Maulana Wahiduddin Khan
16 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

(Page-Sabr ka tariqa)

Urdu · 16 min

صبر کا طریقہ: فساد کا کوئی سبب پیدا ہو تو اس وقت ایک طریقہ صبر کا ہے، اور دوسرا طریقہ اشتعال کا۔ ایسے موقع پر مشتعل ہونا فساد کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ذہن کو قابو میں رکھ کر سوچا جائے اور صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے تو مسئلہ جہاں تھا وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم چند واقعات لکھتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ صبر کا طریقہ اختیار کرنا کس طرح فساد کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔

نمبر 1: غالباً 1973 کی بات ہے، دارالعلوم ندوہ یعنی لکھنؤ کے قریبی محلے میں ایک غیر مسلم کی گائے تھی۔ ایک مقامی مسلمان نے کسی وجہ سے گائے کو مارا، اتفاق سے چوٹ کسی نازک مقام پر لگ گئی اور گائے مر گئی۔ غیر مسلم حضرات کو جب معلوم ہوا کہ ان کی گائے ایک مسلمان نے مار ڈالی ہے تو پورے علاقے میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم لوگ جمع ہو گئے۔

سب سے قریب مسلم مرکز ندوہ تھا، وہ لوگ ندوے میں گھس آئے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔ یہ بڑا نازک وقت تھا۔ اندیشہ تھا کہ وہ لوگ ندوے کو آگ لگا دیں اور پھر سارے شہر میں فساد برپا ہو جائے۔ ندوہ کے ذمہ داروں نے اس موقع پر مشورہ کیا۔

طے ہوا کہ اس مشتعل مجمعے کو ٹھنڈا کرنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ گائے کے قاتل کو مجمعے کے حوالے کر دیا جائے۔ اگرچہ یہ ایک خطرناک کام تھا، مگر شہر کو آگ اور خون سے بچانے کی کوئی دوسری تدبیر ممکن نہ تھی۔ چنانچہ ذمہ دار حضرات مذکورہ مسلمان کے پاس گئے، جو غالباً ندوے کے ایک کمرے میں چھپا ہوا تھا۔ اس سے کہا کہ اس وقت ندوہ اور سارا شہر خطرے میں ہے، مگر ان کا سارا غصہ تمہاری وجہ سے ہے۔

اگر وہ تم کو پا جائیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا، اگرچہ یہ تمہارے لیے ایک خطرے کی بات ہے۔ تاہم امید ہے کہ اللہ کی مدد حاصل ہوگی اور تم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ آخر کار وہ راضی ہو گیا اور نکل کر مجمعے کے سامنے آ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کی گائے میں نے ماری ہے، اس لیے آپ میرے ساتھ جو چاہیں کریں۔

البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ میں نے مارنے کی نیت سے نہیں مارا تھا، بلکہ اس کو بھگانے کے لیے مارا تھا۔ اتفاق کی بات تھی کہ وہ مر گئی۔ مجمعے نے جب گائے کے قاتل کو دیکھا اور اس کی باتیں سنیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ لوگ جو ندوہ کو پھونکنے اور شہر کی مسلم آبادی کو ویران کرنے پر تلے ہوئے تھے، وہ صرف اتنی سی بات پر راضی ہو گئے کہ گائے کا قاتل گائے کی قیمت ادا کر دے۔

قیمت فوراً ادا کر دی گئی اور مسئلہ اسی وقت ختم ہو گیا۔ نمبر 2: فیروزپور جھرکہ ضلع گڑگاؤں یعنی ہریانہ کا ایک قصبہ ہے۔ قصبے میں تقریباً تمام دکانیں غیر مسلم حضرات کی ہیں، مگر اطراف کے تمام دیہاتوں میں مسلمانوں یعنی میوؤں کی اکثریت ہے۔ فیروزپور کے بازار میں زیادہ تر یہی مسلمان خریداری کرتے ہیں۔

1980 کے آغاز میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک غیر مسلم خاندان کی لڑکی گھر سے غائب ہو گئی۔ لوگوں کو شبہ ہوا کہ کچھ مسلم نوجوانوں نے ایسا کیا ہے۔ چنانچہ غیر مسلم حضرات نے کافی شور و غل کیا، پولیس میں رپورٹ کر کے کچھ مسلمانوں کو گرفتار کرایا۔ ایک روز احتجاجی ہڑتال کی، بسوں کو روک کر مسلم مسافروں کو پریشان کرنا شروع کیا۔

