Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Ijtemai sabr

Urdu · 7 min

اجتماعی صبر ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: "المؤمن الذي يخالط الناس ويصبر على أذاهم أعظم أجراً من المؤمن الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم." ابن ماجہ، حدیث نمبر 4032۔ یعنی وہ مومن جو لوگوں کے درمیان رہتا ہے اور ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے، وہ زیادہ اجر پاتا ہے اس مومن سے جو لوگوں کے درمیان نہیں رہتا اور لوگوں کی اذیتوں پر صبر نہیں کرتا۔ اس حدیث میں انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کے فرق کو بتایا گیا ہے۔ ایک مومن وہ ہے جو نماز، روزہ جیسے ذاتی اعمال کرتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی میں جب تک وہ لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو تو اس کو ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو پیش آتے ہیں۔

مثلاً اس کی انا، یعنی ایگو، پر ضرب لگنا۔ اس کو کسی سے ایسی بات سننے کا تجربہ ہونا جو اس کو offend کرنے والا ہو۔ اس کو کبھی ایسا سابقہ پیش نہیں آئے گا جب اس کو یہ محسوس ہو کہ اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس کو لوگوں کی طرف سے کسی اذیت کا تجربہ پیش نہیں آئے گا۔

وہ ایک معتدل زندگی گزارے گا۔ اس کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ مگر اس قسم کی زندگی کا درجہ اللہ کے یہاں کم ہے۔ اس کے برعکس معاملہ اس مومن کا ہے جو لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔

اس کے ساتھ فطری طور پر ایسا ہوگا کہ کبھی اس کو محسوس ہوگا کہ مجھ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کبھی اس کو محسوس ہوگا کہ اس کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جا رہا ہے۔ کبھی وہ کسی کی بات پر offend ہو جائے گا۔ کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش آئے گا جو اس کو اپنی عزتِ نفس کے اعتبار سے بظاہر ناقابلِ برداشت محسوس ہوگا۔

کبھی اس کو کسی سے انا کا مسئلہ، یعنی ego clash، پیش آ جائے گا وغیرہ۔ اس کے باوجود وہ اللہ کی خاطر اعلیٰ ایمانی روش پر قائم رہے گا، گویا کہ وہ اذیتوں کے باوجود ایک بے شکایت، یعنی complaint-free انسان بنا رہے گا۔ ان دونوں قسم کے انسانوں میں سے دوسرے انسان کا درجہ اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی اذیت کے باوجود نارمل طریقے سے ایمان و اسلام پر قائم رہا۔ دوسروں کی طرف سے اذیت پیش آنے کے باوجود اعتدال پر قائم رہنا سادہ بات نہیں۔

ایسا انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان و اسلام کے اعتبار سے ایک تیار ذہن، یعنی prepared mind ہو۔ وہ شعوری طور پر اس حقیقت کو جانتا ہو کہ اجتماعی زندگی میں لازماً خلافِ مزاج باتیں پیش آتی ہیں۔ مگر اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی مکمل طور پر بے شکایت انسان بن جائے۔ یہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو art of management کو جانتا ہو۔

یہ اعلیٰ انسان وہ ہے جو art of management کو جانتا ہے، جو یہ جانتا ہے کہ کس طرح غیر معتدل واقعے کو manage کر کے معتدل واقعہ بنایا جائے۔ جو یہ جانتا ہے کہ کس طرح منفی تجربے کو مثبت تجربے میں convert کیا جائے۔ جو اس راز سے واقف ہے کہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف اس لیے ہوتی ہیں کہ ان کے پیش آنے پر آدمی فوراً ہی ان کو بھلا دے، وہ ان سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔ ایسا انسان وہ ہے جو یہ جانے کہ ایمانی زندگی میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ جب کوئی خلافِ مزاج بات پیش آئے تو اس کو اپنے اوپر نہ لیا جائے، بلکہ اسی وقت اس کو اللہ کے خانے میں ڈال دیا جائے۔

خلافِ مزاج تجربہ پیش آنے کی صورت میں وہ یہ کہہ سکے: یہ اللہ کا معاملہ ہے، یہ میرا معاملہ نہیں۔ جب آپ کے ساتھ کوئی خلافِ مزاج بات پیش آئے تو اس کو منفی معنی، یعنی negative sense میں نہ لیجیے، بلکہ اس کو ایک موقع، یعنی opportunity کے طور پر دیکھیے۔ یہ موقع کہ فرشتوں، یعنی کرامن کاتبین نے آپ کے ریکارڈ میں لکھا کہ یہ وہ انسان تھا جو اللہ کی خاطر ہر حال میں صبر و رضا کے اصول پر قائم رہا۔ ایسے انسان کو اللہ کے یہاں النفس المطمئنہ الفجر، سورہ نمبر 89 آیت 27 کا درجہ دیا جائے گا۔

یعنی عقدِ نفسی سے پاک انسان، یعنی complex-free soul کا درجہ۔ یہی وہ انسان ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے لیے جنت کے دروازے اپنے آپ کھلتے چلے جائیں گے، حتیٰ کہ کوئی دروازہ اس کے لیے بند نہ رہے گا۔ تعمیرِ شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 196۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.