← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Shukr ek aala ibadat
Urdu · 17 min
شکر ایک اعلیٰ عبادت ہے۔ شکر کیا ہے؟ شکر اس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو "gratefulness" کہا جاتا ہے۔
عربی زبان کی مشہور ڈکشنری "لسان العرب" جلد 4 صفحہ 423 کے مطابق، احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام شکر ہے۔ الشكر عرفان الاحسان ونشره. راغب الاصفہانی کی کتاب "المفردات فی غریب القرآن" صفحہ 265 میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا۔ یعنی الشكر تصور النعمة واظهارها.
مفسر القرطبی نے لکھا ہے: والشكر معرفة الإحسان والتحدث به. تفسیر القرطبی جلد 2 صفحہ 172: شکر نام ہے احسان شناسی اور اس کے اعتراف کا۔ نعمت کا اعتراف یعنی acknowledgement ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو تو اسی کا نام شکر ہے۔
انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دعا میں فرمایا: رب اجعلنی لك شكارا. سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 3831، سنن الترمذی حدیث نمبر 3551، مسند احمد حدیث نمبر 1997۔ یعنی: اے میرے رب!
تو مجھ کو اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا۔ قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے لوگو! خدا کے شکر گزار بندے بنو۔ مثلاً میٹھے پانی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فلولا تشكرون؟
سورہ نمبر 56 آیت 70۔ یعنی: تم شکر کیوں نہیں کرتے؟ انسان سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ یہی شکر ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔
قرآن کے مطابق آغازِ حیات میں اس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو ان میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ ولا تجد أكثرهم شاكرين and you will not find most of them grateful. چیپٹر نمبر 7، آیت نمبر 17۔ قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو شکر کرنے والے ہیں۔
وقليل من عبادي الشكور. سورہ نمبر 34 آیت 13۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ رہے ہیں، اور آج بھی وہ بہت زیادہ ہیں۔ ایسے لوگ بے شمار ہیں جو اپنی گفتگو کے دوران بار بار "الحمدللہ"، "اللہ کا شکر ہے"، اور "اللہ کا فضل ہے" جیسے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔
ایسی حالت میں دنیا بظاہر شکر کرنے والوں سے بھری ہوئی ہے۔ پھر مذکورہ قرآنی بیان کا کیا مطلب ہے کہ لوگوں میں بہت کم ہیں جو شکر کرنے والے ہیں؟ اصل یہ ہے کہ شکر کی دو قسمیں ہیں: لسانی شکر اور قلبی شکر۔ لسانی شکر کو نارمل شکر اور قلبی شکر کو تھرلنگ شکر کہہ سکتے ہیں۔
خدا کی خدائی شان کے مطابق، شکر صرف وہ ہے جو تھرلنگ شکر ہو۔ نارمل شکر صرف ایک لپ سروس ہے۔ اس قسم کا شکر خدا کو مطلوب نہیں۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ خدا کے لیے انسان کا شکر ایک اضافہ پذیر شکر ہو۔
جو شکر ایک حالت پر قائم ہو جائے وہ ایک جامد شکر ہے۔ اور جامد شکر وہ شکر نہیں جو خدا کے نزدیک مطلوب شکر کی حیثیت رکھتا ہے۔ تھرلنگ شکر صرف اس شخص کو ملتا ہے جو خدا کے احسانات یعنی blessings پر مسلسل غور کرتا رہے۔ انسان کے اوپر خدا کے احسانات لامحدود ہیں۔
اس لیے جو آدمی اس پہلو سے غور و فکر کرتا رہے، وہ ہر وقت ایک نئے خدائی احسان کو دریافت کرے گا۔ وہ ہر وقت ایک نئے سببِ شکر کا تجربہ کرے گا۔ اس کے یہ تجربات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس لیے اس کے اندر شکرِ خداوندی کا احساس بھی مسلسل طور پر زندہ رہے گا۔
میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے سوچا کہ انسان کی قوتِ سماعت بھی کیسی عجیب ہے کہ اس کے کان میں بے شمار قسم کی آوازیں آتی ہیں۔ وہ ہر آواز کو ممیز یعنی differentiate کر کے اس کو الگ سے پہچان لیتا ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنے ایک ہاتھ کو حرکت دی اور بات کرنے کے لیے ریسیور کو اٹھایا۔
دوبارہ میں نے سوچا کہ میرے جسم میں بہت سے اعضاء ہیں، لیکن میرے دماغ نے صرف ایک عضو یعنی ہاتھ کو متحرک کیا کہ وہ ریسیور کو اٹھائے۔ اس عمل میں آنکھ کا بھی ایک حصہ تھا، کیونکہ اگر آنکھ اپنا عمل نہ کرتی تو مجھے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ ریسیور کہاں ہے۔ جب میں نے ٹیلی فون پر بات کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ٹیلی فون کے دوسری طرف جو آدمی ہے وہ انگریزی زبان میں بول رہا ہے۔ میں اس کی بات کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔
میں نے سوچا کہ میری مادری زبان اردو ہے اور دوسرے شخص کی زبان انگریزی۔ میں کسی بات کو صرف اس وقت سمجھ پاتا ہوں جب کہ میں اس کو اردو الفاظ میں ڈھال لوں۔ میں نے سوچا کہ دماغ کیسی عجیب نعمت ہے جو اپنے اندر یہ انوکھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ انگریزی الفاظ کو فی الفور یعنی instantly اردو میں ڈھال دے۔ اور اس طرح متکلم کی بات کو بلا تاخیر میرے لیے قابلِ فہم بنا دے۔
اس طرح کی بہت سی باتیں اس وقت میرے ذہن میں آتی رہیں۔ میں ایک طرف دور کے ایک شخص سے ٹیلی فون پر بات کر رہا تھا، اور دوسری طرف عین اسی وقت میں خدا کے بارے میں تھرلنگ شکر کا تجربہ کر رہا تھا۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ شدید تھا جیسے کہ شکر کا ایک دریا میرے سینے میں جاری ہو گیا ہو۔ اسی طرح ہر لمحہ انسان کو ایسے تجربات پیش آتے ہیں جن کے اندر شکر کا سمندر چھپا ہوا ہوتا ہے۔
اس اعلیٰ شکر تک آپ کی رسائی صرف غور و فکر کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی اعلیٰ شکر کا دروازہ ہے۔ جس آدمی کے اندر سوچ نہ ہو، اس کے اندر شکر بھی نہ ہوگا۔ ایسا آدمی ہر چیز کو for granted لیتا رہے گا۔
جو انسان چیزوں کو for granted لے گا، وہ خدا کی نعمتوں کی کوئی قدر نہیں کرے گا۔ وہ شکر کے سمندر کے درمیان رہتے ہوئے بھی تھرلنگ شکر کا تجربہ نہیں کرے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم أعين لا يبصرون بها ولهم آذان لا يسمعون بها أولئك كالأنعام بل هم أضل أولئك هم الغافلون. سورہ نمبر 7 آیت 179۔
یعنی: ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ۔
یہی لوگ ہیں غافل۔ اصل یہ ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک اس کا ابتدائی اور ظاہری پہلو، اور دوسرا اس کا زیادہ گہرا پہلو۔ چیزوں کا ظاہری پہلو ہر آدمی کو کسی کوشش کے بغیر اپنے آپ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کا جو گہرا پہلو ہے وہ صرف سوچنے کے بعد کسی کو سمجھ میں آتا ہے۔ اعلیٰ شکر کا تجربہ کرنے کے لیے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ چیزوں کے گہرے پہلو پر غور کرے، تاکہ وہ ایک معمولی چیز کو غیر معمولی روپ میں دیکھ سکے۔
It is the result of taking an ordinary thing as extraordinary. ایک دن مجھے پیاس لگی۔ میرے سامنے میز پر شیشے کا ایک گلاس پانی تھا۔ ایک دن مجھے پیاس لگی۔
میرے سامنے میز پر شیشے کا ایک گلاس پانی سے بھرا ہوا رکھا تھا۔ میں نے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس کو دیکھ کر میرے دماغ میں ایک فکری طوفان برپا ہو گیا۔ اچانک ایک پوری تاریخ میرے ذہن میں آ گئی۔ میری زبان سے نکلا کہ خدایا!
