Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-Insaniyat
Tameer-e-Insaniyat

Mushkil me asani

Urdu · 3 min

مشکل میں آسانی۔ قرآن کی سورہ نمبر 94 میں بتایا گیا ہے کہ "پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ الانشراح 5:6۔

ان الفاظ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے، جس کو خدا نے ابدی طور پر پوری دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ آدمی خواہ کسی بھی ملک میں ہو، خواہ وہ کسی بھی زمانے میں ہو، خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو، ہر جگہ اور ہر حال میں وہ فطرت کے اس قانون کو کارفرما پائے گا۔ موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں کسی بھی شخص کے لیے ہمیشہ یکساں حالات نہیں ہوتے، مگر قرآن میں بیان کردہ مذکورہ فطری قانون بتاتا ہے کہ کسی بھی حال میں انسان کو بددل یا پست ہمت نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ خود خالقِ عالم کے قائم کردہ اصول کی بنا پر ہر ناموافق صورتحال میں ایک موافق امکان چھپا ہوا ہے۔ مثلاً ایک شخص کا باپ اس کی کم عمری میں انتقال کر جائے تو یہ بظاہر اس کے لیے ایک ناموافق بات ہے، مگر اس حادثے کا موافق پہلو یہ ہے کہ باپ کے سائے سے محرومی اس کے اندر خود اعتمادی کی صفت جگانے والی ثابت ہوگی۔

ایک شخص غریب گھر میں پیدا ہو تو بظاہر یہ محرومی کی بات ہے، مگر اس کا روشن پہلو یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے حالات کی بنا پر زیادہ محنت کرے گا اور زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا، وغیرہ۔ اسی طرح ہر مشکل، ہر محرومی، اور ہر حادثے میں ہمیشہ ایک نیا اور بہتر امکان چھپا ہوتا ہے۔ ناموافق حالات چیلنج بن کر آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں، وہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ اس طرح ہر ناموافق جھٹکا آدمی کے لیے ترقی کا زینہ بنتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ معمولی انسان سے اوپر اٹھ کر غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔

کتاب "تعمیر انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 55۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.