلیت کانتیجہ سمجھیں توآپ کے اندر سرکشی کاجذبہ پیداہوگا۔ اوراگر آپ اس کو خد اکی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھیں تو آپ کے اندر شکر کاجذبہ جاگ اٹھے گا۔ پہلی کیفیت کانام گمراہی ہے اوردوسری کیفیت کانام ہدایت یابی ۔
موجودہ دنیاکو امتحان(test) کی مصلحت کے تحت بنایاگیاہے ۔دنیا کے تمام واقعات بلاشبہ اللہ کی مرضی سے اورا س کی پلاننگ کے تحت سے ہورہے ہیں ۔ مگر تمام واقعات پراسباب کاپردہ ڈال دیاگیاہے ۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اسباب کے ظاہری پردہ کوہٹا کر اصل واقعہ کودیکھے اوراس پرایمان لائے ۔
آپ کے اندر ایک چیز کی طلب پیداہوتی ہے ۔ آپ اس کے لیے کوشش شروع کرتے ہیں۔آپ کی کوشش مختلف مراحل سے گزرتی ہے ۔ کہیں آپ اپنا ذہن استعمال کرتے ہیں کہیں اپنی عملی طاقت لگاتے ہیںاورکہیں اپنا اثاثہ خرچ کرتے ہیں ۔ اس طرح بظاہراسباب وعلل کے راستہ سے گزرتی ہوئی آپ کی کوشش اپنے انجام تک پہنچتی ہے ۔ آپ اپنے مقصود کوپالیتے ہیں ۔
اب اگر آپ کوصرف ظاہربیںنگاہ حاصل ہے تو آپ اپنی کامیابی کواپنی کوشش کانتیجہ سمجھیںگے لیکن اگرآپ کووہ نگاہ حاصل ہو جوباتوں کواس کی گہرائی کے ساتھ دیکھ سکے تو آپ جان لیں گے کہ جوہوا وہ خدا کے کیے سے ہوا ، یہ میراکوئی ذاتی کارنامہ نہیں ۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کاامتحان ہورہاہے ۔ آدمی پرلازم ہے کہ وہ ظاہری پردہ کو پھاڑ کر اندرونی حقیقت کو دیکھے ۔ بظاہر اپنے ہاتھ سے ہونے والے کام کے بارے میں یہ دریافت کرے کہ وہ حقیقت میں خدا کے ذریعہ انجام پارہاہے ۔ جولوگ اس بصیرت کاثبوت دے سکیں وہی معرفت والے لو گ ہیں اورجولوگ اس بصیرت کاثبوت نہ دیں وہی وہ لوگ ہیں جو معرفت سے محروم رہے۔
شکر اور سنجیدگی
قرآن کی سورہ الاحقاف میں ایک بندہ صالح کی دعا ان الفاظ میں آئی ہے رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (46:15)۔ یعنی، اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو۔ اور میری اولاد میں بھی مجھ کو نیک اولاد دے۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں فرمان برداروں میں سے ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سورہ النمل (آیت19)میں الفاظ کے جزئی فرق کے ساتھ یہی دعا حضرت سلیمان علیہ السلام کے حوالہ سے آئی ہے۔اس دعا کے ذریعہ ایک سنجیدہ انسان (sincere person) کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب اس کو نعمت ملے تو اس کا حال کیا ہونا چاہیے۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی نعمت(favor) ملتی ہے تو وہ اس کا کریڈٹ خدا کو نہیں دیتے ہیں، بلکہ اپنی ذات کو اس کا کریڈٹ دیتےہیں۔ اس قسم کا کوئی بڑاواقعہ ایک عام انسان کو فخر و غرور میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ مگرایک بندہ صالح ، جس کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو، اللہ سے تعلق قائم ہونے کے بعد اس کے اندر اپنے مُنعم حقیقی کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ نعمت کو دیکھ کر سراپا شکر بن جاتا ہے۔ جو کچھ بظاہر اس کو ذاتی محنت سے حاصل ہوتا ہے اس کو بھی وہ پورے طور پر خدا کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہی ہرسنجیدہ انسان کا طریقہ ہونا چاہیے۔ اِسی اعتراف کا شرعی نام شکر ہے۔ یعنی کسی نعمت کے حصول پر مُنعِم کے لیےدل کی گہرائی سے قدردانی کا اظہار کرنا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
deep appreciation for kindness received
