Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Yaksan code yaksaniat ka zaria nahi

Urdu · 4 min

یکساں کوڈ یکسانیت کا ذریعہ نہیں۔ یکساں کوٹ کا کوئی بھی تعلق یکسانیت یا باہمی اتحاد سے نہیں۔ ایک ہی سویل کوٹ کو اپنانے والے بار بار آپس میں لڑتے رہے۔ مثال کے طور پر قدیم ہندوستان میں کورو اور پانڈو، دو رشتہ دار خاندان تھے، دونوں کا سویل کوڈ ایک تھا۔

اس کے باوجود دونوں میں وہ عظیم جنگ ہوئی جس کو "مہا بھارت" کہا جاتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ دہلی کی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے اگلے الیکشن میں وہ قاتلانہ جبلت، یعنی کلر اسٹنگٹ، کے ساتھ مہا بھارت برپا کرے گی۔ ٹائمز آف انڈیا، 24 جولائی 1995۔ اس نئی ماہا بھارت کی دونوں فریخ دوبارہ وہی لوگ ہیں جن کا سویل کوڈ بالکل یکساں ہے۔

پہلی عالمی جنگ 1914-18 میں ایک طرف جرمنی اور اٹلی وغیرہ تھے، اور دوسری طرف برطانیہ اور فرانس وغیرہ۔ دونوں گروہوں میں ہلاکت خیز جنگ ہوئی، حتیٰ کہ مرنے اور شدید طور پر زخمی ہونے والوں کی تعداد 30 ملین تک پہنچ گئی۔ یہ دونوں جنگ آزما فریخ عیسائی تھے، ان میں سے ہر ایک کے یہاں وہی سویل کوڈ رائج تھا جو دوسرے کے یہاں رائج تھا۔ مگر یہ قانونی یکسانیت دونوں کو آپس میں لڑنے سے روکنے والی ثابت نہیں ہوئی۔

اسی طرح دوسری عالمی جنگ 1939-1949 میں ایک فریخ کا خائد جرمنی تھا اور دوسرے فریخ کا خائد برطانیہ۔ دونوں کا کلچر اور سویل کوڈ ایک تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ لڑی۔ دونوں کا یکساں سویل کوڈ کو ماننا انہیں باہمی جنگ سے روکنے والا نہ بن سکا۔

سابق وزیراعظم ہند اندرا گاندھی کو 1984 میں کچھ لوگوں نے مار ڈالا، جبکہ قاتل اور مقتول دونوں کا سویل کوڈ ایک تھا۔ پنجاب میں علیحدگی کی خونی لڑائی جن دو فریخوں کے درمیان جاری ہوئی، وہ دونوں ایک ہی سویل کوٹ کو ماننے والے تھے۔ ہر دن اخبار میں شوہروں اور بیویوں کے درمیان ظالمانہ سلوک کے واقعات چھپتے رہتے ہیں، جبکہ دونوں کے دونوں ایک ہی سویل قانون سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ عدالتوں میں کروڑوں ہندوستانی ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات لگا کر قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں، حالانکہ بیشتر حالت میں دونوں فریخوں کا سویل کوڈ ایک ہی ہوتا ہے وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کے لیے یکساں سویل کوٹ کا بے فائدہ ہونا آج ہی معلوم اور ثابت شدہ ہے۔ کوئی نیا قانون بنا کر از سرِ نو اس کا مزید تجربہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 114۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.