← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sabr mansukh nahi
Urdu · 7 min
صبر منسوخ نہیں۔ ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی، گفتگو کے دوران میں نے دین میں صبر کی اہمیت کا ذکر کیا، اور صبر سے متعلق قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے فوراً کہا، "صبر کی آیتیں تو مکی دور میں اتری تھیں، ہجرت کے بعد صبر کا حکم منسوخ کر دیا گیا، اور جہاد و قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ " اب ہم دورِ صبر میں نہیں ہیں، اب ہم دورِ جہاد میں ہیں۔
اب ہمارے تمام معاملات جہاد کے ذریعے درست ہوں گے، اور یہی کام ہمیں کرنا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے جس میں بے شمار لوگ مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ابدی حکم ہے، اس کا تعلق ہر دور اور ہر زمانے سے ہے۔ صبر تمام دینی اعمال کا خلاصہ ہے۔
آدمی کوئی دینی عمل صحیح طور پر اسی وقت کر سکتا ہے جبکہ اس کے اندر صبر کا مادہ ہو۔ جس آدمی سے صبر رخصت ہو جائے، وہ کوئی بھی دینی کام صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے سکتا، خواہ وہ کلمۂ توحید پر استقامت کا معاملہ ہو یا میدانِ مقابلے میں شجاعت کا معاملہ یا اور کوئی معاملہ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے، اور علی الاطلاق طور پر اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں صبر کا مادہ 100 سے زیادہ بار استعمال کیا گیا ہے۔
سورہ البقرہ ایک مدنی سورت ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ تم لوگ صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ استعينوا بالصبر والصلاح، إن الله مع الصابرين سورہ نمبر 2، آیت 153۔ حدیث میں صبر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے، اور مختلف پہلوؤں سے اس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے صبر سے زیادہ اچھا اور بڑا عطیہ کسی شخص کو نہیں دیا۔ وما أُعطي أحد من عطاء أوصاه من الصبر سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 1644۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ صبر مومن کا بھروسہ ہے۔ الصبر معول المسلم الترغیب الترہیب، حدیث نمبر 6۔
صبر کے لغوی معنی رکنے کے ہیں۔ امام راغب نے صبر کی حقیقت ان لفظوں میں بیان کی ہے: الصبر حبس النفس على ما يقتضيه العقل، المفردات للراغب الاصفہانی صفحہ 474۔ یعنی صبر اس چیز سے نفس کو روکنے کا نام ہے جس کا عقل تقاضا کرے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: أصبرت نفسي على ذلك الأمر، أي حبستها مقایس اللغہ، جلد 3، صفحہ 329۔
یعنی میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے روک دیا۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں موافق پہلوؤں کے ساتھ ناموافق پہلو بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے لیے صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہاں اپنی خواہش کو دبا کر اپنی عقل کو رہنما بنانا پڑتا ہے۔
یہاں ایک چیز کو لینے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہاں آج پر توجہ دینے کے لیے کل کو مستقبل کے خانے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ یہاں خلاف مزاج باتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں ردعمل کی نفسیات سے آزاد رہ کر مثبت سوچ کے تحت اپنا منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔
ان تمام چیزوں کا تعلق صبر سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں صبر کے بغیر کبھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ دنیاوی کاموں کی طرح دینی کام کے لیے بھی صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس زمین پر اور جس انسانی ماحول میں ایک دنیا دار کام کرتا ہے، اسی زمین پر اور اسی انسانی ماحول میں دین دار بھی اپنا عمل کرتا ہے۔
اس لیے یہاں دینی مقصد کو پانے کے لیے بھی صبر کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ صبر کے بغیر کوئی بھی دینی کام نتیجہ خیز طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 166۔