جہاں شکر نہ ہو، یقینی طور پر وہاں دین بھی نہ ہوگا۔اس دنیا کے اندر شکر کے آئٹم اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو گنا نہیں جاسکتا ہے(النحل، 16:18)۔ اگر انسان سنجیدہ (sincere) ہوتو نعمت کا احساس انسان کے اندر شکر وحمد کے چشمے جاری کردیتا ہے۔ یہی اللہ سے تعلق کا خلاصہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کے اندر یہ کمزوری ہے کہ اس کی نفسیات میں کسی کیفیت کا تسلسل باقی نہیں رہتا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ شکرِ خداوندی کی کیفیات میں زندگی گزارے۔ اِس لیے انسان پر مختلف قسم کے ناخوشگوار حالات لائے جاتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے سے انسان کے اندر نعمت اور منعم کی اہمیت کا احساس ابھرے۔ تاکہ آدمی کبھی شکر کی کیفیت سے خالی نہ ہونے پائے، وہ اِس دنیا میں رہتے ہوئے ہر تجربے کے بعد شکر کا رسپانس (response) دیتا رہے۔
اِس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل وجان کے ساتھ اِن انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔
ناشکری نہیں
صحابی رسول ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے اوپر اللہ کی نعمت کا اندازہ کرنا چاہے تووہ اس کو دیکھے جواس سے کمتر ہو، وہ اس کو نہ دیکھے جو اس سے برتر ہو(عَنْ أَبَي هُرَيْرَةَ يَقُولُقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَعْلَمَ قَدْرَ نِعْمَةِ اللهِ عَلَيْهِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ تَحْتَهُ، وَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ) الزهد والرقائق لابن المبارك، حدیث نمبر 1433۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خدا کے منصوبۂ تخلیق کے مطابق، دنیا کی چیزوں کی تقسیم میں یکسانیت نہیں۔ یہاں کسی کو کم ملا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو ایک چیز دی گئی ہے اور کسی کو دوسری چیز۔ اس صورت حال نے دنیوی معاملات میں ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان فرق کر دیا ہے ۔ اب اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس کو اپنے سے کم نظر آتا ہے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرنے لگے جو بظاہر اس کو اپنے سے زیادہ دکھائی دیتا ہے تو اس کے اندر ناشکری کا احساس ابھرے گا ۔ اس نفسیاتی خرابی سے بچنے کا آسان حل یہ بتایا گیا ہے کہ ہر آدمی اس کو دیکھے جو اس کے نیچے ہے ، وہ اس کو نہ دیکھے جو اس کے اوپر ہے ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
شیخ سعدی نے لکھا ہے کہ میرے پاؤں میں جوتے نہیں تھے۔ میں نے کچھ لوگوں کو جوتا پہنے ہوئے دیکھا۔ مجھے خیال آیا کہ دیکھو ، خدا نے ان کو جوتا دیا اور مجھے بغیر جوتے کے رکھا۔ وہ اسی خیال میں تھے کہ ان کی نظر ایک شخص پر پڑی جس کا ایک پاؤں کٹا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر انھوں نے اللہ کا شکرادا کیا کہ اس نے انھیں اس سے بہتر بنایا اور ان کو دو تندرست پاؤں عطا کیے— اللہ تعالیٰ کو اپنے ہر بندہ سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس کا شکر گزار بنے۔ مگر موجودہ دنیا میں شکر گزار وہی شخص رہ سکتاہے جو اس اعتبار سے اپنا نگراں بن گیا ہو— ملے ہوئے پرشکر کا جذبہ آدمی کے اندر حوصلہ پیدا کرتا ہے ۔ نہ ملے ہوئےپر شکایت کا ذہن آدمی کو جھنجلاہٹ اور مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نفس کے خلاف جہاد
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا قَدِمْتُمْ مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِقَالُوا وَمَا الْجِهَادُ الأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ (تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، حدیث نمبر 7297)۔ یعنی، تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہو۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول، جہاد اکبر کیا ہے؟ آپ نے کہا کہ بندہ کا اپنے نفس سے جہاد کرنا۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ہم وقتی جہاد سے مستقل جہادکی طرف واپس آئے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We have come back from temporary jihad to permanent jihad.
