Maulana Wahiduddin Khan
29 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Manfi soch islam me nahi

Urdu · 29 min

منفی سوچ اسلام میں نہیں۔ ایک قوم کے اندر دوسری قوم کے خلاف منفی جذبات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جبکہ پہلی قوم اپنی کسی مصیبت کا ذمہ دار دوسری قوم کو سمجھ لے۔ مگر اسلام میں اس قسم کی منفی سوچ کی قطعاً گنجائش نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے قرآن میں حتمی طور پر اعلان کیا ہے کہ جو بھی مصیبت تمہارے اوپر آتی ہے، وہ صرف تمہارے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوتی ہے۔

سورہ نمبر 42 آیت 30۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کوئی مصیبت پیش آنے پر صرف یہ کرنا ہے کہ ذاتی احتساب یعنی سیلف انٹروسپیکشن کر کے اپنی جانب کی کوتاہی کو معلوم کیا جائے، جو کہ اصل وجہ ہے، اور پھر اس کو درست کیا جائے۔ اس کے برعکس، اپنی مصیبت کا ذمہ دار کسی دوسرے کو قرار دے کر اس کے خلاف نفرت اور انتقام میں مبتلا ہونا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔ پیغمبر اسلام کی حدیثوں میں بھی یہ حقیقت مختلف انداز سے بیان ہوئی ہے۔

اس سلسلے میں ایک حدیث یہ ہے: یعنی تم اپنے دشمنوں پر اس وقت تک غالب رہو گے جب تک میری سنت کو پکڑے رہو گے، اور جب تم میری سنت سے نکل جاؤ گے تو اللہ تمہارے اوپر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو نہ تم سے ڈرے گا اور نہ تم پر رحم کرے گا، یہاں تک کہ تم میری سنت کی طرف لوٹ آؤ۔ مسند ابو یعلی، حدیث نمبر 5659۔ قرآن سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دشمن خود مسلمانوں کی اپنی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس سے باہر، خارجی مسئلے کی حیثیت سے دشمن کا کوئی وجود نہیں۔

قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے: وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا سورہ نمبر 3 آیت 120۔ یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کے لیے اصل مسئلہ سازش کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ اگر اہل ایمان کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پائی جائے تو وہ پوری طرح دشمنوں کی سازش سے محفوظ رہیں گے۔

انہیں دوسروں کی طرف سے کوئی گزن پہنچنے والا نہیں۔ اس اصول کی عملی مثال بھی قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ ایک مثال غزوہ احد کی ہے۔ پیغمبر اسلام کی ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد پیش آیا۔

اس غزوے میں مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا۔ یہ غزوہ واضح طور پر پیغمبر اسلام کے مخالفین کی زیادتی کی بنا پر پیش آیا۔ اس کا ایک کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ یہ غزوہ مدینے کی سرحد پر ہوا۔ یعنی مخالفین اپنے وطن مکے سے 300 میل کا فاصلہ طے کر کے جارحانہ طور پر مدینہ آئے اور مسلمانوں کے وطن پر حملہ کیا۔

لیکن قرآن میں جب غزوہ احد پر تبصرہ کیا گیا تو اس میں مخالفین کے ظلم اور سازش کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا، بلکہ یہ کہا گیا کہ مسلمانوں کی خود اپنی داخلی کوتاہی کے نتیجے میں یہ شدید نقصان انہیں بھگتنا پڑا۔ غزوہ احد کے بارے میں قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ سورہ نمبر 3 آیت 152۔ یعنی جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے میں اپنے درمیان اختلاف کر لیا۔ قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ احد کی شکست اور نقصان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو قرار نہ دیں، بلکہ خود اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھ کر اپنی اصلاح کریں۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خدا کے ایک اور قانون کو جاننا بہت ضروری ہے۔ اس قانون کا تعلق مخصوص طور پر اہل کتاب سے ہے۔ اس خدائی قانون کا اطلاق پیغمبر اسلام کے ظہور سے پہلے سابق اہل کتاب یہود پر ہوا، اور اب اس خدائی قانون کا تعلق مسلم امت سے ہو گیا ہے، جو کہ پیغمبر آخر الزماں کے ظہور کے بعد اہل کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس خدائی قانون کے تعلق سے یہود کے ساتھ جو معاملہ ہوا، اس کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے: ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دوبارہ زمین یعنی شام میں خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔

پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹا دی اور اولاد سے تمہاری مدد کی، اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کرو گے تو تم اپنے لیے اچھا کرو گے، اور اگر تم برا کرو گے تب بھی اپنے لیے برا کرو گے۔

پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد یعنی بیت المقدس میں گھس جائیں، جس طرح اس سے پہلے اس میں جس طرح اس میں پہلی بار گھسے تھے، اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کر دیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے، اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے۔ سورہ نمبر 17 آیات 4 تا 8۔

اس آیت میں یہود کی تاریخ کے دو ایسے واقعے کا ذکر ہے جبکہ غیر یہودی حکمران نے یہودی قوم کے اوپر چڑھائی کر کے ان کو سخت تباہی سے دوچار کیا۔ پہلا واقعہ 586 قبل مسیح میں یعنی عراق کے غیر یہودی حکمران بنو قد نظر یعنی نبی قد نظر کے ذریعے پیش آیا۔ اور دوسرا واقعہ 70 عیسوی میں رومی بادشاہ تیتس یعنی ٹائٹس کے ذریعے۔ مگر قرآن میں ان دونوں واقعات کو ظلم کا واقعہ نہیں بتایا گیا۔

یعنی یہ نہیں کہا گیا کہ فلاں ظالم حکمران نے مظلوم یہودیوں کے اوپر متشددانہ کارروائی کی۔ اس کے برعکس ان واقعات کو خدا نے اپنی طرف منسوب کیا۔ یعنی یہ کہ وہ خدا کے بندے تھے جو خدا کے منصوبے کی تکمیل کے لیے فلسطین بھیجے گئے۔ قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کا معاملہ بھی وہی ہے جو اس سے پہلے یہود کا معاملہ تھا۔

یعنی ایسا ہو سکتا ہے کہ جب مسلمانوں میں بگاڑ آ جائے تو خدا اپنے بندوں میں سے کسی بندے کے ذریعے مسلمانوں کے اوپر تنبیہی عذاب بھیجے۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس کو ظالم کا ظلم نہ سمجھیں، بلکہ خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی تنبیہی سزا سمجھیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ کسی کو ظالم فرض کر کے اس کے خلاف نفرت اور تشدد کا سلسلہ نہ شروع کریں، بلکہ ذاتی احتساب کے ذریعے اپنی اصلاح میں لگ جائیں۔ اسلام کے ظہور کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کی یہی سوچ غالب رہی۔

پرنٹنگ پریس اور میڈیا کے دور سے پہلے مسلمانوں کے لیے پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی چیز زیادہ تر قرآن اور حدیث ہوا کرتا تھا۔ اس لیے ان کی سوچ وہی بنتی تھی جو قرآن اور حدیث کی مذکورہ تعلیم کے مطابق ہو۔ ہر ایسے موقع پر وہ محاسبہ خویش میں مبتلا ہو جاتے تھے، نہ کہ دوسروں کو ملزم ٹھہرا کر ان کے خلاف نفرت اور انتقام کی باتیں کرنے لگیں۔ یہاں اس سلسلے میں پچھلی تاریخ کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔

تیرہویں صدی میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکستان کے پہاڑی علاقے میں بسنے والے جنگجو تاتاری قبائل مسلم سلطنت کے حدود میں داخل ہوئے۔ انہوں نے سمرقند سے لے کر حلب تک پورے علاقے کو تباہ کر دیا۔ ہر طرف آگ اور خون کے مناظر دکھائی دینے لگے۔ بظاہر یہ دوسروں کی طرف سے جارحیت کا معاملہ تھا، مگر اس زمانے کے علماء نے اس معاملے میں وہ منفی انداز اختیار نہیں کیا جو موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اس طرح کے معاملات میں عام طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔

