Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr ki taleem

Urdu · 5 min

صبر کی تعلیم: ایک مغربی مبصر، ولیم پیٹن، نے لکھا ہے کہ اسلام کا ایک پھل انسانیت کے لیے یہ رہا ہے کہ اس نے لوگوں میں شدید اور مستقل صبر پیدا کیا۔ صبر کی یہ کیفیت ان میں اللہ کی کامل اطاعت سے پیدا ہوئی۔ One of the fruits of Islam has been that stubborn, durable patience which comes of the submission to the absolute will of Allah. یہ تبصرہ نہایت درست ہے: اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔

قرآن کی بیشتر آیتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر صبر ہی سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کی صفت ایک ایسی صفت ہے جس کے بغیر ایمان و اسلام کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں بار بار آدمی کو ناخوشگوار تجربات سے سابقہ پیش آتا ہے، گھر کے اندر بھی اور گھر کے باہر بھی۔ اب اگر آدمی ہر ایسے موقع پر لوگوں سے الجھ جائے تو وہ انسانی ترقی کی طرف زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اس لیے اسلام میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے تاکہ آدمی ناخوشگواریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مقصدِ اعلیٰ کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے، مثلاً فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے اوپر پڑیں، ان پر صبر کرو۔ سورہ نمبر 31 آیت 17: صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ سورہ نمبر 8 آیت 46: فرمایا کہ گھاٹے سے محفوظ رہنے والے لوگ وہ ہیں جو ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں۔

سورہ نمبر 103 آیت 3: اسی طرح حدیث میں کثرت سے صبر کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسمعوا واطيعوا واصبروا" مسند احمد حدیث نمبر 10008، یعنی: سنو اور مانو اور صبر کرو۔ آپ نے فرمایا: "فأمر الله عز وجل نبيه بالصبر والعفو" سنن ابی داؤد حدیث نمبر 3000، یعنی: اللہ نے صبر اور عفو و درگزر کا حکم دیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں: "وكان النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه يعفون عن المشركين وأهل الكتاب كما أمرهم الله ويصبرون على الأذى" صحیح البخاری حدیث نمبر 4566، یعنی: رسول اور اصحاب رسول مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کرتے تھے جیسا کہ اللہ نے ان کو حکم دیا تھا، اور ان کی ایذاؤں پر ہمیشہ صبر کرتے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر اسلامی عمل کی بنیاد ہے، فتنوں اور آزمائشوں کی اس دنیا میں صبر کے بغیر کوئی آدمی اسلامی کردار پر قائم نہیں رہ سکتا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 157۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.