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی جہاد سے مراد دفاعی جہاد (defensive jihad) ہےجو کبھی کبھی پیش آتا ہے، اور مستقل جہاد سے مراد اسپریچول جہاد(spiritual jihad) ہے جو ہر آدمی کی زندگی میں مستقل طورپر جاری رہتا ہے۔اِس بات کو مالک بن دینار تابعی (وفات130ھ )کے حوالے سے اِس طرح بیان کیا گیا ہے جَاهِدُوا أَهْوَاءَكُمْ كَمَا تُجَاهِدُونَ أَعْدَاءَكُمْ(الكامل في اللغة والأدب للمبرد، جلد2، صفحہ128) ۔ یعنی،اپنی خواہشات سے جہاد کرو، جس طرح تم اپنے دشمن سے جہاد کرتے ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دشمن کے خلاف جہاد انتہائی وقتی چیز ہے، جو اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ کسی نے باقاعدہ طورپر ریاست کے اوپر حملہ کردیا ہو۔ یہ دفاعی جہاد ہے، اور اِس میں صرف کچھ تربیت یافتہ افراد حصہ لیتے ہیں، نہ کہ ساری مسلم کمیونٹی۔ اِس کے برعکس، اپنے نفس کے خلاف جہاد ایک انفرادی نوعیت کی چیز ہے اور وہ ہر مومن کی زندگی میں جاری رہتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اِس لیے اس دنیا میں ہر عمل کو کرنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ مقابلہ پیش آتا ہے۔ اپنے نفس سے کامیاب مقابلے کے بغیر کوئی آدمی جہادِ نفس کے کام کو انجام نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر یہ ایک ثواب کا کام ہے کہ آپ جب کسی شخص سے ملیں تو کہیں’السلام علیکم‘ (تمھارے اوپر سلامتی ہو) ۔ یہ کلمہ اتنا بڑاعمل ہے کہ اِس کے کہنے پر حدیث میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں جب آدمی لوگوں کے ساتھ رہتا ہے تو بار بار اُس کو دوسروں کی طرف سے تلخ تجربات پیش آتے ہیں۔ اِس بنا پر ہر آدمی کے دل میں دوسروں کے خلاف شکایت کے جذبات موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں حقیقی معنوں میں ’السلام علیکم‘ صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جو اس سے پہلے اپنے دل کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرے اور اس کے بجائے اپنے دل کو لوگوں کے لیے خیر خواہی کے جذبات سے بھردے۔غور کیجیے تو یہ کام اتنا مشکل ہے کہ اِس کے لیے وہی زبردست کوشش کرنی پڑے گی جس کو جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہالْحَمد للهتملأ الْمِيزَان(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14657)۔ یعنی،الحمد للہ کا کلمہ میزان کو بھر دیتا ہے۔ غور کیجیے تو یہ بھی کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سچا الحمد للہ کہنے کے لیے بہت بڑا ذہنی عمل درکار ہے۔ الحمد للہ کہنا، خدا کی نعمتوں پر شکر کا اظہار کرنا ہے۔ خدا کی یہ نعمتیں آدمی کو مسلسل طورپر لاتعداد صورتوں میں ملتی رہتی ہیں۔ یہ نعمتیں ہر آدمی کو اپنے آپ ملتی ہیں۔ چنانچہ آدمی ان کا عادی ہو جاتا ہے اور عادی ہونے کی بنا پر شعوری طورپر ان کو بطور نعمت محسوس نہیں کرتا۔ایسی حالت میں الحمد للہ کہنے کے لیے ایک فکری جہاد کرنا پڑتا ہے۔ اُس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی تفکیری قوتوں کو عمل میں لاکر غیر شعور کو اپنے شعور میں لائے، اپنے جذبات کی نئی رُخ بندی کرے، وہ اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرنے کے لیے مجاہدبن جائے۔ اِس کے بعد ہی اس کی زبان سے وہ کلمۂ حمد نکلتا ہے جو میزان کو بھر دینے والا کلمہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آدمی کے اندر طرح طرح کی خواہشیں ہیں— حرص، علو پسندی، دوسرے کو حقیر سمجھنا، بے صبری، غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ آدمی ہر وقت اِن منفی جذبات کے تابع رہتا ہے۔ اِسی کے ساتھ وہ کچھ چیزوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ مثلاً دولت، شہرت اور اولاد، وغیرہ۔ آدمی کی یہ بے پناہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ تمام چیزیں اس کو بھر پور طور پر حاصل ہوجائیں۔