مشہور مسلم مؤرخ عز الدین ابن الاثیر، وفات 1232 عیسوی، تاتاری حادثے کے زمانے میں موجود تھے۔ انہوں نے خود ذاتی تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر اپنی کتاب "الکامل فی التاریخ" میں اس واقعے کی تفصیل بیان کی ہے۔ ابن الاثیر نے اس واقعے کی ہولناک ابن الاثیر نے اس واقعے کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کون ہے جس کے لیے آسان ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت کی داستان لکھے، اور کون ہے جس کے لیے اس کا ذکر آسان ہو۔ کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا، اور کاش میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا اور ختم ہو گیا ہوتا۔

اگر کوئی کہے کہ جب آدم پیدا کیے گئے اس وقت سے لے کر اب تک ایسا حادثہ انسانیت پر نہیں آیا تو یقینا وہ سچا ہوگا۔ تاہم ابن الاثیر نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی طرح یہ نہیں کیا کہ وہ تاتاری حملہ آوروں کے خلاف نفرت اور انتقام کی بولی بولنے لگے اور ان کو مجرم قرار دے کر ان کو بد دعائیں دیں۔ اس کے برعکس ابن الاثیر نے جو کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے خود مسلمانوں کو اس حادثے کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایران کے مسلم حکمران خوارزم شاہ نے تاتاری تاجروں کو قتل کروایا اور ان کے مال کو لوٹ لیا۔

یہ خبر جب تاتاری سردار چنگیز خان کو پہنچی تو اس نے قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ مسلم سلطنت کو تباہ کر کے رہے گا۔ چنانچہ اس نے غضب ناک ہو کر سمرقند کی طرف سے مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا، جس کی تکمیل اس کے پوتے ہلاکو خان نے کی۔ ابن الاثیر "الکامل فی التاریخ" جلد 12 صفحہ 362۔ دوسری مثال لیجئے: نادر خان، وفات 1747 عیسوی، ایران کا بادشاہ تھا۔

وہ ظلم اور سخت گیری کے لیے مشہور ہے۔ اس نے 1739 عیسوی میں ہندوستان پر حملہ کیا اور پیش قدمی کرتا ہوا دلی پہنچ گیا۔ اس نے دلی میں فتح حاصل کرنے کے بعد یہاں قتل عام کروایا۔ اس کا اصل مقصد یہاں سونا چاندی لوٹنا تھا، چنانچہ اس نے یہی کیا۔

قتل عام کے بعد تخت طاؤس اور کوہ نور ہیرا اور دوسرے قیمتی اموال لے کر وہ اپنے وطن واپس چلا گیا۔ اس سنگین واقعے پر بھی اس وقت کے مسلم علماء کا رد عمل موجودہ مسلمانوں جیسا نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اس کو احتساب کے خانے میں ڈال دیا۔ اس زمانے کے ایک مشہور بزرگ مرزا مظہر جان جانا، وفات 1586 عیسوی نے نادر خان کے واقعے پر اپنا یہ تبصرہ کیا کہ نادر خان نے جو کچھ کیا وہ نہ وہ نادر خان کا ظلم نہ تھا، بلکہ یہ خود ہمارے اعمال تھے جنہوں نے نادر خان کی صورت اختیار کر لی۔ شامت اعمال ماں صورت نادر گرفت۔

یہ صرف موجودہ زمانے کی بات ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے مذکورہ قسم کے واقعات پر فوراً منفی رد عمل اختیار کر لیتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں کے جس اخبار یا میگزین کو دیکھا جائے تو ہر ایک میں یہ ملے گا کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے واقعات کو دوسری قوموں کے ظلم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہوگا۔ اس قسم کی منفی رپورٹنگ اتنی عام ہے کہ اس میں غالباً کوئی استثنیٰ نہیں۔ میرے تجربے کے مطابق منفی رپورٹنگ کا یہ طریقہ زیادہ تر موجودہ زمانے میں پرنٹ میڈیا کا دور آنے کے بعد شروع ہوا۔

