Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Common code aur qaumi eikta

Urdu · 6 min

کامن کورٹ اور قومی یکتا: کامن سول کورٹ کا مقصد کیا ہے؟ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہے گا کہ کامن کورٹ برائے کامن کورٹ، یعنی کامن کورٹ فار دی سیک آف کامن کورٹ، ہمارا مقصد ہے۔ پھر اس کا اصل مقصد کیا ہے؟ اس کے تمام وکیل، متفقہ طور پر، اس کا ایک ہی فائدہ بتاتے ہیں: وہ یہ کہ اس کے ذریعے سے لوگوں میں باہمی قربت پیدا ہوگی اور مشترک قومیت کو وجود میں لانے میں مدد ملے گی۔

کامن کورٹ لوگوں کے اندر کامن فیلنگ پیدا کرے گا۔ اس طرح وہ مضبوط انڈین نیشن وجود میں آ جائے گی، جس کا 50 سال سے ہم کو انتظار ہے۔ مگر یہ محض قافیہ بندی کی بات ہے، صرف لفظی اشتراک کی بنا پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کامن کورٹ سے کامن فیلنگ کا ظہور ہوگا، حالانکہ دونوں میں کوئی لازمی رشتہ نہیں۔ تمام متعلق حقائق اس نظریے کی تردید کرتے ہیں۔

جسٹس کلدیپ سنگھ اپنے فیصلے میں لکھتے ہیں کہ حکومت نے ہندوؤں کے روایتی خانون کو کورٹ کی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔ ہندو میرج ایکٹ 1955، ہندو سیکشن ایکٹ 1956، ہندو مائنارٹی اینڈ گارڈین شپ ایکٹ 1956، ہندو اڈاپشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ 1956 بنایا جا چکا ہے۔ ان قوانین نے روایتی ہندو خانون کی جگہ لے لی ہے، جو کہ مختلف مکاتب فکر اور مذہبی کتابوں پر مبنی تھا۔ ان جدید قوانین نے ان سب کو ایک یونیفارم کورٹ کی حیثیت دے دی ہے۔

جب 80% سے زیادہ شہری پہلے ہی سے مشترک پرسنل قانون کے تحت لائے جا چکے ہیں، تو اب اس کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کورٹ کے نفاذ کو مزید التوا میں ڈالا جائے۔ صفحہ 2۔ جسٹس کلدیپ سنگھ مزید لکھتے ہیں کہ آخر حکومت کو کتنا زیادہ وقت چاہیے کہ وہ دستور ہند کی دفعہ 44 کے تحت دی ہوئی ہدایت کی تعمیل کرے؟ ہندوؤں کا روایتی خانون، ہندوؤں کا پرسنل لاء، جس کا تعلق وراثت، جان نشینی، اور شادی بیاہ سے ہے، بہت پہلے 1955 میں قانونی کورٹ کی صورت اختیار کر چکا۔

اب کسی بھی قسم کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے کہ ملک میں یونیفارم پرسنل لاء کے نفاذ میں غیر متعین تاخیر کی جائے۔ ہندوؤں کا پرسنل لاء، جس کا تعلق شادی، جان نشینی، وغیرہ سے ہے، وہ سب اسی طرح مقدس سمجھے جاتے ہیں جیسا کہ مسلمانوں یا عیسائیوں کے خانون۔ مگر ہندو اور ان کے ساتھ سکھ، بدھسٹ، اور جینی فرقے نے قومی اتحاد اور استحکام کی خاطر اپنے جذبات کو بھلا دیا۔ تاہم کچھ اور فرقوں نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے، اگرچہ دستور پورے ہندوستان میں ایک ہی کامن سول کورٹ نافذ کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

صفحہ 21-22۔ جسٹس کلدیپ سنگھ کے فیصلے کا جو اقتباس ہم نے اوپر نقل کیا ہے، اس موصوف کے نزدیک ملک کی بہت بڑی اکثریت، 80% سے زیادہ، اس مشترک عائلی قانون کے تحت بالفعل لائی جا چکی ہے، جس کے لیے وہ مکمل قسم کا یکساں پرسنل قانون بنانے کی پرزور وکالت کر رہے ہیں۔ پھر جب آبادی کی اتنی بڑی اکثریت میں مطلوب خانون عملاً آ چکا ہے، تو اس کے وہ مثبت نتائج کہاں ہیں جو اس کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں؟ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی ہر سطح پر قومی یکجہتی کا فقدان ہے۔

لوگوں میں کوئی نیشنل کریکٹر نہیں۔ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران ایسے ہنگامے ہوتے ہیں کہ کارروائی کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گاؤں پنچایتوں میں پہلے سے بھی زیادہ جھگڑے ہو رہے ہیں۔ عدالتوں میں نزاعی مقدمات کی بھرمار ہے۔

دو مختلف فرقوں سے بھی زیادہ، ایک ہی فرقے کے مختلف طبقات میں ٹکراؤ ہو رہا ہے۔ اکثر ریاستوں میں علاقائی ہنگامے جاری ہیں۔ حتیٰ کہ کئی ریاستوں میں علیحدگی کی متشددانہ تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کا سول قانون ایک ہی ہے۔

مگر ان جماعتوں نے اتنے بڑے پیمانے پر باہمی لڑائی جاری کر رکھی ہے کہ ملک کا استحکام شدید طور پر خطرے میں پڑ گیا ہے، وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ خود سپریم کورٹ نے مذکورہ جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق اصل مسئلہ کامن کورٹ کے نفاذ کا نہیں ہے، بلکہ کامن کورٹ کے نفاذ کے باوجود نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں چاہیے کہ ہم دوسری تدبیر تلاش کریں، نہ کہ ناکام ہو جانے والی تدبیر کے مزید بے سود اعادہ پر اپنا وقت ضائع کریں۔ کتاب "تعمیر انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 111۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.