Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shukrguzaari,Sarkashi

Urdu · 3 min

شکر گزاری، سرکشی۔ ابو امامہ سے روایت ہے کہ سالبہ بن حاتب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لیے دعا کیجیے کہ خدا مجھے مال دے دے۔ آپ نے فرمایا: "تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا، اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کر سکو۔ " عن أبي أمامة أن سالبة بن حاتب الأنصاري أتى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال: "يا رسول الله، ادعُ الله أن يرزقني الله." قال: "ويحك يا ثعلبة، قليل تؤدي شكره خير من كثير لا تطيقه." المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7873۔

خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکر گزار بندہ بن کر رہنا چاہیے، لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنیا میں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔

انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے، اس کو حادثات پیش آتے ہیں، اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتا ہے، پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعے وہ اس دنیا میں اپنا باغ اگاتا ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضے میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متوازن بن کر دنیا میں رہے۔ اللہ نے جو کچھ انسان کو دیا ہے، خواہ وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں، سب کا سب رزق ہے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو خدا کا دیا ہوا سمجھے اور خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ان میں تصرف کرے تو اس کے اندر خدا کے شکر کا جذبہ ابھرے گا۔

مگر شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ اس نسبت کو بدل دے تاکہ اس رزق کے استعمال کے وقت آدمی کو خدائی یاد نہ آئے بلکہ دوسری چیزوں کی یاد آئے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 95۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.