Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Manfi pahlu me musbat pahlu

Urdu · 3 min

منفی پہلو میں مثبت پہلو: 1947 سے پہلے ہندوستان میں برٹش راج تھا۔ اس زمانے میں برٹش حکمرانوں نے ہندوستان میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایا، اور پوری طاقت سے انگریزی زبان کو ہندوستان میں رائج کیا، یہاں تک کہ انگریزی زبان کے اعتبار سے امریکہ اور برطانیہ کے بعد ہندوستان تیسرا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ برٹش حکمرانوں نے اپنے خیال کے مطابق ہندوستان میں انگریزی زبان کو اس لیے رائج کیا تھا کہ وہ اس ملک پر ہمیشہ کے لیے اپنا غلبہ قائم رکھیں۔ برٹش حکومت نے انگریزی زبان کو صرف اپنے مفاد کے لیے یہاں جاری کیا تھا، مگر آج یہی انگریزی زبان ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑا سرمایہ بن گئی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی تمام تر انگریزی زبان پر قائم ہے، اور انگریزی زبان میں ہندوستان دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بہت آگے ہے۔ چین اور روس دونوں بہت بڑے ملک ہیں، مگر دونوں ہندوستان سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کو تمہاری انگریزی کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی انگریزی ایکسپورٹ کرو۔ اس مثال سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ آپ کا حریف خواہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے کوئی عمل کرے، مگر عین ممکن ہے کہ مستقبل کے لحاظ سے وہ تمام تر آپ کے فائدے میں ہو۔ حتیٰ کہ حریف اگر آپ کے خلاف کوئی سازشی منصوبہ بنائے، تب بھی یہ امکان باقی رہے گا کہ اس کی سازش آپ کے لیے ترقی کا ایک زینہ بن جائے۔

حریف کی بنائی ہوئی دنیا آخر کار آپ کے حصے میں آ جائے۔ اس دنیا میں ہر منفی واقعے میں مثبت پہلو موجود رہتا ہے۔ اگر آپ اس مثبت پہلو کو دریافت کر سکیں، تو آپ کو کسی کے خلاف شکایت کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ مثبت پہلو کی دریافت آپ کو اپنی تعمیر میں اتنا زیادہ مشغول کر دے گی کہ آپ کے پاس دوسروں کے خلاف لکھنے اور بولنے کے لیے وقت ہی نہ رہے۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 452۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.