ہندی اخبارات میں اغوا کی رپورٹ شائع کرائی۔ اس طرح کے واقعات نے علاقے میں سخت اشتعال پیدا کر دیا اور اندیشہ ہو گیا کہ کسی بھی دن فساد برپا ہو جائے اور اس کے بعد سارا علاقہ آگ اور خون کی نظر ہو جائے۔ اس علاقے میں مسلمانوں کی پنچایت قائم ہے، اور اہم قومی مسائل پر پنچائتی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ پنچایت کا اعلان ہوا تاکہ باہمی مشورے سے اقدام کا فیصلہ کیا جائے۔

ایک خاص تاریخ کو علاقے کے چوہدری اور ذمہ دار مسلمان کئی سو کی تعداد میں فیروزپور کے پاس ایک مقام پر جمع ہوئے۔ کئی گھنٹے کی گفتگو کے بعد بالآخر بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا۔ طے ہوا کہ مسلمان کوئی براہ راست کارروائی نہ کریں، بلکہ خاموشی سے یہ کریں کہ غیر مسلم دکانداروں کے یہاں سے خریداری کرنا بالکل بند کر دیں۔ کچھ لوگ نگراں مقرر ہوئے جو بازار کے تمام راستوں پر بیٹھیں اور یہ دیکھتے رہیں کہ کوئی مسلمان خریداری کے لیے غیر مسلم دکانداروں کے یہاں نہ جائے۔

اگلے دن سے بائیکاٹ شروع ہو گیا۔ میوؤں کے نزدیک برادری کے فیصلے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، اس لیے بائیکاٹ کا فیصلہ 70% کامیاب رہا۔ فیروزپور کا بازار، نیز اطراف کے بازار جو روزانہ بھرے رہتے تھے، بالکل سننے ہو گئے۔ دکاندار سارے دن بیکار رہنے لگے۔

ابھی بائیکاٹ کو صرف 3 دن گزرے تھے کہ غیر مسلم دکاندار چیخ اٹھے۔ غیر مسلم دکانداروں نے باہم مشورہ کر کے علاقے کے ذمہ دار مسلمانوں کو بلایا اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک مشترکہ پنچایت کی۔ غیر مسلم حضرات نے کہا کہ ہم آپ کے بھائی ہیں، جو کچھ ہوا اس کو بھول جائیے اور ہماری کوتاہی معاف کیجیے، اور بائیکاٹ کو ختم کر دیجیے۔ مسلمانوں نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور چوتھے دن بائیکاٹ ختم ہو گیا۔

اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جو کارروائیاں کی جا رہی تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں۔ واقعہ نمبر 3: علی گڑھ یونیورسٹی کیمپس میں ستمبر 1980 میں یہ واقعہ ہوا کہ ہادی حسن ہال کے پیچھے ایک جھاڑی میں دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے چار آدمی ایک سور کاٹ رہے تھے۔ بظاہر ان کا منصوبہ یہ تھا کہ سور کے ٹکڑے یونیورسٹی میں پھینک کر وہاں کے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا جائے، اور اس طرح بہانہ پیدا کر کے یونیورسٹی کے علاقے میں فساد کیا جائے۔ اتفاق سے کچھ مسلم طلبہ نے اس کو دیکھ لیا۔

انہوں نے فوراً یونیورسٹی پروکٹر کو مطلع کیا۔ پروکٹر نے اسی وقت پولیس کو ٹیلی فون کیا۔ پولیس اطلاع ملتے ہی فوراً پہنچ گئی اور چاروں آدمیوں کو عین موقع پر گرفتار کر لیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لوگوں کی یہی دانشمندی تھی جس کی وجہ سے ایسا ہوا کہ 1979 تا 80 میں علی گڑھ میں مہینوں تک فساد کا سلسلہ جاری رہا، مگر سارا فساد شہر کے علاقے میں ہوا اور ریلوے لائن کے دوسری طرف یونیورسٹی کا وسیع علاقہ بالکل محفوظ رہا۔

