← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Practical visdom
Urdu · 6 min
پریکٹیکل وزڈم: اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا۔ ایسے موقع پر ہمیشہ یہ عقل کی بات ہوتی ہے کہ آدمی کم پر راضی ہو جائے۔
آئیڈیل کی مانگ کرنا عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اس دنیا میں اجتماعی اختلافات کبھی معیار یعنی آئیڈیل کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔ عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلیو پر لیتا ہے۔
جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پرامن تدبیر کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ جہاں ردعمل یعنی ری ایکشن سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ری ایکشن کا شکار ہو کر ایسا منصوبہ بناتا ہے جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئیڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔
اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر باآسانی حل ہو جائے گا۔
اس دنیا میں اختلاف کے معاملے میں آپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر یعنی لیسر ایول اور بڑے شر یعنی گریٹر ایول کے درمیان ہوتا ہے۔ اسی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے "خیر الشرین" کہا ہے۔ (العقد الفرید جلد 2 صفحہ 109 تا 110) یعنی عقلمند وہ ہے جو دو برائیوں یعنی ایولز میں سے کمتر برائی یعنی شر کو پہچانے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔
اس حقیقت کو صحابی رسول عمیر ابن حبیب ابن خماشہ نے اس طرح بیان کیا ہے: "جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہیں ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔ " (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258) اختلاف کے وقت دانشمند آدمی کے لیے پہلا آپشن کیا ہوتا ہے؟ وہ یہ ہے کہ فریق ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کر لی جائے۔ پیغمبر اسلام کی یہی سنت رہی ہے۔
اسی سنت کو قرآن میں "حکمت" کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو کتاب اور حکمت کے ساتھ بھیجا۔ کتاب سے مراد قرآن ہے، اور حکمت سے مراد وہی چیز ہے جس کو پریکٹیکل وزڈم کہا جاتا ہے۔ پریکٹیکل وزڈم کی وجہ سے آپ کو ملنے والی چیز ابتدا میں بظاہر کم نظر آتی ہے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر بہت سے صحابہ کو لگا تھا۔
(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731) لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آئیڈیل وزڈم نتیجے کے اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس پریکٹیکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔ پریکٹیکل وزڈم ہمیشہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ اس کو اسٹارٹ کرے۔
پریکٹیکل وزڈم ہمیشہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ اس کو اسٹارٹنگ پوائنٹ مل جائے۔ اسٹارٹنگ پوائنٹ سے آغاز کر کے آدمی زیادہ کو پا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول پر مبنی تھی: تعمیر شخصیت۔ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 319۔