Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Khuda jaldi nahi chahta

Urdu · 7 min

خدا جلدی نہیں چاہتا۔ ایک شخص اپنے عیسائی دوست سے ملنے گیا۔ جب وہ دوست کے یہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے سامنے بے تابی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ آج میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں، آخر کیا بات ہے؟

اس نے پوچھا۔ عیسائی دوست اچانک سنجیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: "I'm in hurry, but God isn't. " میں جلدی چاہتا ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا۔

اس کے بعد انہوں نے اپنے صحن میں ایک مرجھائے ہوئے آم کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "میں نے اس کو بڑی امیدوں کے ساتھ پچھلے ہفتے لگایا تھا، مگر اب وہ سوکھ کر ختم ہو چکا ہے۔ " یہ درخت تو کافی بڑا ہے، پھر ایک ہفتہ پہلے کیسے آپ نے اس کو لگایا تھا؟ آدمی نے پوچھا۔ یہی تو اصل بات ہے، عیسائی دوست نے کہا۔

میں نے چاہا کہ میں اچانک ایک بڑا درخت اپنے یہاں کھڑا کر دوں، مگر خدا کی اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ میں نے آم کا چھوٹا پودا لگانے کے بجائے یہ چاہا کہ 5 سال کا درخت لا کر اپنے صحن میں لگاؤں، اور اس طرح 5 سال کا سفر ایک دن میں طے کر لوں۔ میں نے درخت تو کہیں نہ کہیں سے لا کر لگا لیا، مگر وہ اگلے ہی دن سوکھ گیا، اور اب اس کی جو صورت ہے وہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ اس کے بعد عیسائی دوست نے کہا: "اس دنیا میں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے خدا کا ایک قانون ہے۔

ہم اس قانون کی پیروی کر کے ہی اس چیز کو اپنے لیے وجود میں لا سکتے ہیں۔ اگر ہم قدرت کے اصول کی پیروی نہ کریں اور اپنی خواہشوں پر چلنے لگیں تو ہمارے حصے میں سوکھا درخت آئے گا، نہ کہ ہرا بھرا باغ۔ " لکڑی کی ایک کشتی کی تاریخ اگر چھوٹے پودے سے شروع کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر کشتی والا انتظار کرتا ہے کہ قدرت ایک درخت اگائے۔ زمین و آسمان کے تمام انتظامات اس کو پروان چڑھانے کے لیے وقف ہوں۔

یہ کام سو برس تک ہوتا رہے، یہاں تک کہ جب مسلسل عمل کے نتیجے میں ننھا پودا پختہ درخت کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، اس وقت کشتی والا اس کو کاٹتا ہے، اس کے تنے بناتا ہے، اور پھر ان تختوں کو لوہے کی کیلوں سے جوڑ کر وہ کشتی تیار کرتا ہے جو انسانی قافلوں کو پانی کے اوپر سفر کرنے کے قابل بنائے۔ ذاتی معاملات میں ہر آدمی اس بات کو جانتا ہے، مگر جب ملت کا معاملہ ہو تو وہ چاہتا ہے کہ فی الفور ایک عظیم الشان کشتی دریا میں اتار دے، خواہ اس کے پاس کشتی کے نام سے کاغذ کی ناؤ ہی کیوں نہ ہو۔ یاد رکھیے، یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ اس کو خدا نے بنایا ہے۔

یاد رکھیے، یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ اس کو خدا نے بنایا ہے، اور وہ اسی خدا کے قانون کے تحت چل رہی ہے۔ ہم اس سے موافقت کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اس کے ساتھ موافقت نہ کریں تو ہمیں اس دنیا میں کچھ ملنے والا نہیں۔

جس طرح درخت تدریج کے ساتھ اگتا ہے، اسی طرح انسانی زندگی کے معاملات بھی تدریج کے ساتھ درست ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قدرت کے اس تدریجی قانون کو جانیے، اور اس کے ساتھ موافقت کرتے ہوئے اپنا سفر شروع کیجیے۔ اس کے سوا اس دنیا میں کامیابی کا کوئی اور راستہ نہیں۔ بقیہ تمام راستے کھڑ کی طرف جاتے ہیں۔

بقیہ تمام راستے کھڑ کی طرف جاتے ہیں، نہ کہ کسی منزل کی طرف۔ قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ صبر کا مطلب بے عملی نہیں۔ صبر دراصل منصوبہ بند عمل کا دوسرا نام ہے۔

بے صبر آدمی فوری ردعمل کے تحت بے سوچے سمجھے کارروائی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، صبر والا آدمی اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملے پر غور کرتا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور دوسرے کی طاقت کا اندازہ کرتا ہے۔ وہ حالات کا جائزہ لیتا ہے۔

وہ قانونِ قدرت کو سمجھتا ہے، جس کے دائرے میں اس کو اپنا عمل کرنا ہے۔ اسی طرح سوچ بچار کے بعد عمل کا نقشہ بنانے کے لیے اپنے جذبات کو تھامنا پڑتا ہے۔ اس لیے اس کو شریعت میں صبر کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں اسی کو منصوبہ بند عمل کہتے ہیں۔

اس دنیا میں صابرانہ عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور غیر صابرانہ عمل ہمیشہ ناکام۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 288۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.