Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shukr aur sanjeedgi

Urdu · 5 min

شکر اور سنجیدگی۔ قرآن کی سورہ الاحقاف میں ایک بندے صالح کی دعا ان الفاظ میں آئی ہے: رَبِّ اَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ سورہ نمبر 46، آیت 15۔ یعنی: اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کیا اور میرے ماں باپ پر کیا، اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد میں بھی مجھ کو نیک اولاد دے۔

میں نے تیری طرف رجوع کیا، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ سورہ النمل، آیت 19۔ میں الفاظ کے جزئی فرق کے ساتھ یہی دعا حضرت سلیمان علیہ السلام کے حوالے سے آئی ہے۔ اس دعا کے ذریعے ایک سنجیدہ انسان، یعنی sincere person، کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب اس کو نعمت ملے تو اس کا حال کیا ہونا چاہیے۔

عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی نعمت، یعنی favor، ملتی ہے تو وہ اس کا کریڈٹ خدا کو نہیں دیتے، بلکہ اپنی ذات کو اس کا کریڈٹ دیتے ہیں۔ اس قسم کا کوئی بڑا واقعہ ایک عام انسان کو فخر و غرور میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ مگر ایک بندے صالح، جس کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی ہو، اللہ سے تعلق قائم ہونے کے بعد اس کے اندر اپنے منیم حقیقی کے لیے اعتراف، یعنی acknowledgement، کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ نعمت کو دیکھ کر سراپا شکر بن جاتا ہے۔

جو کچھ بظاہر اس کو ذاتی محنت سے حاصل ہوتا ہے، اس کو بھی وہ پورے طور پر خدا کے خانے میں ڈال دیتا ہے۔ یہی ہر سنجیدہ انسان کا طریقہ ہونا چاہیے۔ اسی اعتراف کا شرعی نام شکر ہے۔ یعنی کسی نعمت کے حصول پر منیم کے لیے دل کی گہرائی سے قدردانی کا اظہار کرنا۔

Deep appreciation for kindness received. جہاں شکر نہ ہو، یقینی طور پر وہاں دین بھی نہ ہوگا۔ اس دنیا کے اندر شکر کے آئٹم اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو گنا نہیں جا سکتا۔ النحل، سورہ نمبر 16، آیت 18۔

اگر انسان سنجیدہ، یعنی sincere ہو، تو نعمت کا احساس انسان کے اندر شکر و حمد کے چشمے جاری کر دیتا ہے۔ یہی اللہ سے تعلق کا خلاصہ ہے۔ انسان کے اندر یہ کمزوری ہے کہ اس کی نفسیات میں کسی کیفیت کا تسلسل باقی نہیں رہتا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ شکر خداوندی کی کیفیات میں زندگی گزارے۔

اس لیے انسان پر مختلف قسم کے ناخوشگوار حالات لائے جاتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے سے انسان کے اندر نعمت اور منیم کی اہمیت کا احساس ابھرے۔ تاکہ آدمی کبھی شکر کی کیفیت سے خالی نہ ہونے پائے۔ وہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ہر تجربے کے بعد شکر کا رسپانس دیتا رہے۔ اس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔

انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل و جان کے ساتھ ان انعامات کے منیم، یعنی giver، کا اعتراف کرے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 59۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.