← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sabr ek paighambaraana amal
Urdu · 4 min
صبر ایک پیغمبرانہ عمل ہے۔ ایک صاحب نے ماہ نامہ اور رسالے میں ایک مضمون پڑھا، اس میں قرآن کے حوالے سے صبر کے طریقے کی اہمیت بتائی گئی تھی۔ وہ اس مضمون کو پڑھ کر غصہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ صبر کب تک؟
ہمارے اوپر ظلم ہو رہا ہے، تو ہم کب تک صبر کریں؟ ہمیں ظلم کے خلاف لڑنا ہے۔ ظلم کے خلاف صبر کرنا بزدلی ہے، نہ کہ صبر۔ صبر بزدل کا ہتھیار ہے، وہ مظلوم کا ہتھیار نہیں۔
اگر ہر حال میں صبر کیا جائے تو صرف ظالموں کے لیے اس دنیا میں جگہ ہوگی، مظلوموں کے لیے خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ جو لوگ اس طرح سوچتے ہیں، میرے نزدیک وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ صبر کوئی مجبوری کی چیز نہیں۔ صبر بہادر آدمی کا طریقہ ہے۔ صبر دانشمند آدمی کا ہتھیار ہے۔
صبر تمام پیغمبروں کا طریقہ ہے۔ سورہ ابراہیم، سورہ نمبر 14، آیت 12۔ حتیٰ کہ خود اللہ رب العالمین کا بھی۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 6099۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں صبر کرنے والوں کو ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جو لوگ بے صبری کا طریقہ اختیار کریں، وہ آخر کار ہمیشہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس معاملے کا عزت نفس سے کوئی تعلق نہیں۔ عزت نفس، یعنی سیلف ریسپیکٹ کا لفظ، صرف نادانوں کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے۔
جو لوگ صبر کو بزدلی کہتے ہیں، وہ اپنے نقطہ نظر کو بتانے کے لیے غلط لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ قرآن کی اس آیت کے مصداق ہیں: وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آَيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَ نَأْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْ. سورہ نمبر 10، آیت 15۔ یعنی: اور جب ان کو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو۔ اسی طرح ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی اس آیت پر غور کریں: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ ۗ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ. سورہ نمبر 14، آیت 5۔ یعنی: اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لاؤ، اور ان کو اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ۔
بے شک ان کے اندر بڑی نشانیاں ہیں، ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 279۔