Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Khilaafat ka daur

Urdu · 7 min

خلافت کا دور خلافت کا دور اقتدار کا دور ہے، اقتدار عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لیے دورِ خلافت، یعنی دورِ اقتدار میں، صدق کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ نمبر 1: دورِ خلافت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عہدوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو ایک اچھا سیاسی عہدہ مل جائے۔

اگر یہ مزاج باقی رہے تو خلافت کا پورا نظام برباد ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں صبر، یعنی اپنی خواہشات کو روکنا، اس بات کی ضمانت ہے کہ خلافت کے دور میں عہدوں کی طلب کی برائی نہ پیدا ہو۔ عہدے اگر اہلیت کی بنیاد پر دیے جائیں تو اس سے خلافت کا نظام طاقتور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، عہدے اگر خواہشات کی بنیاد پر دیے جانے لگیں تو خلافت کا پورا نظام کمزور ہو کر رہ جائے گا۔

ایسی حالت میں خلافت کے نظام کو صحت مند حالت پر باقی رکھنے کے لیے صبر کی صفت انتہائی طور پر ضروری ہے۔ دورِ اول میں اس کی ایک عظیم الشان مثال انصار کا اس پر راضی ہونا ہے کہ وہ عہدِ خلافت کے معاملے میں قریش سے نزاع نہیں کریں گے۔ انصار نے اسلامی انقلاب لانے کے لیے یکساں طور پر قربانیاں دی تھیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس شخص کو خلیفہ بنایا جائے، تو حضرت ابوبکر صدیق نے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ قریش میں سے ہو۔ اگر قریش کے باہر کسی کو خلیفہ بنایا جائے تو تاریخی روایت کی بنا پر اہلِ عرب کے لیے وہ قابلِ قبول نہ ہوگا، اور لوگ اس کی اطاعت سے انکار کر دیں گے۔

انصار نے اس مصلحت کی اہمیت کو محسوس کیا اور خلافت کے مطالبے سے دستبردار ہو گئے۔ انصار کا یہ فعل بلاشبہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ اگر وہ اپنی قربانیوں کی فہرست بنا کر عہدۂ خلافت کے لیے اصرار کرتے تو یقینی تھا کہ مسلمان اقتدار کی رسہ کشی میں مشغول ہو جاتے اور اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے مدینے میں دفن ہو جاتی۔ یہ واقعہ بلاشبہ صبر کا واقعہ ہے۔

انصار کے اندر اگر صبر کا مادہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز یہ عظیم الشان کارنامہ انجام نہیں دے سکتے تھے۔ حکومت ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق پورے ملک سے ہوتا ہے۔ ملک میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، اچھے بھی اور برے بھی، جاہل بھی اور عالم بھی، نرم بھی اور سخت بھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلیفہ، یعنی حکمران، کو لوگوں کی طرف سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خلیفہ اگر لوگوں کی تنقیدوں کو برداشت نہ کرے اور اس کو ذاتی انتقام کا مسئلہ بنا لے تو وہ کبھی انصاف نہیں کر سکتا۔ خلیفہ کو عدل پر قائم رکھنے کے لیے لازمی طور پر یہ صفت درکار ہے کہ وہ لوگوں کی تنقیدوں کو برا نہ مانے۔ لوگوں کی سخت کلامی کے باوجود وہ ان کے ساتھ نرمی اور اعتدال کا رویہ اختیار کرے۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر کے ایک سرکاری فرمان کو ایک بار حضرت عمر نے برسرِ عام پھاڑ کر پھینک دیا، مگر خلیفہ اول نے اس کو برا نہیں مانا، اور نہ اس بنا پر ان کے دل میں عمر فاروق کی اہمیت کم ہوئی۔

ادب الدنیا و الدین للماوردین، صفحہ 163۔ حضرت عمر فاروق جب خلیفہ ہوئے تو بار بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقیدیں کیں، مگر حضرت عمر نے کبھی ان کے خلاف منفی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔ مثلاً ایک بار تقریر کے دوران برسرِ عام ایک شخص نے کہا کہ اگر ہم تمہارے اندر ٹیڑھ دیکھیں گے تو ہم اسی طرح سیدھا کریں گے جس طرح تیر کو سیدھا کرتے ہیں۔ خلیفہ ثانی اس پر غصہ نہیں ہوئے، بلکہ یہ کہا کہ اس خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ایک ایسی قوم میں بنایا کہ اگر میرے اندر انحراف پیدا ہو تو وہ مجھے سیدھا کر دے۔

الزہد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 512۔ خلیفہ کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا یہ مادہ انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر وہ ملک اور قوم کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔ مگر یہ اعلیٰ صفت کسی شخص کے اندر اسی وقت پیدا ہوتی ہے جبکہ اس میں صبر کا مادہ موجود ہو۔

صبر کسی خلیفہ کو عدل پر قائم رکھتا ہے۔ اگر اس کے اندر صبر نہ ہو تو کوئی بھی چیز اس کو ظلم کی راہ پر جانے سے روک نہیں سکتی۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 262۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.