Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Fitrat ka nizam

Urdu · 3 min

فطرت کا نظام۔ قرآن کی سورہ نمبر 90 میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوا ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ یعنی ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم کے بارے میں پیشگی طور پر یہ بتا دیا تھا کہ دنیا میں تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ سورہ نمبر 2، آیت 36۔ قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف، یعنی suffering، موجودہ دنیا کا ایک لازمی حصہ ہے۔

یہ خود خالقِ فطرت کا مقرر کیا ہوا نظام ہے، اس لیے اس کو ختم کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ یہ انسانیت کے نام قرآن کا ایک عظیم فکری تحفہ ہے۔ انسان اگر اس راز کو نہ جانے تو وہ غیر حقیقت پسند بنا رہے گا، وہ غیر ضروری طور پر ہمیشہ یہ کوشش کرے گا کہ وہ اپنے لیے ایک بے مشقت دنیا یا خرابیوں سے پاک سماج، یعنی evil-free society، بنا سکے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہو گا، کیونکہ فطرت کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔

مگر جب وہ اس حقیقت کو جان لے گا تو وہ مسائل کے ساتھ جینے کی کوشش کرے گا، اور پھر وہ اسی طرح اپنی پسند کی ایک دنیا بنا لے گا، جس طرح ایک درخت کانٹوں کے باوجود پھولوں اور پتیوں کے ذریعے اپنی ایک پرکشش دنیا بنا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے مسائل انسان کے لیے مصیبت نہیں، وہ انسان کے لیے ترقی کا زینہ ہیں۔ یہ مسائل انسان کو بیدار کرتے ہیں، وہ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو حرکت میں لاتے ہیں، وہ اس کے جمود کو توڑ کر اس کو مسلسل طور پر زندہ رکھنے کی ضمانت ہیں۔ مسائل زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔

مزید یہ کہ وہ ایک مفید حصہ ہیں، نہ کہ کوئی مضر حصہ۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں، وہ بے فائدہ چیزوں میں اپنی طاقت کو ضائع نہیں کریں گے۔ وہ زندگی کی اعلیٰ تعمیر میں یقینی طور پر کامیاب رہیں گے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 58۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.