← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Na mile par shikaayat,Mile par be eateraafi
Urdu · 4 min
نہ ملے پر شکایت، ملے پر بے اعترافی۔ انسان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ شیطان کا پیرو بن جائے۔ شیطان کی پیروی کیا ہے؟ شیطان کی پیروی ہے ظلوم و کفار بن جانا۔
سورہ ابراہیم، سورہ نمبر 14، آیت 34۔ یعنی بہت زیادہ ظالم اور بہت زیادہ ناشکرا۔ شیطان کا واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اس کو غیر معمولی طاقت دی۔ لیکن شیطان نے اس عطیے، یعنی گفٹ، کا اعتراف نہیں کیا۔
لیکن جب اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو زمین کا خلیفہ، یعنی انچارج بنا دیا، تو شیطان غصہ ہو گیا اور ابدی طور پر اپنے خالق کا دشمن بن گیا۔ شیطان کی یہ صفت کیا ہے؟ نہ ملے پر شکایت، اور ملے پر بے اعترافی۔ یہ عادت بلاشبہ سب سے بری عادت ہے۔
اللہ رب العالمین کا ایک تخلیقی نظام، یعنی کریشن پلان، ہے۔ اس کے تحت اس دنیا میں انسان کو کبھی کوئی چیز ملتی ہے اور کبھی کوئی چیز نہیں ملتی۔ اس نظام کے تحت یہ ناممکن ہے کہ انسان کو ہر چیز ملے، وہ کسی چیز سے محروم نہ رہے۔ ایسا ہونا فطرت کے قانون کے مطابق ناممکن ہے۔
انسان کو چاہیے کہ جب اس کو کوئی ملنے والی چیز ملے تو وہ اس پر شکر ادا کرے۔ اس کے برعکس، جب اس کو کوئی نہ— اس کے برعکس، جب اس کو کوئی نہ ملنے والی چیز نہ ملے تو وہ اس پر صبر کرے۔ یہی ایک سچے انسان کا طریقہ ہے۔ یہی وہ انسان ہے جو اللہ کے یہاں صابر اور شاکر قرار پائے گا، اور اس کو ابدی جنتوں میں داخلہ ملے گا۔
اس کے برعکس، جس کا حال یہ ہو کہ وہ ظلوم اور کفار بن جائے، یعنی جو چیز اس کو نہ ملے، اس پر وہ خوب شکایتیں کرے۔ اس کے برعکس، جو چیز اس کو ملی ہوئی ہے، اس سے وہ بے خبر رہے۔ اس کی زبان سے اس کا اعتراف نہ نکلے۔ وہ منفی چیز، یعنی نیگیٹو آئٹم کو تو خوب جانے، لیکن مثبت چیز، یعنی پازیٹو آئٹم کے بارے میں وہ ایسا بنا رہے جیسے کہ وہ اس کو جانتا ہی نہیں۔
اس کی زبان منفی باتوں پر خوب کھلی ہوئی ہو، لیکن مثبت باتوں پر اس کی زبان ہمیشہ بند رہے۔ ایسا انسان خالق کی نظر میں شیطان کا پیرو ہے۔ آخرت میں ایسے انسان کو شیطان کے پڑوس میں جگہ ملے گی۔ اس کو جنتیوں کے پڑوس میں جگہ ملنے والی نہیں۔
تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 98۔