علی گڑھ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ہر تخریبی سازش کو دانشمندی کے ذریعے غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد کے اسباب مکمل طور پر پیدا ہونے کے باوجود اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی واقعہ خواہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، ہمیشہ اس کے اندر اس کی کاٹ کے اسباب بھی موجود ہوتے ہیں، اور یہ ممکن ہوتا ہے کہ ان کو استعمال کر کے اس کو غیر مؤثر بنا دیا جائے۔ مگر اس امکان کو استعمال کرنے کی لازمی شرط صبر ہے۔

واقعہ خواہ کتنا ہی خلاف مزاج ہو، مگر دانشمندی یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی مشتعل نہ ہو۔ مشتعل آدمی کی عقل کھوئی جاتی ہے، وہ کسی معاملے کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا، اس لیے وہ اس کو دفع کرنے کی صحیح منصوبہ بندی بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد انتہائی ضروری ہے کہ آدمی مشورہ کرے۔ مشورے سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں: ایک یہ کہ اس میں کئی آدمیوں کی سوچ اور تجربات شامل ہو جاتے ہیں، اس لیے معاملے کو زیادہ وسعت کے ساتھ سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے۔

دوسرے یہ کہ اس میں متاثر ذہن کے ساتھ غیر متاثر ذہن کی رائے بھی شامل ہو جاتی ہے، اس لیے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچا سمجھا فیصلہ ہوتا ہے، نہ کہ مغلوب ذہن کے تحت کیا ہوا فیصلہ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایک طرفہ الزام بازی کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کیا جائے، بلکہ فیاضی کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا جائے۔ انسان کی یہ نفسیات ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ مقابل کا آدمی اپنی غلطی کو نہیں مان رہا ہے تو اس کے متعلق اس کے اندر انتقام کے جذبات امڈتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آدمی دیکھے کہ اس کا حریف اپنی غلطی کو کھلے دل سے مان رہا ہے تو اچانک اس کے اندر رحم اور عفو کے جذبات امڈ آتے ہیں۔

وہ محسوس کرتا ہے کہ غلطی کا اعتراف کر کے اس نے اپنی سزا آپ دے دی ہے، اب میں مزید سزا اسے کیا دوں؟ یہ بھی حد درجہ ضروری ہے کہ قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں باقاعدہ قانون کی حکومت قائم ہو، وہاں قانون اپنے ہاتھ میں لینا اپنے کو مجرم کی صف میں کھڑا کرنا ہے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر آدمی اپنے آپ کو بیک وقت دو فریقوں کا مد مقابل بنا لیتا ہے: ایک وہ شخص جس نے کوئی شر کیا تھا، اور دوسرے ملک کا انتظامیہ۔

اس کے برعکس اگر آپ معاملے کو فوراً انتظامی ذمہ داروں کے حوالے کر دیں تو آپ درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ اب سارا معاملہ شر پسند اور انتظامیہ کے درمیان ہو جاتا ہے۔ آخری ضروری چیز اتحاد ہے۔ کوئی بھی اجتماعی تدبیر اجتماعی طاقت ہی سے کامیاب ہوتی ہے، اور اتحاد ہی کا دوسرا نام اجتماعی طاقت ہے۔

اس سلسلے میں یہ بات بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ اتحاد اس طرح کبھی نہیں ہوتا کہ تمام لوگوں کی رائیں ایک ہو جائیں۔ ایسا اتحاد موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ اتحاد دراصل اختلاف رائے کے باوجود متحد ہونے کا نام ہے، نہ کہ اختلاف رائے نہ ہونے پر متحد ہونے کا۔ اگر ہم اپنے حریف کے مقابلے میں مؤثر بننا چاہتے ہیں تو ہم کو رائے کی قربانی دینے پر تیار ہونا پڑے گا۔

رائے کی قربانی ہی پر اتحاد قائم ہوتا ہے، اور جہاں اتحاد موجود ہو وہاں کسی شریر کی شرارت کا کوئی گزر نہیں۔ تدبیر وہی ہے جو خاموش تدبیر ہو۔ کسی ناخوشگوار صورتحال کے پیش آنے کے بعد جب آدمی شور و غل کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو گیا ہے، اور جذبات سے مغلوب انسان کبھی کوئی گہری تدبیر سوچ نہیں سکتا۔ گہری تدبیر گہرے غور و فکر سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ شور و غل آدمی کو اس قابل ہی نہیں رکھتا کہ وہ کسی معاملے میں گہرائی کے ساتھ غور کر سکے۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 273۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.