نفرت اور محبت کے یہ مختلف جذبات، آدمی کے اوپر ہر وقت چھائے رہتے ہیں، وہ جو کچھ سوچتا ہے، اِنھیں جذبات سے مغلوب ہوکر سوچتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر انھیں جذبات کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ بلا شبہ ایک جہادی عمل ہے کہ آدمی خدا کو مسلسل طورپر اپنا مرکزِ توجہ بنائے، وہ صراطِ مستقیم سے اپنے آپ کو ہٹنے نہ دے— یہی وہ پُر مشقت عمل ہے جس کو حدیث میں جہادِ نفس کہاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زوجین کے درمیان کامل مطابقت
ایک عورت اور ایک مرد جب نکاح کے بعد ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں تو یہ اجتماع ساری کائنات کاسب سے زیادہ انوکھاواقعہ ہوتا ہے۔وسیع کائنات میں اَن گنت چیزیں ہیں۔ یہاں کی اکثر چیزیں جوڑے (pair)کی صورت میں ہیں، مگر کسی بھی دو چیز کے درمیان وہ کامل مطابقت(complete compatibility) نہیں جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جب ایک عورت اور ایک مرد جیون ساتھی بن کر ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتاہے کہ دونوں شعوری منصوبے کے تحت ایک دوسرے کے لیے بنائے گئے تھے۔
انسانی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے کسی عورت یا مرد کو کم تر پیدا نہیں کیا۔حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد اپنے آپ میں باعتبار تخلیق کامل ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے فہم کا قصور ہے کہ ہم کسی کو کم اور کسی کو زیادہ سمجھ لیتے ہیں۔ عورت اور مرد اگر اِس حقیقت کو جان لیں تو ان کی زندگی شکر کی زندگی بن جائے، شکایت یا محرومی کا احساس ان کے اندر باقی نہ رہے اور پھر وہ زیادہ بہتر طورپر زندگی کی تعمیر کے قابل ہوجائیں۔
زوجین کے درمیان یہ شعور اگر زندہ ہو تو دونوں ایک دوسرے کو پاکر شکر کے جذبات میں سرشار ہوجائیں۔ دونوں اہتزاز(thrill)کے درجے میں ایک دوسرے کو اپنے لیے نعمت سمجھیں۔ یہ اہتزاز اتنا زیادہ طاقت ور ہو جو کبھی اُن سے جُدا نہ ہو۔ دونوں ایک ساتھ اِس طرح رہیں جیسے کہ دونوں کو ان کی سب سے زیادہ محبوب چیز مل گئی ہو۔ دونوں آخری حد تک مثبت احساس میں جینے لگیں۔
دنیا میں اگر صرف عورتیں ہوں اور کوئی مرد وہاں موجود نہ ہو۔ اِسی طرح اگر ایساہو کہ صرف مرد ہوں اورکوئی عورت موجود نہ ہو۔ ایک ایسی دنیا میں بظاہر زندگی ہوگی، مگر وہ خوشیوں سے خالی ہوگی۔ ایسی دنیا میں ہر طرف ایک ایسی کمی کا احساس چھایا رہے گا جو کبھی اور کسی حال میں ختم نہ ہوگا۔ صرف مردوں کی دنیا بھی ایک بے معنی دنیا ہے، اور صرف عورتوں کی دنیا بھی ایک بے معنیٰ دنیا۔ موجودہ دنیا اِسی لیے ایک بامعنیٰ دنیا ہے کہ یہاں عورت اور مرد دونوں موجود ہیں۔
عورت اور مرد اگر اِس حقیقت پر غور کریں تو اُنھیں اُس سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہو جو کسی سائنس داں کو ایک نئی چیز کی دریافت سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف شکایت کی بات اُن کو آخری حد تک بے معنیٰ دکھائی دینے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں تخلیق کا شاہ کار ہیں۔ نکاح کا مطلب دو تخلیقی شاہ کاروں کی یک جائی ہے۔ اِس سے بڑا واقعہ پوری معلوم کائنات میں کوئی دوسرا نہیں۔
شکر اور تقویٰ
روزہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح اس کا بھی ایک ظاہری فارم ہے، اور دوسرا اس کی روح یا حقیقت ہے۔ قرآن کے مطابق روزہ کی حقیقت شکر (2:185) اور تقوی (2:183) ہے۔ یعنی اپنی عبادت میں تقویٰ کی اسپرٹ بڑھانا ، اپنی روحانیت میں اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ اللہ کی قربت حاصل کرنا، بھوک اور سیری کا تجربہ کرکے اپنے اندر شکر کا احساس جگانا، مادی مشغولیت کو کم کرکے آخرت کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا، خارجی سفر کو روک کر داخلی سفر کی طرف رواں دواں ہونا، ایک مہینہ کے تربیتی کورس سے گزر کر پورے ایک سال کے لیے شکر و تقویٰ کی غذا حاصل کر لینا، وغیرہ۔یہی روزہ کا مقصد ہے اوریہی روزہ کی مقبولیت کا اصل معیاربھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں بتایا گیا ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّہِ لَا تُحْصُوہَا (16:18)۔ یعنی، اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کو گن نہ سکو گے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے اتنی زیادہ نعمتیں عطا کی ہیں، جن کی کوئی گنتی نہیں۔ مثلاً سورج کی روشنی، آکسیجن، سوائل (soil) سے غذا (food) کا نکلنا، بارش کا برسنا، وغیرہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ سب وہ عطیات(نعمتیں) ہیں، جو رات دن انسان کوخود بخود ملتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ نعمتیں چونکہ یک طرفہ طور(unilateral) پر سپلائی کی جارہی ہیں۔اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اس کو فار گرانٹیڈ (for granted) لے لیتا ہے، اور جو اعتراف (acknowledgement) مطلوب ہے، اس کو وہ کر نہیں پاتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ انسان لپ سروس کے طور پر الحمد للہ، وغیرہ زبان سے ادا کر دیتا ہے۔ گہرے سنس میں انسان ان نعمتوں کا اعتراف نہیں کرپاتا۔روزہ ایک اعتبار سے یاددہانی ہے کہ انسان جس چیز کو فار گرانٹیڈ لیے ہوئے ہے، اس کو وہ خالق کے عطیے کے طور پر ڈسکور کرے۔
حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ روزہ رکھ کر جب شام کو افطار کرتے، تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تھے ذَہَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللہُ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 2357)۔ یعنی،پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہوگئیں، اور اجر ثابت ہو گیاان شا ء اللہ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نعمتوں کوevaluateکرنے کا تخلیقی (creative)طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ روزہ رکھ کر آدمی کے اندر انعاماتِ الٰہی کے احساس کا طوفان برپا ہوجائے، روزہ رکھ کر آدمی کے اندر وہ زندہ احساس پیدا ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حمد ِ دنیا، حمدِ آخرت
قرآن کی ایک آیت یہ ہے الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:2)۔یعنی، ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ یہ آیت دنیا کی زندگی میں اہلِ ایمان کے روز وشب کا حال بتاتی ہے۔اہلِ جنت جب آخرت میں پہنچیں گے اور جنت میں داخل کردئے جائیں گے تو وہاں ان کا مشغلہ کیا ہوگا، اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیںوَآخِرُ دَعْوَاہُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (10:10)۔ یعنی، وہاں ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ اہلِ جنت کا ایک اور قول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی، شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ان آیتوں پر غور کیجیےتو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جنت دنیامیں کس طرح زندگی گزاریں گے۔ اور پھر آخرت میں ان کو کس قسم کی زندگی حاصل ہوگی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی ان کی زندگی، حمدِ رب کی زندگی ہوگی، اور آخرت میں بھی ان کے صبح وشام رب العالمین کی حمد میں گزریں گے۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں انھوں نے حمدِ رب کی زندگی دار الکبد (البلد،90:4)میں گزاری ہوگی، آخرت میں ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ حزَن سے خالی دنیا (الفاطر،35:34) میں اعلی معیاری درجے میں حمدِ رب کی توفیق پائیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلے کی قیمت کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ذہنی طورپر اتنا ارتقا یافتہ بنائےکہ وہ حزَن اورکبَد کے حالات میں بھی اعلی معرفت کی سطح پر زندگی گزارے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گویا کہ انسان سے جوچیز اصلاً مطلوب ہے، وہ حمد رب ہے۔ دنیا میں بھی حمد، آخرت میں بھی حمد۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی رحمت (blessing) کا نتیجہ ہے۔ پھر پیدا ہونے کے بعد جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہ پوری کی پوری رحمتوں کی دنیا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے واحد طرزِ زندگی صرف یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ اس حقیقت کو یاد رکھے، وہ ہر موقع (occasion) پر اللہ کی بے پایاں رحمت کا اعتراف کرے۔ اس کی شعوری بیداری اس درجہ تک پہنچ جائے کہ ہر چیز سے اس کو حمد خداوندی کا رزق ملنے لگے۔ یہ حالت ایک اعتبار سے دنیا میں اللہ رب العالمین کا اعتراف ہے۔ یہ اس فطری تقاضے کو پورا کرنا ہے جو تخلیق کے اعتبار سے انسان کے اندر ہونا چاہیے۔ یہی انسان وہ ہے جس نے دنیا میں سچا انسان بن کر زندگی گزاری۔
دنیا میں اس طرح زندگی گزارنے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہی سچا انسان وہ انسان ہے جس کو آخرت کی جنت میں وہ درجہ ملے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ بیان کیا گیا ہے فِی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیکٍ مُقْتَدِرٍ (54:55)۔یعنی، وہ بیٹھے ہوں گے سچی بیٹھک میں، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ دنیا میں جو لوگ سچائی کی زندگی گزاریں ، ان کو اس کا یہ انعام ملے گا کہ وہ آخرت میں سچائی کی سیٹ (seat of truth) پر بیٹھنے کا اعزاز حاصل کریں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے زندگی کا سب سے اعلی درجہ یہ ہے کہ وہ معرفت خداوندی میں زندگی گزارے۔ وہ اپنی زندگی کے لمحات اس طرح گزارے کہ وہ مسلسل طور پر اللہ کی نشانیوں کو دریافت کررہاہو۔ آلاءُ اللہ (wonders of God) بلاشبہ کائنات کی سب سے بڑی چیزیں ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو دنیا کی زندگی میں الاء اللہ میں جیے۔ اور آخرت میں وہ زیادہ اعلی صورت میں الاءاللہ اور حمد الٰہی میں جینے کا مرتبہ پائے۔
قرآن کی ایک آیت یہ ہے أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ لذیذ لمحہ (joyous moment)وہ ہے، جب کہ وہ اپنے رب کی قربت حاصل کرے، جب کہ وہ کائنات میں تخلیق کی معنویت کو دریافت کرے، جب کہ اس کا اعلیٰ تصور اس کو فرشتوں کا ہم نشین بنادے، جب کہ وہ اعلی معرفت کا شعوری تجربہ حاصل کرے، جب کہ وہ جنت میں داخل ہونے سے پہلےجنت کی معرفت حاصل کرلے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی انسان کی حقیقی زندگی ہے۔ یہ زندگی ایک سچے انسان کو دنیا میں ابتدائی طور پر حاصل ہوتی ہے، اور آخرت کی جنت میں یہی زندگی اس کو اپنی اعلی صورت میں حاصل ہوگی۔گویا کہ سچا انسان وہ ہے جو اسی دنیا میں اللہ رب العالمین کے پڑوس میں جینے لگے، یہی وہ زندگی ہے، جو جنت میں اس کو زیادہ اعلی درجے میں حاصل ہوگی۔
حمد خداوندی
