Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr-Nafsiyyaati qurbaani

Urdu · 4 min

صبر، نفسیاتی قربانی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت نے آپ کا انکار کیا، تاہم ان کے کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ ان مومنین کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی، وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں، اور جب وہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے؛ بے شک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے ہیں۔ " یہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کا اجر دوہرا دیا جائے گا اس پر کہ انہوں نے صبر کیا۔

سورہ نمبر 28، آیت 52 تا 54۔ یہاں صبر سے مراد نفسیاتی صبر یا نفسیاتی قربانی ہے۔ مذکورہ اہل کتاب، یعنی عبداللہ بن سلام وغیرہ، نے جس ایمان کا ثبوت دیا، وہ نفسیات کی سطح پر صبر کی قربانی کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان کو دوہرا اجر دیا جائے گا، ایک اس بات پر کہ انہوں نے اپنی کتاب پر ایمان رکھا، اور دوسرا اس بات پر کہ وہ قرآن پر ایمان لائے۔

مَرَّةً عَلَىٰ إِيمَانِهِمْ بِكِتَابِهِمْ وَمَرَّةً عَلَىٰ إِيمَانِهِمْ بِالْقُرْآنِ صفحۃ التفاسیر، جلد 2، صفحہ 403۔ پہلا ایمان ان کو اس صبر کی قیمت دینے پر ملا کہ انہوں نے اپنے آپ کو قومی دین سے اوپر اٹھایا اور پیغمبرانہ دین کا حامل بننے کا ثبوت دیا، جو قومی روایات میں گم ہو چکا تھا۔ دوسرے ایمان کے لیے ان کو اس صبر کی قیمت دینی پڑی کہ انہوں نے ایک اجنبی دین کو پہچانا، اور تمام مصلحتوں کو نظرانداز کر کے اس کا ساتھ دیا۔ اس دو گنا صبر پر وہ دوہرا اجر کے مستحق قرار پائے۔

حقیقی ایمان کسی آدمی کو اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے لیے آدمی کو اپنی قوم سے کٹنا پڑتا ہے، اکابر کی حمایت سے محرومی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے، ظواہر سے بلند ہو کر حقائق کو دیکھنا پڑتا ہے، مفادات کو نظرانداز کر کے اصول کو اپنا رہنما بنانا پڑتا ہے۔ یہ ایک بے حد سخت امتحان ہے، غیر معمولی نفسیاتی قربانی کے بغیر اس درجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔ اس نفسیاتی صبر کے بغیر کوئی شخص حق کو نہیں پا سکتا، اور نہ اعلیٰ ایمانی ترقی حاصل کر سکتا۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 221۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.