Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Insan ki shakhsiyat

Urdu · 4 min

انسان کی شخصیت، انسان فطرت کا ایک اعلیٰ عطیہ ہے۔ انسان کے اندر ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیت فطری طور پر موجود ہوتی ہے، لیکن انسان کے اندر جو صلاحیت ہے وہ پوٹینشل کے روپ میں ہے۔ اس پوٹینشل کو ایکچول بنانا انسان کا اپنا کام ہے۔ انسان کی اس پیدائشی نوعیت کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجیے: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ سورہ نمبر 14، آیت 24 تا 25۔

یعنی: کیا تم نے نہیں دیکھا کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمۂ طیبہ کی؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے، اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے، اپنے رب کے حکم سے۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

قرآن کی یہ آیت تمثیل کی زبان میں بتا رہی ہے کہ انسانی شخصیت کی تعمیر کا اصول کیا ہے۔ اس آیت میں شجرہ طیبہ سے مراد صحت مند پودا، یعنی ہیلتھی پلانٹ ہے۔ صحت مند پودے کو جب زمین میں نصب کر دیا جائے تو وہ فوراً زمین اور فضا سے اپنی غذا لینا شروع کر دیتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک پورا درخت بن جاتا ہے۔

یہی معاملہ ایک انسانی وجود کا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، وہ ایک بالقوہ انسان کی مانند ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنے ماحول سے ہر قسم کی غذا لینا شروع کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے ایک پورا انسان بن جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ تمام عملی اور اخلاقی صفات پیدا ہو جاتی ہیں جو اس کو اس زمین پر ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے درکار ہیں۔

انسان کو چاہیے کہ وہ زمین پر موجود تمام امکانات کو اپنے لیے استعمال کرے، اور اپنے آپ کو اللہ کا مطلوب انسان بنائے۔ وہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں ہر موقع پر وہ مطلوب رسپانس، یعنی ریکوائرڈ رسپانس، دے جس کے لیے اس کے خالق نے اس کو موجودہ دنیا میں بھیجا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 10۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.