Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shukr,na ke shikaayat

Urdu · 5 min

شکر، نہ کہ شکایت۔ 5 ستمبر 2003 کو جمعہ کا دن تھا، میں نے نظام الدین کی قلاں یعنی کالی مسجد میں نماز ادا کی۔ امام صاحب نے خطبے سے پہلے اپنی تقریر میں بتایا کہ 1947 میں یہ مسجد کچھ ہندوؤں کے قبضے میں چلی گئی تھی۔ ہم نے دوبارہ قبضہ کر کے اس کو آباد کرنا چاہا تو پولیس کیس بن گیا، اور عدالتی کارروائی کی نوبت آ گئی۔

عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا 15 اگست 1947 سے پہلے یہ عمارت ایک مسجد تھی اور وہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ ہندو جج نے تین آدمیوں کی گواہی پر مسجد کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ تینوں دہلی کے تین ہندو تھے، ان میں سے ایک برہمن تھا، دوسرا بنیہ، اور تیسرا ہری جن۔ کلام قلاں یعنی کالی مسجد تقریباً 800 سال پہلے تغلق دور میں بنائی گئی تھی۔

میں 1983 سے اس مسجد میں نماز پڑھتا رہا ہوں۔ پہلے یہ مسجد تقریباً کھنڈر کی حالت میں تھی، اب یہاں مسجد کی شاندار عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ اس ملک میں ملت مسلمہ کا مستقبل دن بدن بہتر حالت کی طرف جا رہا ہے۔ اسی طرح کا واقعہ ہے: اپریل 1996 کو میرٹھ اور اس کے اطراف کے لیے میرا سفر ہوا۔

12 اپریل کو جمعہ کا دن تھا۔ سردھنا کی جامعہ مسجد میں میں نے اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی۔ کافی بڑی مسجد ہے، اندر سے باہر تک نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے سوچا کہ موجودہ مسلمانوں سے جو سب سے بڑی چیز اٹھ گئی ہے وہ شکر خداوندی کا جذبہ ہے۔

چنانچہ ایک مسجد کے ساتھ کسی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے تو ہر زبان اور ہر قلم اس کے پرجوش تذکرے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر اس ملک میں لاکھوں مسجدیں شاندار طور پر آباد ہیں، اور اس کے تذکرے میں کوئی رطب اللسان نہیں۔ مجھے یاد آتا ہے کہ 40 سال پہلے میں یو پی میں اپنے آبائی گاؤں بڈھریہ، ضلع اعظم گڑھ میں رہتا تھا۔ میرے گھر کے قریب ایک مسجد تھی، اس میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں ہی مؤذن ہوتا تھا اور میں ہی امام اور مقتدی۔

خاص طور پر عشاء کی نماز مجھے اس طرح پڑھنا ہوتا تھا کہ میں لالٹین لے کر مسجد جاتا، جو گاؤں کے باہر کھیتوں کے کنارے واقع تھی۔ رات کے سنسان ماحول میں عشاء کی نماز پڑھنا بڑا عجیب تجربہ تھا۔ اس وقت وہاں میرے ساتھ کوئی اور نمازی نہیں ہوتا تھا۔ میں خود ہی اذان دیتا اور خود ہی تکبیر کہہ کر جماعت کے طور پر نماز ادا کرتا، اور پھر لالٹین لے کر واپس اپنے گھر آ جاتا۔

مگر اب 40 سال کے بعد مسجد سمیت یہ پوری جگہ نہایت بارونق ہو گئی ہے۔ اب وہاں مسجد سے متصل سڑک گزر رہی ہے، بجلی اور ٹیلی فون آ چکا ہے۔ مسجد کے بالکل سامنے ایک معیاری اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اب یہاں رات دن چہل پہل رہتی ہے۔

اس قسم کے واقعات ہر جگہ پیش آ رہے ہیں۔ ان واقعات میں نہایت امید افزا پیغام چھپا ہوا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے میں تمام مسلمان، مذہبی اور غیر مذہبی دونوں، شکایت کی بولی بولتے ہیں۔ مجھے اپنے تجربے میں پوری مسلم دنیا میں کوئی شخص نہیں ملا جو شکایت سے خالی ہو اور حقیقی طور پر شکر کے جذبے سے سرشار ہو کر حمد کلچر یا مثبت سوچ میں جیتا ہو۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 115۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.