بسم اللہ کے بعد قرآن کی پہلی آیت یہ ہےالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:2)۔ یعنی، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو جو نعمتیں (blessings)دی ہیں، ان کے جواب میں انسان سے کیا رسپانس مطلوب ہے۔ یہ حمد کا رسپانس ہے۔ حمد کا مطلب شکر اور تعریف کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ مگر انسانی استعمال کے اعتبار سے شاید زیادہ بامعنی لفظ ہے اعتراف (acknowledgement)۔ یعنی ان نعمتوں کو دریافت کرنا، اور دل کے سچے جذبہ کے ساتھ ان کا اعتراف کرنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے شکر یا تعریف کا لفظ بول دیا جائے۔ اعتراف کا آغاز دریافت (discovery)سے ہوتا ہے۔ پہلے انسان ان نعمتوں کو دریافت کرتا ہے، اس کے بعد اس کے دل میں اعتراف کا جذبہ امڈتا ہے، اور پھر ان وفور جذبات کا اظہار مختلف الفاظ کی صورت میں بے ساختہ طور پر اس کی زبان سے نکل پڑتا ہے۔ گویا شکر وہ ہے، جس کے اندر گہرے جذبات کا طوفان شامل ہو۔ شکر وہ ہے، جو دل کو تڑپادے، جو آنسوؤں کی صورت میں امڈ پڑے۔ شکر وہ ہے، جس کے اندر انسان کی پوری شخصیت شامل ہوجائے۔
شکر یہ نہیں ہے کہ زبان سے کچھ الفاظ بول دیے جائیں۔ شکر گہرے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ ایک شاعر نے ایک گہرے جذبے کا ذکر کرنا چاہا، تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے
اس بات کے کہنے کو کہاں سے جگر آئے
حقیقت یہ ہے کہ سچا اعتراف وہ ہے، جس کے احساس سے آدمی کا دل پھٹنے لگے، جس کو بیان کرنے کے لیے انسان کی ڈکشنری کے الفاظ ناکافی نظر آئیں۔ سچا اعتراف انسان کی پوری شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔سچے اعتراف میں آنکھ کے آنسو، اور زبان کے الفاظ اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتے ہیں کہ ان کو الگ کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
حمد اور تضرع
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا. فَقُلْتُ لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ، وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ (مسند احمد،حدیث نمبر22190؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر2347)۔ یعنی، حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب نے میرے سامنے یہ پیش کش کی کہ مکہ کی وادی کو تمہارے لیے سونا بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب! نہیں، بلکہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پس جب مجھے بھوک لگے تو میں تیری طرف عاجزی کروں اور تجھ کو یاد کروں۔ اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری تعریف کروں اور تیرا شکر ادا کروں۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے دو چیزیں مطلوب ہیں— ایک یہ کہ وہ اللہ کی قدرت کا اعتراف کر کے اس کے آگے اپنے عجز کا اظہار کریں۔ دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو محسوس کر کے اس پر شکر کرنے والے بن جائیں۔ یہ دونوں باتیں نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن وحدیث میں بتائی گئی ہیں۔ مگر اس کا سب سے بڑا عملی تجربہ وہ ہے جو بھوک اور سیری کی صورت میں انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جب آدمی کو بھوک لگتی ہے، جب اس کو پیاس ستاتی ہے، اس وقت اس کو آخری حد تک اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قدر کمزور اور محتاج ہے۔ اسی طرح جب بھوک پیاس کی شدت میں مبتلا ہونے کے بعد اس کو کھانا اور پانی ملتا ہے تو اس وقت اس کو آخری طور پر محسوس ہوتا ہے کہ کھانا اور پانی کتنی زیادہ قیمتی چیزیں ہیں۔
اس دنیا میں آدمی کو بھوک کا تجربہ بھی ہونا چاہیے اور سیری کا بھی۔ اس پر یہ کیفیت بھی گزرنی چاہیے کہ اس کا حلق پیاس کی وجہ سے سوکھ گیا ہو، اور اسی کے ساتھ یہ کیفیت بھی کہ اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور اس کے بعد اس کا وہ حال ہو گیا جس کو حدیث میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہےذَهَبَالظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ(شعب الایمان للبیہقی،حدیث نمبر 3902)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہوتیں۔ روزہ اسی قسم کے حالات پیدا کرنے کی ایک سالانہ تدبیر ہے۔ روزہ کے ذریعہ آدمی کو بھوک اور سیری دونوں کا تجربہ کرایا جاتا ہے، تاکہ وہ خدا کے آگے عاجزی کرنے والا بھی بنے اور اسی کے ساتھ اس کا شکر کرنے والا بھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے اگلوں پر فرض کیا گیا تھا ، تاکہ تم پرہیز گار بنو... رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا... پس تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے... اور اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی، اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو (2:183-185)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
ان آیات میں روزہ کے دو خاص فائدے بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ روزہ آدمی کے اندر تقویٰ پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اس سے آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر کرنےوالا بنے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں جس دینی کیفیت کے لیے تقویٰ اور شکر کا لفظ استعمال ہوا ہے، اسی کو حدیث میں تضرع اور شکر کہا گیا ہے۔ یہی دونوں کیفیتیں عبدیت کی اصل ہیں۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس آدمی کے اندر تضرع اور تقویٰ کے احساسات ابھارتا ہے۔ اور اللہ کے عطیات کا احساس اس کے اندر حمد اور شکر کے جذبات پیدا کرتا ہے۔
اگر آدمی کا شعور بیدار ہو تو یہ دونوں کیفیتیں ہرروز ہر تجربہ سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی رہیں گی۔ وہ ہر واقعہ سے یہ دونوں ربانی غذائیں حاصل کرتا رہے گا۔ پھر انھیں دونوں کیفیات کو مزید شدت اور عمومیت کے ساتھ حاصل کرنے کے لیے رمضان کے مہینہ کا روزہ مقرر کیا گیا ہے۔ رمضان کا روزہ گویا عمومی تربیت کا خصوصی کورس ہے۔
حمد کلچر
قرآن میں خالق کائنات کو رب العالمین کہا گیا ہے۔ راغب الاصفہانی(وفات 502ھ) نے رب کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے ہو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام (المفردات فی غریب القرآن، صفحہ 336)۔ یعنی کسی چیز کی پرورش کرکے اس کو درجہ بدرجہ کمال تک پہنچانا۔ رب العالمین کی اس صفت کا اظہار مادی کائنات میں بھی ہواہے، اور انسانی تاریخ میں بھی۔ مادی کائنات میں ربوبیت کی مثال یہ ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی سب سے پہلی دریافت، شعوری طور پر تو نہیں ، مگر غیر شعوری طور پر یہ ہوتی ہے کہ کیسا عجیب ہے ،وہ خالق جس نے پوری دنیا کو میرے لیے کسٹم میڈ دنیا بنا دیا۔ رحم مادر اورخارجی دنیا کا پورا نظام عین وہی ہے، جو انسان کے لیے مطلوب تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے لیے بنا ہے، اور دنیا انسان کے لیے بنائی گئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسانی تاریخ میں اللہ تعالی صفت ربوبیت کا اظہار مختلف اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی، کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔قرآن کی اس آیت میں مایوسی سے بچنےکی تعلیم دی گئی ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے پچھلے لمحات ختم ہوگئے، مگر اگلا لمحہ ابھی باقی ہے۔ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کو اویل کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس معاملے میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی حمد کرے، اور الحمد للہ کلچر کو اپنائے۔ حمد کی حقیقت شکر ہے۔جیسا کہ ایک حدیث رسول میں آیا ہےالْحَمْدُ رَأْسُ الشُّکْرِ، مَا شَکَرَ اللہَ عَبْدٌ لَا یَحْمَدُہُ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 4085)۔ یعنی، حمد شکر کی بنیاد ہے، اس بندے نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا، جو اس کی حمد نہ کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it