Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Iaraaz ki hikmat

Urdu · 3 min

اعراض کی حکمت: اعراض، یعنی avoidance، زندگی کا ایک اہم اصول ہے۔ اعراض کا تعلق دعوتی مشن سے بھی ہے اور زندگی کے دوسرے معاملات سے بھی۔ اعراض کے اصول کو اختیار کیے بغیر اس دنیا میں کوئی بھی کام درست طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر فرد اور ہر قوم کو خالق کی طرف سے آزادی حاصل ہے۔

ہر آدمی کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سوچ کے مطابق اپنی آزادی کا استعمال کرے۔ زندگی کا یہی وہ معاملہ ہے جس کی بنا پر لوگوں کے درمیان اختلافات، یعنی differences، پیدا ہوتے ہیں۔ اختلاف اجتماعی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک شخص جس کی زندگی کا ایک مشن ہو، اس کو جاننا چاہیے کہ مشن کا لازمی اصول یہ ہے کہ آدمی اختلافی امور کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا مشن چلائے۔

وہ دوسرے لوگوں سے الجھے بغیر مثبت ذہن کے ساتھ اپنے منصوبے کی تکمیل میں لگا رہے۔ اعراض کے اصول کی اہمیت جتنی دوسرے معاملات میں ہے، اس سے بہت زیادہ دعوت کے معاملے میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام اعراض کے بغیر عملاً ممکن نہیں۔ دعوت کا نشانہ لوگوں کو آخرت سے باخبر کرنا ہے۔

اس مشن کو درست طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ داعی کے اندر یکسوئی کا مزاج ہو۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ اہلِ دنیا کی طرف سے چھیڑے ہوئے مسائل کو مکمل طور پر نظرانداز، یعنی ignore، کرے اور پوری یکسوئی کے ساتھ لوگوں کو آخرت کی طرف پکارتا رہے۔ جو لوگ دعوت کا نام لیں لیکن وہ اہلِ دنیا کی طرف سے چھیڑے ہوئے مسائل میں الجھے رہیں، وہ کبھی خدا کے یہاں داعی کا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کی کوششیں قرآن کے مطابق دنیا میں حبطِ اعمال، سورہ نمبر 18 آیت 104 کا شکار ہو جائیں گی۔

وہ خسرت دنیا والآخرة، سورہ نمبر 22 آیت 11 کا مصداق ہو کر رہ جائیں گی۔ یعنی دنیا اور آخرت میں خسارہ۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 317۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.