Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Shukr aur nashukri

Urdu · 4 min

شکر اور ناشکری۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک غزوہ پیش آیا جس کو غزوۂ حنین کہا جاتا ہے۔ اس غزوے میں کافی بھیڑ بکری غنیمت کی صورت میں حاصل ہوئی۔ رسول اللہ نے غنیمت کا سامان مہاجرین میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہیں دیا۔

وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا یہ دیکھ کر انصار کے کچھ افراد کو شکایت پیدا ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے انصار کے لوگوں کو جمع کر کے ایک تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے انصار! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکری لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے ساتھ لے جاؤ؟

أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاطِي وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى رِحَالِكُمْ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4330۔ اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ دوسروں کو اگر میں نے بھیڑ بکری دی ہے تو تم کو تو میں نے خود اپنے آپ کو دے دیا ہے، یعنی اللہ کے رسول کو۔ یہ انسان کی عام کمزوری ہے کہ وہ اپنے ملے ہوئے کو نہیں دیکھ پاتا اور دوسرے کو جو کچھ ملے وہ اس کو بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ملی ہوئی چیز بظاہر زیادہ ہوتی ہے اور نہ ملی ہوئی چیز بظاہر کم۔

ایسی حالت میں مذکورہ قسم کا مزاج بے حد خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ نکل جائے گا، وہ ناشکری میں جینے لگے گا، اور یہ نقصان بلاشبہ تمام نقصانات سے زیادہ ہے۔ جو چیز آدمی کے اندر ناشکری پیدا کرے، اس کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں۔ دین میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے۔

اس کے صبح و شام شکر کی نفسیات میں بسر ہوتے ہوں۔ لیکن ضروری ہے کہ آدمی اس معاملے میں اپنے شکر کی حفاظت کرے۔ شکر کی حفاظت کرنے سے شکر باقی رہے گا اور حفاظت نہ کرنے سے شکر کا احساس آدمی کے اندر سے رخصت ہو جائے گا۔ ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ آدمی ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 57۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.