Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shakhsiyatsazi ka amal

Urdu · 15 min

شخصیت سازی کا عمل: روسو، یعنی Jean-Jacques Rousseau، فرانس کا مشہور جمہوری مفکر ہے۔ وہ 1712 میں پیدا ہوا اور 1778 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شخصی بادشاہت کے مقابلے میں عوامی حکمرانی کا علم بردار تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب "معاہدۂ عمرانی" یعنی Social Contract کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے: "انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھتا ہوں۔

" "Man was born free, but I see him in chain. " مگر انسان کا ایک اور مسئلہ ہے، جو شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، اور وہ Conditioning ہے۔ ہر عورت اور مرد کسی ماحول میں رہتے ہیں، ماحول کی نسبت سے ہر ایک کے ذہن کی Conditioning ہو جاتی ہے، جو اس کو صحیح طرزِ فکر سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔

اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے، روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ: "انسان فطرت پر پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ Conditioned دکھائی دیتا ہے۔ " "Man was created in—" "Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned. " ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کر لی ہے۔

پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین وہی فطری سوچ ہوتی ہے جو بطور واقعہ ہونا چاہیے۔ مگر انسان ایک سماجی حیوان، یعنی Social Animal ہے۔ اس کو اپنی ساری زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے سماج کے اندر گزارنا ہوتا ہے۔

اس بنا پر اس کا ذہن ہر آن خارجی تاثر قبول کرتا رہتا ہے، جس کو Conditioning کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر پذیری بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان مکمل طور پر Conditioning کا کیس بن جاتا ہے۔ سنِ شعور کو پہنچنے کے بعد، ہر عورت اور مرد کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس Conditioning کو سمجھے، اور اپنے ذہن کی Deconditioning کر کے دوبارہ اپنے آپ کو حالتِ فطری کی طرف واپس لے جائے۔ وہ اپنے آپ کو انسانِ مصنوعی کے بجائے انسانِ فطری بنائے۔

موجودہ زمانے میں علمِ نفسیات میں ایک نظریہ بہت عام ہو گیا ہے، جس کو Behaviorism کہا جاتا ہے۔ نفسیات کے اس مدرسۂ فکر میں یہ مان لیا گیا ہے کہ یہ Conditioning ہی انسان کی مستقل حالت ہے۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے کچھ نہیں، یہ دراصل ماحول کی Conditioning ہے جو انسان کی شخصیت سازی کرتی ہے۔ اس نظریے کے حاملین کہتے ہیں کہ انسان Nature سے نہیں بنتا، بلکہ وہ Nurture سے بنتا ہے، یعنی ماحول کی پرورش سے۔

اس نفسیاتی مدرسۂ فکر کے لوگ کہتے ہیں کہ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے، وہیں کے حالات اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ "He was nurtured when he was born." انسانی شخصیت کی زیادہ گہری تحقیق اس نظریے کو رد کر رہی ہے۔ زیادہ گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت ہوتا ہے۔ جینیٹک کوڈ کی حالیہ دریافت مذکورہ نظریے کی مکمل تردید ہے۔

اس دریافت کے ذریعے ثابت ہوا ہے کہ جینیٹک کوڈ کے اندر پیدائشی طور پر ہر انسان کی مکمل شخصیت موجود ہوتی ہے۔ بعد کے دور میں انسان کی جو شخصیت بنتی ہے، وہ اسی جینیٹک کوڈ کی صرف Unfolding ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق، زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ماحول کی Conditioning اصل انسان کے اوپر ایک مصنوعی پردے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا انسان کی شخصیت پیاز کی مانند ہے۔

پیاز کے اندر مٹر کی مانند ایک مغز ہوتا ہے۔ اس داخلی مغز کے اوپر خارجی پردے کے مانند بہت سے چھلکے ہوتے ہیں۔ اگر ان چھلکوں کو ہٹایا جائے تو پیاز کا اندرونی مغز کھل کر سامنے آ جائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔

انسان کی شخصیت کے اوپر ماحول کے اثر سے مصنوعی پردے پڑ جاتے ہیں۔ ان پردوں کو ہٹا دیا جائے تو انسان کی اصل شخصیت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ انسانی شخصیت کے انہی خارجی پردوں کو ہٹانے کا نام Deconditioning ہے۔ جو آدمی سچائی کا طالب ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی Deconditioning کر کے مصنوعی پردوں کو ختم کرے، تاکہ اس کی اصل شخصیت سامنے آ سکے۔

مذہب میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان خدا کی خاص تخلیق ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی خدائی شخصیت، یعنی Divine Personality، پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے داخلی وجود کے اعتبار سے ایک صحیح اور کامل شخصیت ہوتا ہے۔ ابدی کامیابی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی سب سے پہلے اپنی اس فطری شخصیت کی حفاظت کرے۔

وہ اپنے آپ کو اس حالتِ فطری پر قائم کرے جس پر اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اسی خود تعمیری جدوجہد کا نام Deconditioning ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان جب ایک ماحول میں پرورش پاتا ہے تو ہر دن اس کے ساتھ مختلف منفی تجربے پیش آتے ہیں۔ یہ تجربے اس کی اصل شخصیت پر غیر مطلوب پردے ڈالتے رہتے ہیں۔