تیرا شکر ہے کہ تو نے پانی جیسی نعمت انسان کو عطا کی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک سپر شکر تھا جس نے میری پوری شخصیت میں طوفان برپا کر دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ کئی بلین سال پہلے ایسا ہوا کہ دو گیسوں، آکسیجن اور ہائیڈروجن، کے ملنے سے پانی جیسی سیال چیز بنی۔
یہ پانی گہرے سمندروں میں ذخیرہ ہو گیا۔ اس کے بعد خدا نے تحفظاتی مادہ یعنی preservative کے طور پر اس میں 10% نمک ملا دیا۔ یہ پانی براہ راست طور پر انسان کے لیے ناقابلِ استعمال تھا۔ اس کے بعد خدا نے ایک عالمی نظام کے تحت پانی کو نمک سے الگ کرنے کے لیے ازالۂ نمک یعنی desalination کا ایک آفاقی عمل جاری کیا۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ سمندروں کا کھاری پانی میٹھا پانی بن کر بارش کی صورت میں ہم کو حاصل ہو گیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تھرلنگ شکر کی توفیق کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ اس کا واحد ذریعہ سوچ ہے۔ یہ دراصل سوچ ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ سپر شکر کا ہدیہ اپنے رب کے حضور پیش کرے۔
سوچ کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں ہے جو آدمی کو اس اعلیٰ شکر کا تجربہ کرائے جو کہ خدا کو انسان سے مطلوب ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: رَبِّ جَعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا کوئی انسان شکار یا بہت زیادہ شکر کرنے والا کیسے بنتا ہے؟ اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی شکر کے کلمے کو ہزاروں بار دہرائے یا اور کوئی وظیفہ پڑھے۔ اس کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ غور و فکر ہے۔
مذکورہ دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا! تو مجھ کو ربانی غور و فکر کی توفیق دے تاکہ میرے اندر اعلیٰ شکر کی کیفیات پیدا ہوں، جو کہ حقیقی معنوں میں کسی انسان کو خدا کا شکر گزار بندہ بناتی ہیں۔ آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ پائیں گے کہ قرآن میں شکر کو صبر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں دنیا کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٌ سورہ نمبر 31 آیت 31۔
یعنی اس میں نشانیاں ہیں ہر اس انسان کے لیے جو بہت زیادہ صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر کرنے والا ہو۔ اس قسم کی آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون الہی کے مطابق اعلیٰ شکر کی توفیق صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو بہت زیادہ صبر کرتے ہوئے اس دنیا میں زندگی گزاریں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس بنا پر یہاں مختلف قسم کی برائیاں یعنی evils پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ صورتحال خدا کے قانون کی بنا پر ہے۔ انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔
اس معاملے میں انسان کو ایک ہی اختیار یعنی option حاصل ہے، وہ یہ کہ وہ صبر و برداشت سے کام لے تاکہ وہ دنیا میں نارمل طریقے سے رہ سکے۔ شکر ایک ایسا جذبہ ہے جو صرف ایک ایسے mind میں پیدا ہوتا ہے جو کامل طور پر مثبت یعنی positive ہو۔ کسی بھی قسم کا منفی فکر یعنی negative thought اس کے ذہن میں موجود نہ ہو۔ مثبت ذہن کا آدمی ہی خدا کی توفیق سے اعلیٰ شکر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
صبر دراصل شکر کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، وہ شکر جیسی اعلیٰ عبادت بھی انجام نہیں دے سکتا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