Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Dawat aur sabr

Urdu · 4 min

دعوت اور صبر۔ اسلامی مشن کا پروگرام بنیادی طور پر دو نکات پر مشتمل ہے: دعوت اور صبر۔ دعوت کا مطلب ہے قرآن کے خدائی پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچانا، اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ تمام امور میں حالتِ موجودہ پر رضامندی کا طریقہ اختیار کرنا، جس کو اسٹیٹس کوئزم کہا جاتا ہے۔ یہ صبر بے حد ضروری ہے، اس لیے کہ موجودہ دنیا میں خود فطری قانون کے تحت ہمیشہ ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں۔

اگر ایسا ہو کہ آدمی ہر ناپسندیدہ صورتحال پر لوگوں سے ٹکرانے لگے، تو اس کے پاس دعوت کے کام کے لیے وقت ہی نہیں رہے گا۔ دوسری طرف، داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا ختم ہو جائے گی جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے ضروری ہے۔ دعوت کا کام ہمیشہ قربانی پر ہوتا ہے۔ اس قربانی کا تعلق جان و مال کی قربانی سے زیادہ جذبات کی قربانی پر ہے۔

دوسرے انسانوں کی طرف سے بار بار ایسے ناموافق تجربے ہوتے ہیں جو داعی کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے والے ہیں، جو داعی کو نفرت اور انتقام کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اگر داعی اس منفی نفسیات سے مغلوب ہو جائے تو دعوت کے کام کی مطلوب فضا ہی ختم ہو جائے گی۔ اس لیے ہر داعی کو جذبات کی قربانی دے کر اپنے آپ کو مثبت نفسیات پر قائم رکھنا پڑتا ہے۔ یہ دعوت کی لازمی شرط ہے، اس کے بغیر دعوت کا کام نہیں ہو سکتا۔

اسی کو اسٹیٹس کوئزم کہا جاتا ہے، اور شریعت میں اسی کا نام صبر ہے۔ صبر کی اسی قربانی پر دعوت کا کام ہمیشہ انجام پاتا ہے۔ صبر نہیں تو دعوت بھی نہیں۔ صبر دراصل دعوت کی قیمت ہے۔

صبر کی یہ قیمت ادا کرنے کے بعد ہی وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ صبر دوسرے لفظوں میں وہی چیز ہے جس کو تجارت کی اصطلاح میں کسٹمر فرینڈلی بیہیویئر کہا جاتا ہے۔ تاجر اپنے کسٹمر کے ساتھ یکطرفہ طور پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح داعی اپنے مدعو کے معاملے میں یکطرفہ طور پر تحمل کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔

اسی مدعو فرینڈلی سلوک کا نام صبر ہے۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 202۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.