Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Nafrat ka bomb

Urdu · 4 min

نفرت کا بم: ہر آدمی کے اندر ایک شیطان چھپا ہوا ہے۔ یہ شیطان نفرت کا بم، ہیٹ بام ہے۔ ہر آدمی امکانی طور پر نفرت کا بم اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ نفرت کا یہ بم عام حالات میں انسان کے اندر سویا ہوا ہوتا ہے، لیکن اگر کسی طرح اس کو جگا دیا جائے تو اچانک وہ بے پناہ ہو کر بھڑک اٹھتا ہے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ اس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ اس صورتحال کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ ہر انسان ایک انتہائی آتش گیر، یعنی highly inflammable مادّے کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی سماج میں اگر 10,000 آدمی ہیں تو وہ گویا کہ 10,000 چلتے پھرتے آتش گیر مادّے کا مجموعہ ہیں۔ یہ دراصل ذاتی مفاد، یعنی personal interest ہے، جو لوگوں کو مزاجاً متشدد ہونے کے باوجود مجبورانہ طور پر امن پسند بنائے رکھتا ہے۔

ایسی صورت میں قیادت، یعنی leadership کا کام، ایک بے حد مشکل کام ہے۔ جس قائد کے پاس صرف شکایت اور احتجاج کا نعرہ ہو، اس کو ہرگز میدان میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ اس کا منفی نعرہ لوگوں کو بھڑکائے گا اور آخر کار سماج کا وہ حال ہو جائے گا جیسے ایک مقام پر بہت سے آتش گیر مادّے ہوں اور وہ اچانک بھڑک اٹھے۔ قائد پر لازم ہے کہ اگر اس کے پاس محبت کا نعرہ ہے، تب تو وہ اپنی تحریک لے کر سماج میں آئے۔ اور اگر اس کے پاس صرف نفرت اور شکایت کی باتیں ہوں، تو اس کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ احتجاجی تحریک ہرگز نہ شروع کرے۔

اس کے بجائے وہ اپنے آپ کو اپنے گھر کے اندر محصور کر لے، یہی اس کے لیے نجات کی واحد صورت ہے۔ اجتماعی تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں: مثبت تحریک اور منفی تحریک۔ مثبت تحریک وہ ہے جو ذاتی ذمہ داری، یعنی duty کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک صالح تحریک ہے۔

منفی تحریک وہ ہے جو حقوق طلبی اور احتجاج کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک غیر صالح تحریک ہے۔ صالح تحریک کا نتیجہ ہمیشہ اچھا نکلتا ہے، اور غیر صالح تحریک ہمیشہ برے انجام پر ختم ہوتی ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 348۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.