صبر کا فائدہ ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إذا ابتليتُ عبدي بحبيبته فصبر، عوضه منهما الجنة. صحیح البخاری، حدیث نمبر 5329۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں سے آزماتا ہوں، اور وہ اس پر صبر کرتا ہے، تو میں اس کو اس کے بدلے جنت دے دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ محبوب چیزوں سے مراد دو آنکھیں ہیں۔
دو آنکھوں کی محرومی پر صبر کا جو انعام کسی کو خدا کی طرف سے ملتا ہے، اس کا تعلق صرف جنت سے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے انسان کا انعام موجودہ دنیا ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ جس کی آخری اور تکمیلی صورت یہ ہے کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے۔ ایسا انسان دنیا میں نابینا ہونے کے باوجود کامیاب رہتا ہے، اور آخرت میں مزید اضافے کے ساتھ بینا بھی اور کامیاب بھی۔
دونوں آنکھوں کی محرومی پر جب ایک آدمی صبر کر لے، تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کی اندرونی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اس کی داخلی شخصیت میں ایک نیا نفسیاتی عمل شروع ہو جاتا ہے، جو اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ اس کے دماغ کی وہ مخصوص کھڑکیاں کھل جاتی ہیں، جو خالقِ فطرت نے صرف اس لیے اس کے اندر رکھی ہیں تاکہ وہ ایمرجنسی کے وقت اس کے کام آئیں۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان کے دماغ میں بہت سے خانے ایسے ہیں جو عام حالات میں بالکل بند رہتے ہیں، وہ صرف اس وقت کھلتے ہیں جبکہ انسان کسی ہنگامی حالت سے دوچار ہو جائے۔
صبر انہی بند دروازوں کو کھولنے کی کنجی ہے۔ ایسے حادثے کے موقع پر جو لوگ غم اور فریاد کا شکار ہو جائیں، ان کے دماغ کے یہ ہنگامی خانے بدستور بند پڑے رہیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ ایسے موقع پر صبر کا مثبت رسپانس، یعنی پازیٹو رسپانس دیں، وہ فطرت کو اپنا عمل کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ظاہری آنکھوں سے محروم ہو کر وہ داخلی آنکھوں کی صورت میں اس کا بدل پا لیتے ہیں۔
راخم الحروف نے خود اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے۔ مثال کے طور پر بھوپال کے جناب الطاف احمد صاحب طویل عرصے سے بینائی سے محروم ہیں، مگر وہ اپنے تمام کام معمول کے مطابق اور کامیابی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے ایک سفر میں میری ملاقات ڈاکٹر ایوب لبنانی سے ہوئی۔ ڈاکٹر ایوب لبنانی سے ہوئی۔
وہ ٹمپلٹن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور اپنے تمام کام بالکل معمول کے مطابق انجام دیتے ہیں، حتیٰ کہ مشین کی مدد سے وہ کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ آنکھ انسان کی تمام قیمتی چیزوں میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جب آنکھ جیسی قیمتی چیز سے محرومی پر صبر سے انسان کو زندگی ملتی ہے، تو دوسری محرومیوں پر صبر سے بدرجہ اولیٰ اس کو یہ چیز حاصل ہوگی۔ صبر ایک ایسی نعمت ہے جو کسی انسان کی ہر محرومی میں اس کا مددگار ہے۔
صبر کسی انسان کے لیے کھونے کو دوبارہ پانا بنا سکتا ہے۔ کتاب "تعمیرِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 45۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.