Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Museebat ka musbat pahlu

Urdu · 4 min

مصیبت کا مثبت پہلو ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: «ما دعا الله المؤمن بدعوةٍ إلا وكل بحاجته، جبریل علیہ السلام، فيقول: لا تعجل بإجابته، فإني أحب أن أسمع صوت عبدي المؤمن». حلیۃ الاولیاء، جلد 2، صفحہ 327۔ یعنی: جب کوئی بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو جبریل فرشتے کو اس کی حاجت برآری کے لیے مقرر کر دیا جاتا ہے، اور اللہ کہتا ہے کہ اے جبریل، اس کی حاجت کو پورا کرنے میں جلدی نہ کر، کیونکہ مجھے یہ محبوب ہے کہ میں مومن بندے کی آواز کو سنوں۔ اللہ ایک مومن بندے کی صوت یعنی آواز کو کیوں پسند کرتا ہے؟

اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ اس کی صوت یعنی وائس میں کوئی نغمہ یعنی ملڈی ہوتا ہے، بلکہ اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی بندہ مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتا ہے تو اس سے اس کی روحانی ارتقاء یعنی اسپرچول ڈیولپمنٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ کو یہ روحانی ارتقاء پسند ہے، نہ کہ صوت کا نغمہ۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اوپر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کی حساسیت یعنی سینسٹیوٹی کو بڑھاتی ہے۔ حساسیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی قوتِ اخذ یعنی گراسپ بڑھ جاتی ہے۔

اس بنا پر ایسا آدمی اگر وہ منفی سوچ میں مبتلا نہ ہو تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے تجربے سے زیادہ سے زیادہ سبق لے، وہ چیزوں میں چھپی ہوئی حکمت کو زیادہ سے زیادہ دریافت کر سکے۔ مصیبت حساسیت کو بڑھاتی ہے، اور حساسیت آدمی کی قوتِ اخذ میں اضافہ کرتی ہے، اور قوتِ اخذ اپنے نتیجے کے اعتبار سے آدمی کی معرفت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ مصیبت بجائے خود کوئی مطلوب چیز نہیں، مگر اس کا نتیجہ یعنی رزلٹ اس کو مطلوب بنا دیتا ہے۔ معرفت جسمانی اعضاء کی طرح ایک تخلیقی عطیہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک خود دریافت کردہ چیز یعنی سیلف ڈسکورڈ آئٹم ہے۔

اور دریافت کا یہ عمل یعنی پراسیس ہمیشہ ناخوشگواری کے راستے سے گزرتا ہے۔ معرفت کے حصول کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 411۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.