Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Disadvantage me advantage

Urdu · 4 min

ڈس ایڈوانٹیج میں ایڈوانٹیج۔ 5 نومبر 2001 کو میں بھوپال میں تھا، اس دوران وہاں ایک ادارے کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کا نام "شبھم وکلاں سماج سیوا سمیتی" ہے۔ یہ ادارہ معذور بچوں کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

اس وقت یہاں مختلف مذاہب کے 75 بچے اور بچیاں موجود ہیں۔ یہاں ان کو تعلیم دلائی جاتی ہے، اور انہیں مختلف قسم کے ہنر سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ خود کفیل ہو کر سماج میں معمول کی زندگی گزار سکیں۔ یہ ادارہ 1980 سے قائم ہے۔ وہ پہلے کرائے کی عمارت میں تھا، اب وہ ایک خوبصورت ذاتی بلڈنگ میں قائم ہے۔

اب تک بہت سے بچے اور بچیاں اس ادارے میں تعلیم و تربیت پا کر کامیابی کے ساتھ خود کفیل زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں اور اساتذہ کے سامنے میری ایک تقریر ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ معذور بچوں کے لیے قرآن میں محروم سورہ نمبر 70 آیت 25، سورہ نمبر 51 آیت 19 کا لفظ آیا ہے۔ یہ معذور بچے اللہ کے خاص بندے ہیں۔

وہ گویا دنیا میں اللہ کے سفیر ہیں۔ وہ واقعے کی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ: "اے لوگو! میری طرح تم بھی معذور ہو سکتے ہو۔ " تم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تم کو معذور نہیں بنایا۔

اس شکر کی ایک عملی صورت یہ ہے کہ تم ان معذور بچوں کی مدد کر کے ان کی معذوری کی تلافی کرو۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ معذوری سادہ طور پر صرف محرومی نہیں، بلکہ وہ ایک ایڈوانٹیج ہے۔ معذوری آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ بے فائدہ مشغولیتوں سے بچ کر اپنے آپ کو صرف کارآمد قسم کی مشغولیت میں لگائے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانے میں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہو گئی ہے کہ کوئی شخص مطلق معنوں میں قوی یا ضعیف نہیں ہوتا۔

چنانچہ پہلے معذور کے لیے "ڈس ایبلڈ" کا لفظ بولا جاتا تھا، مگر اب یہ لفظ متروک ہو گیا ہے۔ اب ایسے افراد کو "ڈفرنٹلی ایبلڈ" کہا جاتا ہے، یعنی ایک اعتبار سے معذور اور دوسرے اعتبار سے طاقتور۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کے لوگوں کے لیے ایسے طریقے دریافت کیے گئے ہیں جن کو اختیار کر کے ناقص الاعضا شخص بھی نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ گویا یہ ایک بظاہر معذور انسان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر محرومی کی نفسیات پیدا کرنے کے بجائے شکر اور مثبت سوچ کی نفسیات پیدا کرے۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 118۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.