جدید صحافت میں خبروں کی رپورٹنگ کا ایک خاص طریقہ ہے جس کو الٹا احرام یعنی انورٹڈ پیرامڈ کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی واقعے کے نقطہ انتہا سے خبر کی رپورٹنگ کا آغاز کرنا۔ مثلاً نئی دہلی میں دو آدمیوں کے درمیان ایک مالی معاملے میں جھگڑا ہوا۔ مثلاً نئی دہلی میں دو آدمیوں کے درمیان ایک مالی معاملے میں جھگڑا ہو، وہ بڑھ کر دشمنی بن جائے اور پھر ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو مار ڈالنے کے در پہ ہو جائے، وہ اس کا پیچھا کرنے لگے، یہاں تک کہ ایک دن وہ اس کو ایک پارک میں تنہا پا جائے اور اس کو قتل کر دے۔

اس واقعے کی خبر اگلے دن اخبار میں آئے تو ایسا نہیں ہوگا کہ کہانی کو اس کی واقعاتی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جائے اور پھر آخر میں قتل کی بات لکھی جائے۔ اس کے برعکس خبر کا پہلا جملہ یہ ہوگا: نئی دہلی کے پارک میں قتل۔ واقعہ نگاری کا یہ طریقہ فطرت کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن جو کتاب فطرت ہے، اس میں واقعہ نگاری کی ایک مثال سورہ یوسف میں ملتی ہے۔

اس سورہ میں پیغمبر یوسف کے حالات بتائے گئے ہیں، مگر اس میں جو اسلوب ہے وہ واقعے کی تاریخی ترتیب کے مطابق ہے۔ واقعہ نگاری کے اس اسلوب میں قاری کا ذہن وہی بنتا ہے جو فطری طور پر اس کا ذہن بننا چاہیے۔ اس کے برعکس مذکورہ صحافتی ترتیب میں قاری کا ذہن غیر فطری ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں واقعے کا وہ نقشہ نہیں بنتا جو حقیقت کے اعتبار سے تاریخ کا نقشہ ہے۔

رپورٹنگ کے مذکورہ صحافتی طریقے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے: کہانی کے نصف ثانی کو نمایاں طور پر بیان کرنا اور اس کے نصف اول کو یا تو غیر مذکور چھوڑ دینا یا اس کو ناقص صورت میں بیان کرنا۔ جدید رواج کے مطابق مسلمانوں کی صحافت میں بھی یہی طریقہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اختیار کر لیا گیا، اور پھر وہ اتنا زیادہ عام ہوا کہ موجودہ پریس کے زمانے میں ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان اسی اصول پر لکھنے اور بولنے لگا۔ حالانکہ یہ غیر فطری طریقہ اسلام میں نہایت برا سمجھا گیا ہے اور اس کو تتفیف المتفین سورہ نمبر 83 آیت ایک کہا گیا ہے۔ رپورٹنگ کے اس طریقے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا مسلم میڈیا منفی خبروں سے بھر گیا۔

یہی منفی خبریں ہیں جن کو پڑھ کر ساری دنیا کے مسلمانوں کا ذہن منفی بن گیا، اور یہی منفی ذہن ہے جو اپنے نقطہ انتہا پر پہنچ کر وہ خوفناک تشدد بن جاتا ہے جس کو القاعدہ یا داعش یعنی آئی ایس آئی ایس یا بوکو حرام وغیرہ جیسے ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے: 1967 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی اور اسرائیل نے پیش قدمی کر کے اپنے رغبے کو بہت زیادہ بڑھا لیا۔ اس واقعے پر عربی، فارسی، انگریزی اور اردو زبان میں جو رپورٹیں چھپیں یا اس واقعے پر مسلمانوں کی جو کتابیں شائع ہوئیں، ان سب میں متفقہ طور پر ایک ہی بات کہی گئی تھی، اور وہ یہ کہ اسرائیل نے مغربی قوموں سے سازش کر کے ظالمانہ طور پر مصر کے اوپر حملہ کیا اور فلسطین میں اپنی وسیع تر حکومت قائم کر لی۔

مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ اصل کہانی کا صرف نصف آخر ہے۔ کہانی کا نصف اول اس میں شامل نہیں۔ کہانی کے نصف آخر کو سامنے رکھیے تو بظاہر یہ معلوم ہوگا کہ یہ اسرائیل کی طرف سے ایک ظلم کا واقعہ تھا۔ لیکن اگر کہانی کے نصف اول کو شامل کر کے غور کیا جائے تو برعکس طور پر یہ معلوم ہوگا کہ 1967 میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری مکمل طور پر خود عربوں پر عائد ہوتی ہے۔

یہ خود عرب قیادت کا ایک نادان اقدام تھا جس کی قیمت اسے ذلت اور بربادی کی شکل میں بھگتنی پڑی۔ 1967 میں عربوں کے ساتھ جو المیہ پیش آیا اس پر پیغمبر اسلام کے یہ الفاظ پوری طرح صادق آتے ہیں: "سنن ترمذی حدیث نمبر 2254" یعنی کسی مسلم کے لیے درست نہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرتا ہے؟ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا؟

آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی بلا سے تعارف کرے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ 1967 کی جنگ میں عین یہی صورت پیش آئی۔ یہ قصہ نہر سوئس کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ نہر سوئس کو مغربی کمپنیوں نے بنایا تھا جو مکمل ہو کر نومبر 1869 عیسوی میں جہاز رانی کے لیے کھولی گئی۔

نہر سوئس کا ٹھیکہ برطانیہ اور فرانس کی ایک مشترکہ کمپنی کو حاصل تھا۔ نہر سوئس برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کمپنی کو نہر سوئز برطانیہ اور فرانس کی مشترکہ کمپنی کو پٹے یعنی لیز کے طور پر دی گئی تھی۔ یہ پٹا 1968 میں ختم ہو رہا تھا۔ اس کے بعد حسب معاہدہ نہر سوئز پوری طرح حکومت مصر کی ملکیت میں آ جاتی۔

پٹے کے ختم ہونے سے پہلے بھی مصری حکومت اور مصری عوام کو اس کے ذریعے بہت سے مالی فائدے مل رہے تھے۔ مگر پٹا ختم ہونے سے پہلے مصر کے صدر جمال عبدالناصر وفات 1970 عیسوی نے تمام عربوں کی تائید سے اس ایک اشتعال انگیز واقعہ کیا۔ 29 اکتوبر 1956 کو انہوں نے اچانک یہ اعلان کر دیا کہ آج ہم نے نہر سوئس کو نیشنلائز کر لیا اور اب اس کی ساری امدنی حکومت مصر کو حاصل ہوگی۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا والیوم 15 جلد 844 جمال عبدالناصر کے اقدام پر سارا عرب رقص کر اٹھا مگر برطانیہ اور فرانس کے لیے وہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔

چنانچہ برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر اسرائیل کی بہت بڑی مدد کی اور اس کے ذریعے مصر پر حملہ کرا دیا۔ اس حملے میں مصر کی فوجی طاقت کچل کر رہ گئی۔ اسرائیل نے مزید اطراف کے علاقوں پر قبضہ کر کے اپنے رغبے کو پانچ گنا بڑھا لیا۔ جمال عبدالناصر اگر اس معاملے میں 12 سال انتظار کرتے تو سوئز کمپنی معاہدے کے مطابق اپنے آپ ختم ہو جاتی مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور اسرائیل کا رغبہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔

جو چیز 1968 میں اپنے آپ مل جاتی اس کو 1956 میں پیشگی طور پر حاصل کرنے کی کوشش مصر کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔ اس طرح اس کہانی کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک حصہ وہ ہے جو نہر سوئس کو غیر حکیمانہ طور پر قبضے میں لینے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو نہر سوئس پر غیر حکیمانہ قبضے کے بعد بطور رد عمل پیش آیا۔ اگر اس کہانی کے صرف نصف ثانی کو دیکھا جائے تو اسرائیل ظالم اور سرکش دکھائی دے گا۔

لیکن اگر اس کہانی کے نصف اول کو ملا کر اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ مصر اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کے ساتھ جو بری صورتحال پیش آئی وہ خود عربوں کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھی۔ اس معاملے میں عربوں کا کیس عمل کا کیس ہے اور اسرائیل کا کیس رد عمل کا کیس۔ اسرائیل کا مزید استحکام دراصل خود عربوں کی اپنی ناقبت اندیشانہ پالیسی کی قیمت تھی جو انہوں نے ادا کی۔ مگر غلط رپورٹنگ کی بنا پر ایسا ہوا کہ تمام مسلمان اسرائیل سے نفرت میں مبتلا ہو گئے۔

حالانکہ اصل صورتحال کے مطابق انہیں خود اپنے احتساب میں مصروف ہونا چاہیے تھا۔ ایک تقابلی مثال سے یہ معاملہ بخوبی طور پر سمجھ میں آ سکتا ہے۔ یہ مثال وہ ہے جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھتی ہے۔ برطانوی استعمار کے زمانے میں انگریزوں نے ہانگ کانگ کو پٹے پر 99 سال کے لیے لیا تھا۔

پٹے کی یہ مدت 1997 میں ختم ہو رہی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانی ایمپائر کمزور ہوا تو چین نے ہانگ کانگ کی واپسی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ مگر چین نے اپنے آپ کو گفت و شنید کی حد تک محدود رکھا۔ اس نے کبھی اس معاملے میں یہ پروگرام نہیں بنایا کہ وہ ہانگ کانگ میں اپنی فوجیں داخل کر کے اس پر قبضہ کر لے۔

اگرچہ ہانگ کانگ کا جزیرہ چین سے ملا ہوا تھا۔ برطانوی حکومت سے چین کی یہ گفت و شنید جاری رہی۔ یہاں تک کہ 1997 میں جب پٹے کی مدت پوری ہوئی تو ہانگ کانگ سے برطانیہ کا اقتدار بھی ختم ہو گیا۔ ہانگ کانگ اب چین کے باقاعدہ قبضے میں ہے۔

1967 کی جنگ میں اسرائیل نے فلسطین، اردن، شام اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ عربوں یعنی فلسطین، اردن، شام، مصر نے اس جنگ میں اپنا قیمتی علاقہ کھو دیا۔ مگر ٹھیک اسی قسم کی صورتحال میں ہانگ کانگ میں برعکس نتیجہ سامنے آیا۔ یہاں چین نے ایک قیمتی جزیرے کو اپنے علاقے میں شامل کر لیا۔

عربوں نے اپنی ناقبت اندیشانہ منصوبہ بندی کی قیمت ادا کی اور چین نے اپنی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی بنا پر قابل ذکر فتح حاصل کی۔ مذکورہ تفصیل بتاتی ہے کہ اسرائیل کا مسئلہ دراصل کسی کے ظلم یا سازش کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ خود عربوں کی ایک نادانیوں کا نتیجہ تھا۔ موجودہ زمانے کا متشددانہ جہاد سب سے زیادہ فلسطین کی زمین سے ابھرا ہے۔ تمام عرب اور تمام مسلمان اس جہاد کو انصاف کی لڑائی سمجھتے ہیں۔

حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ایک غیر عاقلانہ اقدام کے نقصان کی تلافی ایک اور غیر عاقلانہ اقدام سے کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کا ہر اقدام فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ خدا کی اس دنیا میں ایسا اقدام کبھی کامیاب ہونے والا نہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 460۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.