← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sabr,Sabr,Sabr
Urdu · 4 min
صبر، صبر، صبر۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ حد درجہ خود پسند واقع ہوا ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے کو عزت اور بڑائی کے مقام پر دیکھے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کی رائے سب سے اچھی رائے سمجھی جائے۔
یہی وہ چیز ہے جس نے حق کے سفر کو موجودہ دنیا میں مشکل ترین سفر بنا دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ کروڑوں انسانوں میں ہر آدمی جب اپنے کو صحیح سمجھے تو کون کس کی بات سنے گا، اور کون حق کو حق سمجھ کر قبول کرے گا؟ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو میں پرستوں کے ہجوم میں اپنے کو بے میں بنا لے۔
جو اپنی خود پسندی کو خدا پسندی میں تحلیل کر دے۔ جو اپنی بات کے مقابلے میں حق کی بات کو اختیار کر لے۔ جو دنیا کی عزت کے مقابلے میں آخرت کی عزت کو اہمیت دینے لگے۔ لوگوں کی طرف سے خواہ کتنی ہی تلخیاں پیش آئیں، وہ اپنی طرف سے منفی عمل کا اظہار نہ کرے۔
اسی کا نام صبر ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک بے حد مشکل راستہ ہے۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ یہی وہ راستہ ہے جو کسی آدمی کو جنت کی طرف لے جانے والا ہے۔ جنت صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، اور صبر کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی خاطر اپنے آپ کو کچل ڈالے۔
حق کا سفر جنت کا سفر ہے۔ اور جنت کے متعلق حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ وہ ناخوشگواریوں سے ڈھانک دی گئی ہے۔ حُجِبَتِ النَّارُ بالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ صحیح البخاری، حدیث نمبر 6487۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنی دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جنت کی طرف بڑھنے والے کے لیے خوش ناخوشگوار حالات سے گزرے بغیر چارہ نہیں۔
جو شخص بھی جنت کا مسافر بننا چاہے، اس کو پہلے ہی جان لینا چاہیے کہ وہ ایک ایسے راستے پر چلنے کا ارادہ کر رہا ہے جس میں لوگوں کی طرف سے تلخ باتیں آئیں گی۔ جس میں طویل انتظار کی مشقت برداشت کرنی ہوگی۔ جس میں مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی دل آزاری کی باتیں پیش آئیں گی۔ حتیٰ کہ کبھی جارحانہ کارروائیوں کا سامنا ہوگا۔
ان مواقع پر حق کا مسافر اگر صبر کھو دے، اگر وہ بے برداشت ہو جائے، تو وہ یا تو بددل ہو کر اپنا راستہ بدل لے گا یا درمیان کے کانٹوں سے الجھ کر رہ جائے گا اور آگے نہ بڑھ سکے گا۔ جنت کا سفر تمام کا تمام صبر کا سفر ہے۔ جنت میں وہی شخص پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لیے تیار ہو۔ جو جذبات کی پامالی پر بھی بے ہمت ہونا نہ جانے۔
جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینے کی ویرانیوں میں چھپا لے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 251۔