مثلاً، ایک شخص اس کے مقابلے میں زیادہ ترقی کر گیا، یہ تجربہ اس کے اندر حسد کے جذبات پیدا کرتا ہے، اور اس کی شخصیت کے اندر حسد کا ایک عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح، ایک شخص اس کے ساتھ ناپسندیدہ سلوک کرتا ہے، یہ تجربہ اس کی شخصیت میں نفرت کا ایک عنصر شامل کر دیتا ہے۔ ایک مشاہدہ اس کے سامنے آتا ہے، اس کو دیکھ کر اس کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو لالچ کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی شخصیت میں لالچ کا ایک عنصر داخل کر دیتا ہے۔

اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اس کے ساتھ ظلم کا معاملہ کرتا ہے، یہ تجربہ اس کے اندر تشدد کا جذبہ جگاتا ہے، اور اس کی شخصیت میں تشدد کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ماحول کے اندر آدمی کو مختلف قسم کے تجربات سے سابقہ پیش آتا رہتا ہے، اور ہر تجربہ ایک منفی عنصر بن کر اس کی شخصیت کی تشکیل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی اصل شخصیت پردوں میں ڈھک جاتی ہے۔ انسان فطری بدل کر انسانِ مصنوعی بن جاتا ہے۔

Deconditioning اسی مصنوعی صورتحال کی تصحیح ہے۔ یہ Deconditioning ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر انسان کی شخصیت ایک ناقص شخصیت بنی رہے گی۔ وہ کبھی کامل شخصیت کا درجہ نہ پا سکے گی۔

اس Deconditioning کا بنیادی ذریعہ احتسابِ خویش، یعنی Introspection ہے۔ ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اپنا نگراں بن جائے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے اندر سے ہر منفی آئٹم کو نکالے، اور اس کو فکری تصحیح کے عمل سے گزار کر مثبت آئٹم بنائے۔ اور پھر اسی مثبت آئٹم کو اپنی شخصیت میں واپس داخل کرے۔

جس طرح مویشی جگالی، یعنی Rumination کر کے اپنے اندر سے غیر ہضم شدہ غذا کو نکالتے ہیں، اور پھر اس کو قابلِ ہضم بنا کر اپنے پیٹ میں دوبارہ داخل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ Deconditioning کے ذریعے اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کرے۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے دو بڑے حصے ہیں: شعور اور لاشعور۔ انسان کے ساتھ جب کوئی ناخوشگوار تجربہ گزرتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کے ذہن کے شعوری خانے میں ایک منفی آئٹم کے طور پر داخل ہوتا ہے۔

یہ منفی آئٹم چند دن تک زندہ شعور کے خانے میں رہتا ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ اس کے لاشعور کے خانے میں چلا جاتا ہے، اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی پہلے ہی دن یا چند دن کے اندر ہر منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے، تاکہ یہ آئٹم جب زندہ شعور سے گزر کر اس کے لاشعور میں یا حافظے کے اسٹور میں پہنچے تو وہ ایک مثبت آئٹم کے طور پر وہاں محفوظ ہو۔ یہی وہ عمل ہے جو انسانی شخصیت کی تعمیر میں اصل فیصلہ کن عامل، یعنی Factor، کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی عمل کے دوران یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی انسان منفی شخصیت کا حامل ہوگا یا مثبت شخصیت کا حامل۔ جو آدمی اپنے روزمرہ کے تجربات پر تصحیح کا عمل کر کے اس کو مثبت آئٹم میں ڈھالتا رہے، اس کے لاشعور یا حافظے کے اسٹور میں تمام آئٹم مثبت آئٹم کے طور پر جمع ہوں گے۔ ایسے انسان کی شخصیت ایک مثبت شخصیت ہوگی۔ اس کے برعکس جو انسان تجربے کے پہلے ہی مرحلے میں تصحیح کا یہ عمل جاری نہ کر سکے، اس کو پیش آنے والے تمام منفی آئٹم اس کے لاشعور کے خانے میں صرف منفی آئٹم کے طور پر جگہ پائیں گے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی پوری شخصیت ایک منفی شخصیت بن جائے گی۔ انسان جو بھی عمل کرتا ہے، خواہ وہ اس کی سوچ ہو یا وہ اس کا قول ہو یا وہ اس کا عمل، سب کچھ اس کے لاشعور کے تحت ہوتا ہے۔ کوئی انسان اپنے شعور کے کم اور اپنے لاشعور کے زیادہ تابع ہوتا ہے۔ جس انسان کا لاشعور منفی آئٹم کا ذخیرہ بن جائے، اس کے تمام اقوال و اعمال منفی نوعیت کے ہوں گے۔

اس کے برعکس جس انسان کا لاشعور خود تعمیری کے نتیجے میں مثبت آئٹم کا ذخیرہ بنا ہوا ہو، اس کے تمام اقوال و اعمال صحت مند اور مثبت انداز کے حامل ہوں گے۔ حق کی تلاش یا حق کی یافت، دونوں ہی مثبت شخصیت کا فعل ہے۔ یہ دراصل مثبت شخصیت ہے جس کے اندر تلاشِ حق کا اعلیٰ جذبہ جاگتا ہے۔ اور یہ مثبت شخصیت ہی ہے جو اپنی سلامتِ فکر کی بنا پر آخر کار حق کی یافت کے مرحلے تک پہنچتی ہے۔

تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 470۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.